کیا حضور کے بارے میں نو مولود بچہ گواہی دے سکتا ہے اور اس کے ضمن میں امام حسین رضی اللہ عنہ سے متعق ایک واقعہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے دوران خطاب کہا کہ جب ولادت امام حسین ہوئی؛ تو آپ اپنی آنکھ نہیں کھول رہے تھے،  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے؛ تو فرمایا: لاؤ میرے بیٹے کو لاؤ….. حضرت ام فضل جو حضور کی چچی ہیں، انھوں نے امام حسین کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی گود میں دیا؛ تو گود میں آتے ہی شہزادے نے اپنی آنکھیں کھول دیں، جیسے ہی آنکھ کھلی؛ تو اوپر حضور کا چمکتا ہوا چہرہ نظر آیا، اس کے بعد حضور علیہ السلام نے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں تکبیر کہی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اذان کے کلمات: أشھد أن لا إلہ إلا اللہ و اشھد أن أو أنی رسول اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں میں اللہ کا رسول ہوں۔ اشھد أن یا أنی رسول اللہ۔ زید کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ: میں اللہ کا رسول ہوں، تو گواہ رہنا تیرا نانا وہ جس نے اپنے سرکی آنکھوں سے شب معراج، اپنے رب کا دیدار کیا ہے۔ اب بکر کہتا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک دن کا بچہ گواہی دےگا، تکرار، لفظ گواہی پر ہے۔ اب زید کے لیے کیا حکم ہے اور انکار گواہی پر، بکر کے لیے کیا حکم ہے ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، نوازش ہوگی۔

المرسل: محمد شمس عالم رضوی صدیقی

شہادہ، مہاراشٹر۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب ایک دن کے بچے کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں گواہی دینا، شرعا محال نہیں؛ کیوں کہ جب بے زبان درخت، رب تعالی کی وحدانیت اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے سکتا ہے؛ تو ایک دن کا بچہ، بدرجہ اولی گواہی کی گنجائش رکھتا ہے، نیز خود، قرآن مجید کی آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں ایک نومولود بچے نے گواہی دی تھی۔

سنن الدارمی میں ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ تُرِيدُ؟» قَالَ: إِلى أَهْلِي قَالَ: ((هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ؟)) قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: ((تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) فَقَالَ: وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: ((هَذِهِ السَّلَمَةُ)) فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا، فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ، وَقَالَ: إِنِ اتَّبَعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ، وَإِلَّا رَجَعْتُ، فَكُنْتُ مَعَكَ. (سنن الدارمی، المقدمۃ، باب ما أکرم اللہ تعالی بہ نبیہ صلی اللہ علیہ و سلم من إیمان الشجر بہ و البھائم و الجن، ج۱ص۱۶۶، رقم: ۱۶، ط: دار المغنی، الحرمین الشریفین)

قرآن پاک میں ہے:﴿ قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِينَ، وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِينَ، فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾ (یوسف: ۱۲، آیت: ۲۶‒۲۸)

تفسیر طبری میں ہے: ’’ وأما قوله: (وشهد شاهد من أهلها) فإن أهل العلم اختلفوا في صفة الشاهد. فقال بعضهم: كان صبيًّا في المهد. ذكر من قال ذلك:

حدثنا ابن وكيع، قال: حدثنا العلاء بن عبد الجبار، عن حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: ((تكلم أربعة في المهد وهم صغار: ابن ماشطة بنت فرعون، وشاهد يوسف، وصاحب جريج، وعيسى ابن مريم عليه السلام)) (تفسیر الطبری، ج۱۶ص۵۳، رقم: ۱۹۰۹۹، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

اس کے بعد مذکورہ  راے کے موافق مزید روایت و اقوال ذکر کرتے ہیں، پھر اس واقعہ سے متعلق، دیگر آرا و اقوال،  بیان کرکے، فرماتے ہیں: قال أبو جعفر: والصواب من القول في ذلك، قول من قال: كان صبيًّا في المهد للخبر الذي ذكرناه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. أنه ذكر من تكلم في المهد. فذكر أنَّ أحدهم صاحب يوسف‘‘. (تفسیر الطبری، ج۱۶ص۵۹، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

لہذا بکر کا یہ کہنا کہ: ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک دن کا بچہ گواہی دےگا‘‘۔ درست نہیں؛ کیوں کہ رب تعالی، جس طرح انسان کو عدم سے وجود بخشنے پر قادر ہے، اسی طرح وہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعے، اس طرح کے معجزات بھی ظاہر کرنے پر قادر ہے، بکر پر لازم ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کرے اور آئندہ اس طرح کے اعتراضات سے بچے۔

البتہ زید نے حدیث کی روشنی میں جو واقعہ ذکر کیا ہے، اس کا ثابت ہونا محل نظر ہے؛ کیوں کہ کتب حدیث وغیرہ میں کافی تفتیش کے باوجود بھی مجھے یہ واقعہ نہیں ملا۔ زید سے اس واقعہ کا حوالہ مانگا جائے، اگر قابل اعتماد حوالہ نہ دے سکے اور یہی ظاہر ہے؛ تو اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے، اس طرح کے غیر معتمد واقعات بیان کرنے سے پرہیز کرے اور ا س درج ذیل حدیث پاک سے عبرت حاصل کرے:

عَنِ المُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ)) (صحیح البخاری، باب ما یکرہ من النیاحۃ علی المیت، ج۲ص۸۰، رقم: ۱۲۹۱، ط: دار طوق النجاۃ)

ترجمہ: حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک مجھ پر جھوٹ باندھنا، کسی دوسرے پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں، جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۷؍ صفر المظفر ۱۴۴۶ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.