کیا جانور کے پایے سے متعلق یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم پائے کو حفاظت سے رکھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پائے کو قربانی کے ۱۵ دن بعد کھاتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر کوئی مجھے پائے کھانے کی دعوت دےگا؛ تو میں اس دعوت کو قبول کروں گااور اگر کوئی مجھے تحفے میں پائے دےگا؛ تو میں اس تحفے کو بھی قبول کروں گا۔ کیا یہ صحیح ہے؟
المستفتی: مظہر خان سعدی، بریلی شریف۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ دونوں روایتیں صحیح ہیں، پہلی روایت، حدیث کی مشہور و معروف کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ اور دوسری روایت، اصح الکتب بعد کتاب اللہ ’صحیح البخاری‘ میں موجود ہے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ((لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ، فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ)) (سنن ابن ماجہ، باب القدید، ج۲ص۱۱۰۱، رقم: ۳۳۱۳، ط: دار إحیاء الکتب العربیۃ، البابی الحلبی)
صحیح البخاری میں ہے: حدثنا عبدان، عن أبي حمزة، عن الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((لو دعيت إلى كراع لأجبت، ولو أهدي إلي كراع لقبلت)) (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب من أجاب إلی کراع، ج۷ص۲۵، رقم: ۵۱۷۸، ط: دار طوق النجاۃ) و اللہ تعالی أعلم…………………
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۲؍ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۶ھ
Lorem Ipsum