میت نے تین لڑکے اور تین لڑکیاچھوڑے وراثت کیسے تقسیم ہوگی

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کے زید کی دو بیویاں ہیں پہلے بیوی سے ایک لڑکا اور چار لڑکیاں ہیں اور دوسری بیوی سے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے. زید کی دونوں بیویوں کا انتقال ہو چکا ہے نیز دو لڑکیاں بھی زید کی حیات ہی میں انتقال کر چکی ہیں، موجودہ وقت میں زید کے بچوں کی کل تعداد چھ ہے، جن میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں؛ اس طرح کے پہلے بیوی کا ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں اور دوسری بیوی کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے مال و جائداد زید کی اولاد کے درمیان شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی؟ نیز شادی شدہ لڑکیوں کا حصہ زید مذکورہ کے مال و جائیداد سے کتنا کتنا دینا ہوگا؟ نیز یہ کہ اگر زید کی جائداد مختلف قسم کی ہے مثلا رقم، مکانات، کھیتی باڑی و باغات وغیرہ تو کس قسم کی جائیداد سے لڑکے و لڑکیوں کو کتنا کتنا حصہ دینا ہوگا؟ برائے کرم قران و حدیث کی روشنی میں بالتفصیل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور و عند الناس مشکور ہوں۔

المستفتی : محمد ناصر علی، گلی نمبر ٨، جیون گڑھ، علی گڑھ۔

9358217278

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب صورت مذکورہ میں زید کے ہر قسم کی جائداد کو نو حصوں میں تقسیم کرکے، تینوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو ایک، ایک حصہ  اور تینوں لڑکوں میں سے ہر ایک کو دو، دو حصہ، دیا جائےگا۔

ارشاد باری تعالی ہے: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ (النساء: ۴، آیت: ۱۱)

فتاوی عالم گیری میں ہے: ’’وَإِذَا اخْتَلَطَ الْبَنُونَ وَالْبَنَاتُ عَصَبَ الْبَنُونَ الْبَنَاتِ فَيَكُونُ لِلِابْنِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ‘‘۔  (فتاوی ہندیہ، کتاب الفرائض، الباب الثانی فی ذوی الفروض، ج۶ص۴۴۴۶، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۵؍رجب المرجب ۱۴۴۶ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.