درج ذیل الفاظ کسی حدیث پاک کے الفاظ ہیں یا نہیں، بصورت اول، اس کا درجہ کیا ہے؟ ((اللهم إنهم عترة رسولك فهب مسيئهم لمحسنهم وهبهم لى))
المستفتی:(مولانا) صدیق حسن ازہری، کچھ، گجرات ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب امام محب طبری نے اس حدیث کو اپنی کتاب ’ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی‘ میں ذکر کرکے ’الملا فی سیرتہ‘ کی طرف احالہ کیا ہے، مگر وہ کتاب مجھے دستیاب نہیں اور نہ ہی مجھے کسی دوسری کتاب میں اس کی سند مل سکی، اس لحاظ یہ حدیث ضعیف ہوگی اور چوں کہ اس حدیث کے معنی میں بھی کوئی خرابی نہیں اور معتمد علماے کرام نے اسے اپنی کتاب میں ذکر بھی کیا ہے؛ اس لیے اسے فضائل کے باب میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
ذخائر العقبی میں ہے: وعن على رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (اللهم إنهم عترة رسولك فهب مسيئهم لمحسنهم وهبهم لى)) قال: ((ففعل و هو فاعل)) قال قلت: ما فعل، قال: ((فعله بكم ويفعله بمن بعدكم) أخرجه الملا۔ (ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، امام محب طبری، ذکر دعائہ صلی اللہ علیہ و سلم، ص۲۰، ط: مکتبۃ القدسی، قاہرہ)
نیز امام ابن حجر ہیتمی نے امام محب طبری ہی کے حوالے سے اپنی کتاب ’الصواعق المحرقۃ علی أھل الرفض و الضلال و الزندقۃ‘ میں ذکر کیا ہے، باب بشارتھم الحنۃ، ج۲ص۶۷۲، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، لبنان۔ و اللہ تعالی أعلم۔