تعزیت حضرت مولانا معصوم رضا بھیا علیہ الرحمۃ
مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما
۱۰؍رجب المرجب ۱۴۴۵ھ کو یہ افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ شہزادۂ شیر بیشہ سنت، الحاج حضرت مولانا مفتی محمد معصوم رضاخاں حشمتی صاحب قبلہ کا انتقال پرملال ہوگیا۔ آپ کا یوں دار فانی سے رحلت کرجانا، یقینا اہل سنت و جماعت کے لیے بڑے خسارے کا باعث ہے۔
۲۴؍صفر المظفر ۱۴۴۴ھ کو عرس اعلی حضرت، مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کے موقع پر، مجھے، ایک چھوٹے سے قافلہ پر مشتمل افراد، مولانا زاہد علی، مولانا نور محمد، قاری نعیم الدین اور محمد نسیم صاحب کے ہمراہ، حضرت شیر بیشہ سنت اور حضرت محدث سورتی علیہم الرحمۃ، پیلی بھیت شریف کی بارگاہ میں، حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ بارگاہوں میں حاضری دینے کے بعد، ہمارا چھوٹا سا قافلہ، شہزادہ شیر بیشہ سنت علیہ الرحمۃ کے دولت خانہ کی طرف متوجہ ہوا، مگر ابھی شاید حضرت سے ملاقات کا وقت نہیں ہوا تھا، لیکن وہیں آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد مہران رضا خاں حشمتی زید علمہ سے ملاقات ہوئی، سلام و دعا کے بعد، ہم باہر آئے؛ تو حضرت کے دولت خانہ کے سامنے، ایک آفس میں آپ کے ایک اور صاحبزاے حضرت مولانا فاران رضا حشمتی زید علمہ سے بھی ملاقات کا موقع ملا، آپ سے تقریبا آدھا گھنٹا، دین و ملت سے متعلق، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی، دروان گفتگو، میں نے اپنی کچھ کتابیں حضرت کی خدمت میں پیش کیا، پھر آپ نے بھی اپنی کچھ علمی کاوشیں مجھے عنایت فرمائیں، جنھیں دیکھ کر، آنکھوں نے ٹھنڈک محسوس کیا اور بڑی خوشی ہوئی کہ الحمد للہ اس علمی گھرانے سے آج بھی علم کی روشنی، عالم میں پھیلانے کی کوشش جاری و ساری ہے، پھر جب شہزادہ شیر بیشہ سنت علیہ الرحمۃ سے ملاقات کا وقت ہوا؛ تو ہم آپ سے اجازت لے کر، شہزادہ شیر بیشہ سنت علیہ الرحمۃ سے ملاقات کے لیے، آپ کے دولت خانہ پر دوبارہ پہنچ گیے۔
چند قدم چلنے کے بعد ہی، ہمارا چھوٹا سا قافلہ، شہزادہ شیر بیشہ سنت الحاج حضرت مولانا مفتی محمد معصوم رضا خاں حشمتی علیہ الرحمۃ کے مبارک حجرہ میں داخل ہوا اور ملاقات سے مشرف ہوکر، سب نے اپنے آپ کو خوش بختوں میں شمار کرنے کی کوشش کی، سلام و دعا کے بعد، حضرت نے سب کی خیریت دریافت فرمائی، طبیعت ناساز ہونے کے باوجود، آپ نے ملاقات کے لیے وقت دےکر، اس چھوٹے سے قافلہ پر بڑی شفقت فرمائی، آپ بڑے ہی اخلاق سے پیش آئے، خیر و خیریت اور تعارف کے بعد، حضرت نے خود ہی حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کا تذکرہ چھیڑا، اسی درمیان آپ کے والد ماجد شیر بیشہ سنت علیہ الرحمۃ کی مایہ ناز کتاب: ’راد المھند علی النھیق الانبیٹھی المفند‘ کی تعریب کا تذکرہ آیا؛ تو آپ نے کھلے دل سے میری حوصلہ افزائی فرمائی، پھر تھوڑی دیر کے بعد، گفتگو اختتام پذیر ہوئی اور ہم لوگ آپ سے اجازت لے کر، شہر محبت، بریلی شریف کی طرف روانہ ہوگیے۔
میری آپ سے یہ پہلی اور آخری ملاقات تھی، مگر اسی ایک ملاقات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ ملاقات کرنے والے، ہر عام و خاص پر شفقت فرماتے تھے، علما نواز ہونے کے ساتھ، ان کے کام کی حوصلہ افزائی فرمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے، اپنے اسلاف کا ذکر، بڑے ہی احترام و وقار سے کے ساتھ کرتے تھے، بہر حال آپ متعدد اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، جو ایک عالم اور پیر کے اندر ضرور ہونا چاہیے۔
اللہ تعالی اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صدقے، آپ کو غریق رحمت فرمائے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت سے سرفراز کرکے، کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں، اعلی مقام عطا فرمائے، تمام پس ماندگان، محبین و متوسلین اور صاحبزادگان، بالخصوص حضرت مولانا الحاج مہران رضا خاں حشمتی اور حضرت مولانا فاران رضا حشمتی زید علمہما کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۶؍رجب المرجب ۱۴۴۵ھ مطابق ۱؍فروری ۲۰۲۴ء
Lorem Ipsum