ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کی کیا حقیقت ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ابو جہل کی مٹھی میں بند کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والے واقعہ کی کیا حقیقت ہے حضرت؟  

المستفتی: محمد یونس مصباحی، باسنی، ناگور شریف، راجستھان۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب مجھے کتب حدیث میں ابوجہل کی بند مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والا واقعہ، نہیں مل سکا، مگر چوں کہ اس واقعہ کا تعلق، فضائل سے ہے اور بعض معتمد علماے کرام نے اپنی کتابوں میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے؛ اس لیے ان پر اعتماد کرتے ہوئے، اس واقعہ کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’بلکہ بتصریح ائمہ فن کثرتِ طُرق سے جبر نقصان متصوّر اور عملِ علما وقبولِ قُدما، حدیث کے لئے قوی دیگر اور نہ سہی تو فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول، اور اس سے بھی گزرے تو بِلاشُبہہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر وروشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو؛تو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہو؛تو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خلاف، اور نفع حاصل تو منع باطل‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی، کتاب الصلاۃ، باب الأذان و الإقامۃ، ج۴ص۳۲۹، ط: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) مثنوی شریف میں ہے: ’’سنگہا   اندر    کف   بو جہل   بود گفت اے  احمد  بگو  ایں چیست زود گر  رسولی چیست  در  دستم   نہاں چوں   خبر   داری   ز   راز   آسماں گفت چوں خواہی بگویم کانچہا ست یا  بگویند  آں  کہ  ما حقیم  و  راست گفت  بو جہل  آں  دوم   نادرست گفت آرے حق ازاں قادر ترست گفت شش پارہ حجر در دست تست بشنو  از  ہر  یک  تو   تسبیح   درست از  میان  مشت  او  ہر  پارہ  سنگ در شہادت  گفتن  آمد  بے  درنگ لا إلہ   گفت   و    إلا   اللہ    گفت گوہر   احمد   رسول   اللہ   سفت چوں  شنید   از   سنگہا  بو جہل  ایں زد   زخشم   آں   سنگہا  را  بر  زمیں گفت   نبود   مثل   تو   ساحر   دگر ساحراں   را  سر  توئی  و  تاج   سر چوں  بدید  آں  معجزہ  بوجہل  تفت گشت در خشم و بسوئے  خانہ  رفت‘‘ (مثنوی شریف، مولانا جلال الدین محمد رومی، دفتر اول، ح۲ص۲۳۴‒۲۳۵، ط: سب رنگ کتاب گھر، دہلی) سرور القلوب بذکر المحبوب میں ہے: ’’ابوجہل نے کہا اگر تم سچے پیغمبر ہو؛ تو میرے ہاتھ کی چیز بتادو، فرمایا: تیرے ہاتھ میں چھ کنکریاں ہیں، سن کیا کہتی ہیں۔ غور سے سنا؛ تو ہر سنگ ریزے سے کلمے کی آواز آتی تھی۔ ملعون نے طیش کھاکر، ہاتھ سے پھینک دیں اور حضرت سے کہا: تم بڑے جادوگر ہو‘‘۔ (سرور القلوب، علامہ نقی علی خاں، ص۳۱۸‒۳۱۹، شبیر برادرز، اردو بازار، لاہور) نصرۃ الواعظین میں ہے: ’’روایت ہے کہ ایک بار بو جہل لعین کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں داب کر، خدمت حضور اقدس سرور عالم صلی اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوا، کہنے لگا، اگر آپ رسول ہیں اور آسمان و زمین کے حال سے خبر دار ہیں؛ تو فرمائیے کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔ حضور نے فرمایا: میں بتاؤں یا وہ خود میری رسالت حقہ کی گواہی دیں۔ اس نے کہا کہ یہ بات تو اس سے زیادہ تعجب خیز ہے۔ پس آپ نے فرمایاکہ تیرے ہاتھ میں چھ کنکریاں ہیں اور سب کنکریوں نے حضور کا کلمہ پڑھا، حضور کی رسالت کی تصدیق کی۔ سنگریزوں کو ترے ہاتھ میں سب نے مولی کلمہ  گو  تیرا   سنا   تیرا   ثنا   خواں   دیکھا تب تو بوجہل نے جل کر، ان کنکریوں کو زمین پر پھینک دیا اور حضور کو معاذ اللہ ساحر بتایا‘‘۔ (نصرۃ الواعظین، حکیم محمد حشمت علی صاحب فائق سنی حنفی قادری بریلوی، وعظ ششم، ص۱۰۲، ط: آپریٹیو کیپٹل پرنٹنگ پریس، لاہور) اس کے بعد نصرۃ الواعظین کے مصنف نے مولانا روم علیہ الرحمۃ کے اشعار، مثنوی شریف سے نقل کیے ہیں۔ و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی

۲۵؍ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.