غیر مسلم کے ساتھ لڑکی بھاگ گئی، اہل خانہ کا حکم کیا ہے
سوال: باسمہ تعالی و الصلاۃ و السلام علی رسولہ الأعلی۔ کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین، اس مسئلہ میں کہ ہندہ، تقریبا دس ماہ پہلے، ایک غیر مسلم کے ساتھ فرار ہوگئی اور اسی کے ساتھ ہندو رسم و رواج کے مطابق، شادی بھی کرلی اور ہندہ کا اب اس کے آبائی گھر سے کوئی ناطہ، رشتہ نہیں رہ گیا ہےاور زید و بکر جو کہ ہندہ کے بھائی ہیں، ان کا بھی کہنا ہے کہ ہندہ سے اب ہم لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی کبھی اپنے گھر آنے دیں گے۔
مذکورہ بالا معاملہ کی وجہ سے گاؤں والے، زید و بکر کے گھر والوں کا بائیکاٹ کردیا ہے، اب زید و بکر کا کہنا ہے کہ ہمیں برادری میں شامل کیا جائے؛ کیوں کہ ہندہ سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہےگا؛ لہذا زید و بکر کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور گاؤں والے کیا زید و بکر کو برادی میں شامل کرلیں، جو حکم شرع ہو، مفصل و مدلل بیان فرمائیں، بڑی نوازش ہوگی، بینوا و توجروا۔
المستفتی: محمد خالد
مقام نگر بازار، بستی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب ہندہ غیر مسلم کے ساتھ بھاگنے اور اس کے ساتھ ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرنے کی وجہ سے سخت گنہ گار، مستحق عذاب نار ہوئی بلکہ اسلام سے خارج ہوگئی، اس پر لازم ہے کہ فورا ہندو رسم و رواج اور ان کے کفری عقائد سے توبہ کرکے، اسلام میں داخل ہو اور اپنے گھر واپس آجائے ، ورنہ دنیا؛ تو خراب ہوگی ہی، ساتھ میں آخرت بھی برباد ہوجائےگی۔
اللہ تعالی کافروں کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَقَدِمْنَآ إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنهُ هَبَآءً مَنْثُورًا﴾ (الفرقان: ۲۵، آیت: ۲۳)
اور ہندہ کے اہل خانہ و زید و بکر کو اگر ہندہ کے غیر مسلم کے ساتھ، ناجائز تعلقات کا علم تھا اور انھوں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے، اس تعلقات پر حتی المقدور، بند باندھنے کی کوشش نہیں کی یا انھوں نے لاپرواہی برتتے ہوئے، اس کے غیر مسلم کے ساتھ بھاگنے میں کسی طرح کی معاونت کی یا بھاگنے پر راضی رہے یا بھاگنے کے بعد اپنی وسعت کے مطابق، اسے واپس لانے کی مکمل کوشش نہیں کی؛ تو اس صورت میں گاؤں والوں نے اہل خانہ اور زید و بکر کا بائیکاٹ کرکے، شرعی حکم کی اتباع کی ہے؛ لہذا اس صورت میں جب تک اہل خانہ اور زید و بکر، علانیہ توبہ نہ کرلیں، اپنے کیے پر نادم نہ ہوں اور ان پر توبہ کے آثار ظاہر نہ ہوجائیں، ان کا اسی طرح، سختی سے بائیکاٹ برقرار رکھا جائے، بلکہ ان کے ساتھ بول چال، کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا وغیرہ، سب بند کردیا جائے، البتہ جب یہ لوگ علانیہ توبہ کرلیں، اپنے کیے پر نادم ہوں اور ان پر توبہ کے آثار ظاہر ہوجائیں؛ تو اب ان کا بائیکاٹ ختم کردیا جائے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿يأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَآ يُؤْمَرُونَ﴾ (التحریم: ۶۶، آیت: ۶)
حدیث شریف میں ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) (صحیح البخاری، کتاب فی الاستقراض الخ، باب العبد راع فی مال سیدہ الخ، ج۳ص۱۲۰، رقم: ۲۴۰۹، ط: دار طوق النجاۃ)
نیز اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرى مَعَ الْقَوْمِ الظّلِمِينَ﴾ (الأنعام: ۶، آیت: ۶۸)
نیز حدیث پاک میں ہے: عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ)) (سنن ابن ماجہ، باب ذکر التوبۃ، ج۲ص۱۴۱۹، رقم: ۴۲۵۰، ط: دار إحیا ء الکتب العربیۃ، البابی الحلبی)
اور اگر ہندہ کے اہل خانہ اور زید و بکر نے اس معاملہ میں مذکورہ بالا امور میں سے کسی امر میں لاپرواہی نہیں کی اور ہر جہت سے اپنی پوری ذمہ داری نبھائی؛ تو اس صورت میں گاؤں والوں کا اہل خانہ اور زید و بکر کا بائیکاٹ کرنا شرعا درست نہیں، ان پر لازم ہے کہ فورا ان کا بائیکاٹ ختم کریں اور انھیں برادری میں شامل کرلیں۔
قرآن پاک میں ہے: ﴿وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى﴾ (الأنعام: ۶، آیت: ۱۶۴) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۰؍ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۵ھ
Lorem Ipsum