السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ، امید واثق ہے، مزاج ہمایوں بخیر ہوگا، ضروری نوشت ایں کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ، خاص کر مسلمۃ کا اضافہ کیا گیا ہے، اس کی حقیقیت کیا ہے، اگر کوئی مسلمۃ کو حدیث بتائے، کہاں تک درست ہے؟
المستفتی: (مولانا) شمس اللقاء فیضی، گونڈی، ممبئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمد للہ تعالی بخیر ہوں، اللہ تعالی باسلامت و باکرامت رکھے۔
ناقدین نے بیان فرمایا ہے کہ اس حدیث کے طرق میں سے کسی بھی طریق میں لفظ ((مسلمة)) کا ذکر نہیں ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’لكن قال العراقي. قد صحح بعض الأئمة بعض طرقه، هذا وقد ألحق بعض المصنفين بآخر الحديث (ومسلمة) وليس لها ذكر في شيء من طرقه‘‘۔ (مرقاۃ المفاتیح، امام علی القاری، کتاب العلم، ج۱ص۳۰۱، رقم: ۲۱۸، ط: دار الفکر، بیروت)
تذکرۃ الموضوعات میں ہے: ’’في المقاصد ((طلب العلم فريضة على كل مسلم‘‘۔ وقد ألحقه بعض المصنفين بآخر الحديث ((ومسلمة)) وليس لها ذكر في شيء من طرقه‘‘۔ (تذکرۃ الموضوعات، محمد طاہر فتنی، ص۱۷، ط: إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ)
مگر امام ملا علی قاری نے ذکر کیا ہے کہ امام ابن ماجہ کی ایک روایت میں لفظ ((مسلمة)) مروی ہے۔
شرح مسند ابی حنیفہ میں ہے: ’’وفي رواية لابن ماجه، عن أنس: ’’طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة، وواضع العلم عند غير أهله، كمقلد الخنازير الجوهر واللؤلؤ والذهب‘‘۔ (شرح مسند ابی حنیفہ، امام علی القاری، ص۵۳۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام علی قاری علیہ الرحمۃ کی اسی عبارت کے پیش نظر، میں نے بھی اس روایت کی تلاش و جستجو کی، لیکن مجھے امام ابن ماجہ کی کسی روایت یا کسی دوسری کتاب میں ((مسلمة)) کا ذکر نہیں مل سکا؛اس لیے رجحان اسی طرف ہے کہ بعینہ لفظ ((مسلمة)) کو حدیث بتانا یا بعینہ اس لفظ کی نسبت، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرنا، درست نہیں، البتہ اگر معنی کے لحاظ سے دیکھا جائے؛ تو اس کے بیان کی گنجائش نکل سکتی ہے؛ کیوں کہ ((کل مسلم)) میں مسلمہ بھی شامل اور یہ معنی کے اعتبار سے درست بھی ہے۔
المقاصد الحسنۃ میں ہے: ’’تنبيه: قد ألحق بعض المصنفين بآخر هذا الحديث “ومسلمة” وليس لها ذكر في شيء من طرقه وإن كان معناها صحيحا‘‘۔ (المقاصد الحسنۃ، امام سخاوی، ص۴۴۰، رقم:۶۶۰، ط: دار الکتاب العربی، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔