موبائل نمبر : 8318177138
راوی خالد بن عبید معافری ثقہ ہے یا ضعیف؟
- Home
- کتب و مقالات حدیث و اصول حدیث
- راوی خالد بن عبید معافری ثقہ ہے یا ضعیف؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
امید کہ بخیر و عافیت ہوں گے۔
خالد بن عبید معافری راوی حدیث کے بارے میں کچھ معلومات ہوں؛ تو عنایت فرمائیں، یعنی ضعیف ہے یا ثقہ ہے۔
المستفتی: ناچیز محمد رفیق مصباحی شیرانی
استاد دار العلوم فیضان اشرف، باسنی، ناگور، راجستھان۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمد للہ بخیر اور آپ کی خیریت کا طالب ہوں۔روای خالد بن عبید معافری اکثر محدثین کے نزدیک مجہول العین؛ کیوں کہ اگرچہ کسی ناقد کی جانب سے ان پر جرح نہیں کی گئی ہے مگرچوں کہ آپ سے روایت کرنے والے صرف ایک ہی راوی، حیوہ بن شریح ہیں، دوسرا کوئی نہیں اور محدثین کے نزدیک ایسے راوی مجہول العین ہوتے ہیں۔
مغانی الأخبار میں ہے: ’’خالد بن عبيد المعافرى: يروى عن شعيب بن زرعة المعافرى، ومشرح بن هاعان يسند حديثًا واحدًا، روى عنه حيوة بن شريح، كذا قاله ابن يونس فى علماء مصر، ثم ذكر حديثه عن عقبة بن عامر الجهنى فى التمام. قلت: خالد هذا لم يضعفه أحد، روى له البيهقى، وأبو جعفر الطحاوى‘‘۔ (مغانی الأخبار فی شرح أسامی رجال معانی الآثار، امام عینی، ج۱ص۲۷۰، رقم: ۵۷۵، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الجرح و التعدیل میں ہے: ’’خالد بن عبيد المعافري روى عن مشرح بن هاعان روى عنه حيوة بن شريح سمعت أبى يقول ذلك‘‘۔ (الجرح و التعدیل، امام ابن ابی حاتم، ج۳ص۳۴۲، رقم: ۱۵۴۴، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت)
تقريب النووی میں ہے: ’’وَأَمَا مَجْهُولُ الْعَيْنِ فَقَدْ لَا يَقْبَلُهُ بَعْضُ مَنْ يَقْبَلُ مَجْهُولَ الْعَدَالَةِ، ثُمَّ مَنْ رَوَى عَنْهُ عَدْلَانِ، عَيَّنَاهُ ارْتَفَعَتْ جَهَالَةُ عَيْنِهِ، قَالَ الْخَطِيبُ: الْمَجْهُولُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا يُعْرَفُ حَدِيثُهُ إِلَّا مِنْ جِهَةِ وَاحِدٍ، وَأَقَلُّ مَا يَرْفَعُ الْجَهَالَةَ رِوَايَةُ اثْنَيْنِ مَشْهُورَيْنِ‘‘۔
اس کے تحت تدریب الراوی میں ہے: ’’(وَأَمَا مَجْهُولُ الْعَيْنِ)، وَهُوَ الْقِسْمُ الثَّالِثُ مِنْ أَقْسَامِ الْمَجْهُولِ: (فَقَدْ لَا يَقْبَلُهُ بَعْضُ مَنْ يَقْبَلُ مَجْهُولَ الْعَدَالَةِ)، وَرَدُّهُ هُوَ الصَّحِيحُ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَغَيْرِهِمْ‘‘۔ (تدریب الراوی، امام جلال الدین سیوطی، السادسۃ: حکم مجھول العدالۃ ظاھرا و باطنا، ج۱ص۳۷۲‒۳۷۳، ط: دار طیبہ)
البتہ اگر امام ابن حجر رحمہ اللہ کی راے پر عمل کیا جائے؛ تو انھیں ثقہ یا کم از کم صدوق، قرار دیا جاسکتا ہے، آپ کی رائے ہے کہ اگر کوئی راوی مجہول العین ہے اور ناقدین میں سے کسی معتبر ناقد نے اس کی توثیق بھی کی ہے؛ تو اس کی جہالت ختم ہوجائے گی، اسے ثقہ تسلیم کیا جائےگا اور اس کی روایت بھی قبول کی جائے گی، جیسا کہ آپ نے اسی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے کتاب: ’صحیح البخاری‘ میں موجود، اس طرح کے راویوں کا دفاع کیا ہے۔
تدریب الراوی میں ہے: ’’وَقِيلَ: إِنْ زَكَّاهُ أَحَدٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ مَعَ رِوَايَةِ، وَاحِدٍ عَنْهُ قُبِلَ، وَإِلَّا فَلَا، وَاخْتَارَهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْقَطَّانِ، وَصَحَّحَهُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ‘‘۔ (تدریب الراوی، امام جلال الدین سیوطی، السادسۃ: حکم مجھول العدالۃ ظاھرا و باطنا، ج۱ص۳۷۳، ط: دار طیبہ)
تدریب الراوی ہی میں ہے: ’’وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ رَبَاحٍ، فَقَالَ فِيهِ أَبُو حَاتِمٍ: مَا أَرَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ: ثِقَةٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، فَانْتَفَتْ عَنْهُ الْجَهَالَةُ بِتَوْثِيقِ هَؤُلَاءِ، أَمَّا الْوَلِيدُ، فَوَثَّقَهُ أَيْضًا الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَأَمَّا جَابِرٌ، فَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَأَخْرَجَ لَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ، وَقَالَ:: إِنَّهُ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِهِ‘‘۔ (تدریب الراوی، امام جلال الدین سیوطی، السادسۃ: حکم مجھول العدالۃ ظاھرا و باطنا، ج۱ص۳۷۶، ط: دار طیبہ)
امام ابن حبان کی کتاب: ’الثقات‘ میں ہے: ’’خَالِد بن عبيد الْمعَافِرِي يروي عَن مشرح بن هاعان روى عَنهُ حَيْوَة بْن شُرَيْح‘‘۔ (الثقات، امام ابن حبان، باب الخاء، ج۶ص۲۶۱، رقم: ۷۶۴۴، ط: دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد، ہند)
نیز اگر کسی راوی کی جرح نہ کی گئی ہو اور اسے امام ابن حبان نے اپنی کتاب: ’الثقات‘ میں درج کیا ہے؛ تو ان کے نزدیک، اس کی روایت حسن ہونے کی وجہ سے قبول کی جائےگی اور کم از کم وہ صدوق قرار پائےگا۔
تدریب الراوی میں ہے: ’’ قِيلَ: وَمَا ذَكَرَ مِنْ تَسَاهُلِ ابْنِ حِبَّانَ لَيْسَ بِصَحِيحٍ؛ فَإِنَّ غَايَتَهُ أَنَّهُ يُسَمِّي الْحَسَنَ صَحِيحًا، فَإِنْ كَانَتْ نِسْبَتُهُ إِلَى التَّسَاهُلِ بِاعْتِبَارِ وِجْدَانِ الْحَسَنِ فِي كِتَابِهِ فَهِيَ مُشَاحَّةٌ فِي الِاصْطِلَاحِ، وَإِنْ كَانَتْ بِاعْتِبَارِ خِفَّةِ شُرُوطِهِ، فَإِنَّهُ يُخَرِّجُ فِي الصَّحِيحِ مَا كَانَ رَاوِيهِ ثِقَةً غَيْرَ مُدَلِّسٍ، سَمِعَ مِنْ شَيْخِهِ وَسَمِعَ مِنْهُ الْآخِذُ عَنْهُ، وَلَا يَكُونُ هُنَاكَ إِرْسَالٌ وَلَا انْقِطَاعٌ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الرَّاوِي جَرْحٌ وَلَا تَعْدِيلٌ وَكَانَ كُلٌّ مِنْ شَيْخِهِ وَالرَّاوِي عَنْهُ ثِقَةً، وَلَمْ يَأْتِ بِحَدِيثٍ مُنْكَرٍ فَهُوَ عِنْدَهُ ثِقَةٌ. وَفِي كِتَابِ الثِّقَاتِ لَهُ كَثِيرٌ مِمَّنْ هَذِهِ حَالُهُ، وَلِأَجْلِ هَذَا رُبَّمَا اعْتَرَضَ عَلَيْهِ فِي جَعْلِهِمْ ثِقَاتٍ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ حَالَهُ، وَلَا اعْتِرَاضَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا مُشَاحَّةَ فِي ذَلِكَ‘‘۔ (تدریب الراوی، امام جلال الدین سیوطی، النوع الأل: الصحیح، مظان معرفۃ الزیادۃ علی الصحیح، ج۱ص۱۱۴، ط: دار طیبہ)
راوی خالد بن عبید معافری کے بارے میں کسی طرح کی جرح و تعدیل موجود نہیں، یہ تو ظاہر ہے اور ان کی موجودہ روایت منکر بھی نہیں، اب یہ دیکھنا ہے کہ ان سے روایت کرنے والے اور ان کے شیخ قابل قبول ہیں یا نہیں، ان کے بارے میں کچھ ذکر کرنے سے پہلے ’السنن الکبری‘ سے ان کی روایت کردہ حدیث ، سند کے ساتھ ذکر کردیتا ہوں:
السنن الکبری میں ہے: ’’وأخبرَنا أبو زَكَريّا ابنُ أبى إسحاقَ وأبو بكرٍ أحمدُ بنُ الحَسَنِ قالا: حدثنا أبو العباسِ محمدُ بنُ يَعقوبَ، حدثنا بَحرُ بنُ نَصرٍ، حدثنا ابنُ وهبٍ، أخبرَنِى حَيْوَةُ بنُ شُرَيحٍ، أن خالِدَ بنَ عُبَيدٍ المَعافِرِيَّ حَدَّثَه، عن أبى المُصعَبِ مِشرَحِ بنِ هَاعَانَ أنَّه سَمِعَه يقولُ: سَمِعتُ عُقبَةَ بنَ عامِرٍ الجُهَنِيَّ يقولُ: سَمِعتُ رسولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يقولُ: ((مَن عَلَّقَ تَميمَةً فلا أتَمَّ اللهُ له، ومَن عَلَّقَ ودَعَةً فلا ودَعَ اللهُ له))‘‘۔ (السنن الکبری، امام بیہقی، باب النساء، ج۱۹ص۵۴۷، رقم: ۱۹۶۳۴، ط: مرکز ھجر للبحوث)
اس میں آپ کے شیخ ابو مصعب مشرح بن ہاعان ہیں اور آپ سے روایت کرنے والے حیوہ بن شریح ہیں، ان دونوں حضرات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
حیوہ بن شریح: یہ حیوہ بن شریح بن صفوان، مصری، ثقہ ہیں۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال ، امام مزی، رقم:۱۵۸۰، تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم:۱۶۰۰ )
ابو مصعب مِشْرح بن ہاعان: یہ مشرح بن ہاعان معافری، مصری ہیں، امام ابن حجر عسقلانی نے انھیں مقبول قرار دیا ہے، (تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم: ۶۶۷۹) اور امام احمد بن حنبل نے انھیں معروف قرار دیا اور امام یحیی بن معین ان کی توثیق کی ہے۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال، امام مزی، رقم: ۵۹۷۴) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۷؍ ذی الحجۃ ۱۴۴۵ھ
Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.