موبائل نمبر : 8318177138
حدیث أسمع صریف القلم سے کونسا قلم مراد ہے اور ہدایہ پر عیر مقلدین کے اعتراص کا جواب
- Home
- کتب و مقالات حدیث و اصول حدیث
- حدیث أسمع صریف القلم سے کونسا قلم مراد ہے اور ہدایہ پر عیر مقلدین کے اعتراص کا جواب
حدیث: أسمع صریف القلم میں کونسا قلم مراد ہے؟
نیز غیر مقلدین کی جانب سے ہدایہ کی احادیث پر ضعیف ہونے کے دعوی کا کیا جواب ہے؟
مسئلہ: أسمع صریف القلم، یہ حدیث کا ٹکڑا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قلم کی آواز سنا ہے، عرش والا قلم یا پھر فرشتوں کے کتابت والے قلم۔ تحقیق کے مطابق جواب مرحمت فرمائیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ ہدایہ کے حاشیہ میں، احادیث سے متعلق ضعیف لکھا ہوا رہتا ہے، جس پہ غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی اپنی فقہ کی سب سے مشہور کتاب ہدایہ میں مسائل، ضعیف احادیث پہ مشتمل ہے۔ جواب مرحمت فرمائیں تحقیقی طور پر۔
المستفتی: محمد توقیر عالم ثقافی، جھارکھنڈ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب واقعہ اسرا و معراج کے موقع پر، حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے جس قلم کی آواز کو سماعت فرمایا تھا، وہ فرشتوں کے قلم سے لکھنے کی آواز تھی۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے: ’’وقوله ((حتى ظهرت لمستوى)) أي: صعدت لمصعد وارتقيت لمرتقى. و ((صريف الأقلام)) : صوت ما تكتبه الملائكة بأقلامها من أقضية الله تعالى ووحيه، أو ما ينسخونه من اللوح المحفوظ، أو ما شاء الله من ذلك‘‘۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، امام ابن رجب حنبلی، باب کیف فرضت الصلاۃ فی الإسراء، ج۲ص۳۱۸، ط: مکتبۃ الغرباء الأثریۃ، مدینہ منورہ) شرح النووی علی صحیح مسلم میں ہے: ’’قوله صلى الله عليه وسلم (حتى ظهرت لمستوى أسمع فيه صريف الأقلام) معنى ظهرت علوت والمستوى بفتح الواو قال الخطابي المراد به المصعد وقيل المكان المستوى وصريف الأقلام بالصاد المهملة تصويتها حال الكتابة قال الخطابي هو صوت ما تكتبه الملائكة من أقضية الله تعالى ووحيه وما ينسخونه من اللوح المحفوظ أو ما شاء الله تعالى من ذلك أن يكتب ويرفع لما أراده من أمره وتدبيره‘‘۔ (شرح النووی علی صحیح مسلم، امام نووی، اب الاإسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۲ص۲۷۱، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت) عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے: ’’قوله: (لمستوى) بفتح الواو، وقال الخطابي: المراد به المصعد، وقال النضر بن شميل: أتيت أبا ربيعة الأعرابي وهو على السطح، فقال: استوي: اصعد. وقيل: هو المكان المستوي. قوله: (صريف الأقلام) بفتح الصاد المهملة، وهو تصويتها حال الكتابة. وقال الخطابي: هو صوت ما تكتبه الملائكة من أقضية اتعالى ووحيه، وما ينسخونه من اللوح المحفوظ، أو ما شاء اتعالى من ذلك أن يكتب ويرفع لما أراده امن أمره وتدبيره في خلقه، سبحانه وتعالى، لا يعلم الغيب إلا هو الغني عن الاستذكار بتدوين الكتب والاستثبات بالصحف، أحاط بكل شيء علما، وأحصى كل شيء عددا ‘‘۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، امام بدر الدین عینی، باب کیف فرضت الصلوات فی الإسراء، ج۴ص۴۴، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت) إرشاد الساری صحیح البخاری میں ہے: ’’(قال النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: ثم عرج بي) بفتحات أو بضم الأول وكسر الثاني (حتى ظهرت) أي علوت (لمستوى) بواو مفتوحة أي موضع مشرف يستوي عليه وهو المصعد واللام فيه للعلّة أي علت لاستعلاء مستوى، وفي بعض الأصول بمستوى بموحدة بدل اللام (أسمع فيه صريف الأقلام) أي تصويتها حالة كتابة الملائكة ما يقضيه الله تعالى مما تنسخه من اللوح المحفوظ أو ما شاء الله أن يكتب لما أراد الله تعالى من أمره وتدبيره، والله تعالى غنيّ عن الاستذكار بتدوين الكتب إذ علمه محيط بكل شيء‘‘۔ (إرشاد الساری شرح صحیح البخاری، امام قسطلانی، باب کیف فرضت الصلوات فی الإسرا، ج۱ص۳۸۴، ط: المطبع الکبری الأمیریۃ، مصر) اور ہدایہ کے حاشیہ میں، احادیث سے متعلق جو بعض مقامات پر ضعیف لکھا ہوتا ہے، اس پر غیر مقلدین کا مطلقا، اعتراض کے طور پر یہ کہنا کہ ان کی اپنی فقہ کی سب سے مشہور کتاب، ہدایہ میں مسائل، ضعیف احادیث پہ مشتمل ہے، ان کی طرف سے اس اطلاق کے ذریعہ، شاید یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہدایہ کے تمام مسائل، ضعیف احادیث پر مشتمل ہے۔ یہ احناف اور فقہ حنفی سےان کے سخت تعصب کا نتیجہ ہے، ورنہ تھوڑا بھی فقہ، حدیث اور اصول حدیث سے شغف رکھنے والا، یہ علم رکھتا ہے کہ ہدایہ کے تمام مسائل، ضعیف احادیث پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ اس کی بعض احادیث کے بارے میں محدثین و ناقدین نے کلام کیا ہے، مگر یہ لوگ، اہل سنت و جماعت کی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے، سب کچھ نظر انداز کرکے، مطلقا، اس طرح کے دعاوی کرتے ہیں، جو برہان و دلیل سے خالی و عاری ہوتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ ایسے دعاوی ہباء منثورۃ ہوتے ہیں۔ اور ہدایہ کی وہ بعض احادیث، جن کے بارے میں محدثین و ناقدین نے کلام کیا ہے، جب ان کا، اصول و ضوابط کی روشنی میں جائزہ لیا جائے؛ تو ان کی بھی کوئی خاص حقیقت نہیں رہ جاتی۔ بعض اصول و ضوابط مندرجہ ذیل ہیں: (۱) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حدیث ایک سند کے اعتبار سے ضعیف ہوتی ہے اور اسی کے پیش نظر، ناقد اسے ضعیف کہتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے متابع اور شاہد کی وجہ سے قوی و قابل احتجاج ہوتی ہے؛ لہذا متابع اور شاہد کا احاطہ کیے بغیر، مطلقا یہ کہنا کہ مشہور کتاب، ہدایہ کے مسائل، ضعیف احادیث پر مشتمل ہے، درست نہیں بلکہ باطل و عاطل ہے۔ (۲) کبھی ضعیف حدیث ہوتی ہے، مگر اس سے صرف استحبابی یا احتیاطی حکم ثابت کیا جاتا ہے، جس کی فقہاے کرام و محدثین عظام کے یہاں گنجائش ہوتی ہے، اب اس حقیقت سے آگاہ کیے بغیر، اس پر یہ کہنا کہ ہدایہ جیسی کتاب کے بعض مسائل، ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں؛ تو یہ اصول و ضوابط کو نظر انداز کرنا ہے، جو ایک مذموم حرکت ہے اور منصف مزاج کے نزدیک، یہ حرکت، کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ (۳) احادیث کے قبول و رد کرنے سے متعلق، جو اصول و ضوابط ہیں، ان میں سے کئی مقامات پر، فقہاے کرام و محدثین عظام کے درمیان اختلاف ہے، اب اس اختلاف کو نظر انداز کرکے، محدثین عظام کے قوائد کی روشنی میں، فقہاے کرام کے مستدلات کو ضعیف قرار دینا، علمی منہج سے انحراف کے سوا کچھ نہیں؛ کیوں کہ جب دونوں کے درمیان، اصول و ضوابط میں اختلاف ہے؛ تو کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ فقہاے کرام کے اصول کے بجائے، محدثین کے اصول پر، ان کے مستدلات کو ضعیف قرار دے کر، واہ واہی لوٹنے کی کوشش کرے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے؛ تو اس کی بات پادر ہوا ہوگی۔ (۴) برسبیل تنزل، اگر مان ہی لیا جائے کہ ہدایہ کے بعض مسائل، واقعی ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں؛ تو مذاہب اربعہ میں سے کونسا ایسا مذہب ہے، جو بعض ضعیف احادیث پر مشتمل نہیں ہے بلکہ خود غیر مقلدین کے بعض مسائل، ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں، جیسے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا، اس پر جس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں، وہ ضعیف ہے، تفصیل کے لیے، میراتحریر کردہ تحقیقی مقالہ: ’نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنے والی روایات، تحقیق و تنقیح کی روشنی میں‘ پڑھیں۔ (۵) اور غیر مقلدین، کس بے شرمی سے اہل سنت و جماعت پر اعتراض کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ ان کے عقائد خود، قرآن پاک اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہیں، تفصیل کے لیے، اپنے وقت کے فقیہ اعظم، محقق مسائل جدیدہ حضرت مولانا و بالفضل اولانا مفتی محمد نظام الدین رضوی زید مجدہ کی کتاب: ’احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف‘ وغیرہ کا مطالعہ کریں؛ لہذا غیر مقلدین پر لازم ہے کہ پہلے وہ، اپنے منحرف عقائد درست کریں، پھر فروعی مسائل کے مستدلات، ضعیف یا صحیح ہونے پر بات کریں؛ کیوں کہ عقائد فاسد ہونے کے باوجود، مسائل کے مستدلات پر کلام کرنے کا کوئی خاص مطلب نہیں رہ جاتا؛ اس لیے کہ فروعی مسائل کے مستدلات کا درجہ، عقائد کے بعد آتا ہے، اگر عقائد ہی درست نہ ہوں؛ تو فروعی مسائل کے مستدلات کے صحت و ضعف، کام نہ آئیں گے؛ فتدبر و الله ھو الموفق۔ و اللہ تعالی أعلم۔کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۴؍ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ
Lorem Ipsum
About Author:
Azhar@Falahemillattrust
STAY CONNECTED:
Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.