موبائل نمبر : 8318177138
کیا امام حسین کے بارے میں یہ روایت نعم الرجل رکبت یا غلام درست ہے
- Home
- فتاویٰ ازہری فتاویٰ
- کیا امام حسین کے بارے میں یہ روایت نعم الرجل رکبت یا غلام درست ہے
کیا امام حسین کے بارے میں یہ روایت: نعم الرجل رکبت یا غلام، درست ہے؟
السلام علیکم ۔ نعم الرجل رکبت یا غلام والی حدیث، درست ہے یا نہیں؟ آپ ذرا وضاحت فرمادیں، امام حسین کے بارے میں جو حضرت عمر سے مروی ہے۔ المستفتی: (مفتی) غلام مرتضی مصباحی، ویراول، گجرات۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ، یہ روایت مروی نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے ہیں، مگر اس میں بھی ’’نعم الرجل‘‘ میں ’’الرجل‘‘ نہیں بلکہ ’’المرکب‘‘ ہے، یعنی اس میں: ’’نعم المرکب، رکبت یا غلام‘‘ ہے، نیز اس میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا نہیں بلکہ امیر المؤمنین امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے۔ سنن الترمذی میں ہے: حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا أبو عامر العقدي قال: حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الحسن بن علي على عاتقه فقال رجل: نعم المركب ركبت يا غلام، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ((ونعم الراكب هو)) هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه «وزمعة بن صالح قد ضعفه بعض أهل الحديث من قبل حفظه۔ (سنن الترمذی، باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی بن ابی طالب الخ، ج۵ص۶۶۱، رقم: ۳۷۸۴، ط: دار الغرب الإسلامی، بیروت) اور امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت، جن الفاظ کے ساتھ مروی ہے، وہ یہ ہیں: ’’نعم الفرس تحتكما‘‘۔ اور اس میں صرف امام حسین نہیں بلکہ امام حسن اور امام حسین ‒رضی اللہ تعالی عنہما‒ دونوں حضرات کا ذکر جمیل ہے۔ المطالب العالیۃ میں ہے: ((وقال أبو يعلى: حدثنا محمد بن مرزوق، ثنا حسين -يعني الأشقر- عن علي بن هاشم، عن ابن أبي رافع، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمر رضي الله عنهم قال: رأيت الحسن والحسين رضي الله عنهما على عاتقي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقلت: نعم الفرس تحتكما؛ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: ((ونعم الفارسان هما)) (المطالب العالیۃ بزاوئد المسانید الثمانیۃ، امام ابن حجر عسقلانی، باب فضائل فاطمۃ، ج۱۶ص۲۰۴، رقم: ۳۹۶۸، ط: دار العاصمۃ) مسند البزار، البحر الزخار میں ہے: حدثنا الجراح بن مخلد قال: نا الحسن بن عنبسة، عن علي بن هاشم بن البريد، عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمر قال: رأيت الحسن والحسين رحمة الله عليهما على عاتقي النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: نعم الفرس تحتكما قال: ((ونعم الفارسان هما)) وهذا لم يروه عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا عمر بن الخطاب بهذا الإسناد، ومحمد بن عبيد الله بن أبي رافع، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عمر و لم يتابع عليه۔ (مسند البزار، ص۴۷۱، رقم:۲۹۳، ط: مکتبۃ العلوم و الحکم، المدینۃ المنورۃ) مگر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ روایت ضعیف ہے؛ کیوں کہ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔ تقریب التہذیب میں ہے: ’’محمد بن عبيد الله بالتصغير ابن أبي رافع الهاشمي مولاهم الكوفي، ضعيف من السادسة، ق‘‘۔ (تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ص۴۹۴، رقم:۶۱۰۶، ط: دار الرشید، سوریا) لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی اس روایت کے لیے، ایک شاہد بھی ہے، جو حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ المعجم الأوسط میں ہے: حدثنا علي بن سعيد الرازي قال: نا عباد بن يعقوب قال: نا علي بن هاشم بن البريد، عن فضيل بن مرزوق، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، فجاء الحسن والحسين، أو أحدهما، فركب على ظهره، فكان إذا سجد رفع رأسه، قال بيده، فأمسكه، أو أمسكهما، ثم قال: ((نعم المطية مطيتكما)) لم يرو هذا الحديث عن عدي بن ثابت إلا فضيل بن مرزوق، ولا عن فضيل إلا علي بن هاشم، تفرد به: عباد بن يعقوب۔ (المعجم الأوسط، امام طبرانی، ج۴ص۲۰۵، رقم: ۳۹۸۷، ط: دار الحرمین، قاہرہ) امام ہیثمی نے اس کی اسناد کو حسن قرار دیا ہے، آپ المعجم الأوسط کے حوالے سے زیر بحث حدیث ذکر کرنے کے بعد، فرماتے ہیں: ’’رواه الطبراني في الأوسط، وإسناده حسن‘‘۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد، باب فیما اشترک فیہ الحسن و الحسین رضی اللہ تعالی، ج۹ص۱۸۲، رقم: ۱۵۰۸۰، ط: مکتبۃ القدسی، قاہرہ) حضرت براب بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کے شاہد ہونے کی بنیاد پر، حضرت امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کردہ حدیث، حسن لغیرہ ہوگی۔ یہاں ایک اعتراض یہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی کی روایت کو حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالی کے شاہد ہونے کی بنیاد پر، حسن لغیرہ کہا ہے جب کہ امام ہیثمی نے امام ابو یعلی کی روایت کے رجال کو رجال صحیح فرمایا ہے، اس لحاظ سے تو یہ روایت، کسی شاہد کے بغیر بھی، کم سے کم، حسن لذاتہ ہونا چاہیے۔ مجمع الزوائد میں ہے: وعن عمر – يعني ابن الخطاب – قال: «رأيت الحسن والحسين على عاتقي النبي – صلى الله عليه وسلم – فقلت: نعم الفرس تحتكما. فقال النبي – صلى الله عليه وسلم-: ((ونعم الفارسان هما)) رواه أبو يعلى في الكبير، ورجاله رجال الصحيح، ورواه البزار بإسناد ضعيف. (مجمع الزوائد و منبع الفوائد، امام ہیثمی، باب فیما اشترک فیہ الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما، ج۹ص۱۸۲، رقم: ۱۵۰۷۸، ط: مکتبۃ القدسی، قاہرہ) اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی روایت میں صحیح کے رجال ہونے سے صحت و حسن لازم نہیں، بارہا ایسا ہوتا ہے کہ رجال، صحیح کے رجال ہوتے ہیں، مگر ان کی روایت صحیح یا حسن نہیں ہوتی۔ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ امام ہیثمی کو ابن ابی رافع سے اشتباہ ہوا ہو، آپ نے انھیں عبید اللہ بن ابی رافع سمجھا؛ اس وجہ سے امام ابو یعلی کی روایت کو رجال صحیح فرمایا اور اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ روایت صحیح یا حسن ہے، مگر ظاہر یہی ہے کہ وہ عبید اللہ بن ابی رافع نہیں بلکہ وہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں؛ کیوں کہ امام ابو یعلی کی سند میں ابن ابی رافع سے پہلے علی بن ہاشم اور بعد میں زيد بن أسلم کا ذکر ہے،حالاں کہ علی بن ہاشم کا عبید اللہ بن ابی رافع کے شاگرد اور زید بن اسلم کا، آپ کے استاد میں ذکر نہیں ملتا، اس کے برعکس ان کا محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کے شاگرد و استاد میں ذکر ملتا ہے۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، امام مزی، عبید اللہ بن ابی رافع، ج۱۹ص۳۴، رقم: ۳۶۳۲، محمد بن عبد اللہ بن ابی رافع، ج۲۶ص۳۶، رقم: ۵۴۳۲، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت) اب اس لحاظ سے یہی ثابت ہوا کہ ابو یعلی کی سند میں ابن ابی رافع یہ عبید اللہ بن ابی رافع نہیں بلکہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں اور یہ ضعیف ہیں؛ تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ امام ابو یعلی کی روایت بھی ضعیف ہے، مگر برا بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کی بنیاد پر، یہ ضعیف سے ارتقا کرکے، حسن لغیرہ ہوگئی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال میں مذکور الفاظ کے ساتھ، امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں مروی نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے ہیں، مگر اس میں بھی ’’نعم الرجل‘‘ میں ’’الرجل‘‘ نہیں بلکہ ’’المرکب‘‘ ہے یعنی اس میں: ’’نعم المرکب، رکبت یا غلام‘‘ ہے، نیز اس میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا نہیں بلکہ امیر المؤمنین امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے اور حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: نعم الفرس تحتكما؛ فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: ((ونعم الفارسان هما)) اور یہ روایت اپنی شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ سوال میں مذکور الفاظ کو امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرنا، درست نہیں، البتہ اگر معنی کے لحاظ سے روایت کرنا مقصود ہو؛ تو گنجائش نکل سکتی ہے۔ و اللہ تعالی أعلم۔کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۰؍ محرم الحرام ۱۴۴۸ھ
Lorem Ipsum
About Author:
Azhar@Falahemillattrust
STAY CONNECTED:
Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.