حدیث و حلقتھا معاویۃ کی سندی حیثیت
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
ایک حدیث پاک ہے، صاحب مسندالفردوس نے لکھا ہے: أنا مدينة العلم و علي بابها و معاوية حلقها. یہ حدیث پاک کی سند حیثیت کیا ہے اور حلقھا کا مطلب کیا ہے؟
المستفتی: محمد عبد الرحیم، حیدر آباد۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ روایت، سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔
المقاصد الحسنۃ میں ہے: ’’وعن أنس مرفوعا: ((أنا مدينة العلم، وعلي بابها، ومعاوية حلقتها)) وبالجملة فكلها ضعيفة، وألفاظ أكثرها ركيكة‘‘۔ (المقاصد الحسنۃ، امام سخاوی، حرف الھمزۃ، ص۱۷۰، رقم: ۱۸۹، ط: دار الکتاب العربی، بیروت)
یہ حدیث ’الفردوس بمأثور الخطاب‘ میں اس طرح موجود ہے: أنس بن مَالك،((أَنا مَدِينَة الْعلم وَعلي بَابهَا وحلقتها مُعَاوِيَة))‘‘۔ (الفردوس بمأثور الخطاب، امام دیلمی، باب الألف، ج۱ص۴۴، رقم: ۱۰۶، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حلقہ کا معنی دائرہ ہوتا ہے، یہاں دائرہ کا مطلب، محافظ ہے، اس اعتبار سے حدیث کا ترجمہ یہ ہوگا: میں علم کا شہر ہوں، امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس شہر کے دروازہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ، اس شہر کے محافظ ہیں۔ و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۹؍ ذی الحجۃ ۱۴۴۵ھ
Lorem Ipsum