نصاب قربانی

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:

(۱)سونے اور چاندی کا نصاب مروجہ پیمانہ کلو گرام میں کیا ہے؟

(۲) زید کے پاس حاجت اصلیہ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو نصاب کو پہونچ جائے البتہ اس کے پاس کچھ زمین ہے جس کی قیمت نصاب کو پہونچ رہی ہے؛ تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ بکر کہتا ہے قربانی واجب ہے جب کہ عمرو کہتا ہے واجب نہیں؟ تفصیلا جواب سے نوازیں۔

(۳) ہمارے دیار میں عورتوں کو مہر زیور کی شکل میں دیا جاتا ہے، کچھ زیور چاندی کے اور کچھ سونے کے ہوتے ہیں۔ جن کی مجموعی قیمت چاندی کے کئی نصاب کو حاوی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی عورتوں پر زکاۃ و قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ تحریر فرمائیں، بینوا توجرو۔

المستفتی: رضی الدین احمد قادری

موضع سرسیا، پوسٹ برگدوا کھکھری، ایس نگر

۲۲؍ذی القعدۃ ۴۱ھ ۱۵؍ جولائی ۲۰۲۰ء

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب (۱) مروجہ پیمانہ کے اعتبار سے سونے کا نصاب ۹۳  گرام  ۳ ملی گرام اور چاندی کا نصاب ۶۵۳  گرام ہے؛ کیوں کہ شریعت اسلامیہ میں سونے کا نصاب ۲۰ دینار اور چاندی کا نصاب ۲۰۰ درہم ہے، آج مروجہ پیمانہ کے حساب سے ایک دینار کا وزن ۴ گرام ۶۶۵ ملی گرام اور ایک درہم کا وزن ۳ گرام ۲۶۵ ملی گرام ہے؛ لہذا ایک دینار کے وزن ۴ گرام ۶۶۵ ملی گرام کو ۲۰ میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ۹۳ گرام ۳ ملی گرام آئے گا اور ایک درہم کے وزن ۳ گرام ۲۶۵ ملی گرام کو ۲۰۰ میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ۶۵۳ گرام آئے گا۔

سنن أبی داود میں ہے: عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، – قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَنَّه قَالَ: ((هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ)) (سنن أبی داود، کتاب الزکاۃ، باب فی زکاۃ السائمۃ، ج۲ص۹۹، رقم: ۱۵۷۲، ط: المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

سنن الدارقطنی میں ہے: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:  «لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ شَيْءٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْءٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالًا مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ۔۔۔۔۔۔الخ‘‘۔ (سنن الدارقطنی، باب وجوب زکاۃ الذھب و الورق، ج۲ص۴۷۳، رقم:۱۹۰۲،  ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیرو)

الدر المختار میں ہے: ’’نِصَابُ الذَّهَبِ عِشْرُونَ مِثْقَالًا وَالْفِضَّةِ مِائَتَا دِرْهَمٍ‘‘۔ (الدر المختار مع رد المحتار، امام حصکفی، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۲ص۲۹۵، ط: دار الفکر، بیروت)

(۲) محض زمین کی قیمت نصاب تک پہونچ رہی ہے؛ تو اس کے سبب زید پر قربانی واجب نہیں ہوگی، البتہ اگر اس زمین سے اتنی پیدا وار ہو کہ سال بھر کھانے کے بعد جو بچے، وہ نصاب کو پہونچ جائے؛ تو اب زید پر قربانی واجب ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’وَإِنْ كَانَ لَهُ عَقَارٌ وَمُسْتَغَلَّاتُ مِلْكٍ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ الْمُتَأَخِّرُونَ – رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى – فَالزَّعْفَرَانِيُّ وَالْفَقِيهُ عَلِيٌّ الرَّازِيّ اعْتَبَرَا قِيمَتَهَا، وَأَبُو عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ وَغَيْرُهُ اعْتَبَرُوا الدَّخْلَ، وَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ إنْ كَانَ يَدْخُلُ لَهُ مِنْ ذَلِكَ قُوتُ سَنَةٍ فَعَلَيْهِ الْأُضْحِيَّةُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: قُوتُ شَهْرٍ، وَمَتَى فَضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرُ مِائَتِي دِرْهَمٍ فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ الْأُضْحِيَّةُ، وَإِنْ كَانَ الْعَقَارُ وَقْفًا عَلَيْهِ يُنْظَرُ إنْ كَانَ قَدْ وَجَبَ لَهُ فِي أَيَّامِ الْأَضْحَى قَدْرُ مِائَتِي دِرْهَمٍ فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ الْأُضْحِيَّةُ وَإِلَّا فَلَا، كَذَا فِي الظَّهِيرِيِّةِ‘‘۔(فتاوی عالمگیری، کتاب الأضحیۃ، الباب الأول فی تفسیر الأضحیۃ، ج۵ص۲۹۲، ط: دار الفکر، بیروت)

رد المحتار میں ہے: ’’سُئِلَ مُحَمَّدٌ عَمَّنْ لَهُ أَرْضٌ يَزْرَعُهَا أَوْ حَانُوتٌ يَسْتَغِلُّهَا أَوْ دَارٌ غَلَّتُهَا ثَلَاثُ آلَافٍ وَلَا تَكْفِي لِنَفَقَتِهِ وَنَفَقَةِ عِيَالِهِ سَنَةً؟ يَحِلُّ لَهُ أَخْذُ الزَّكَاةِ وَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهَا تَبْلُغُ أُلُوفًا وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى وَعِنْدَهُمَا لَا يَحِل‘‘۔ (رد المحتار، ابن عابدین شامی، کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ و العشر، ج۲ص۳۴۸، ط: دار الفکر، بیروت)

الدر المختار میں ہے: ’’(تجب على كل مسلم ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية (وإن لم ينم وبه) أي بهذا النصاب (تحرم الصدقة)  وتجب الاضحية ونفقة المحارم على الراجح‘‘۔ (الدر المختار شرح تنویر الأبصار، باب صدقۃ الفطر، ص۱۳۹، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ اس کے تحت فرماتے ہیں: ’’قلت: فالذی له أرض قیمتھا ألوف کما وصف لو کان تجب علیه الأضحیة لحرمت علیه الزکاۃ لکنھا لم تحرم فالأضحیة لم تجب‘‘۔ (فتاوی رضویہ، کتاب الأضحیۃ، ج۱۴ص۵۵۵، ط: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)

(۳) جب کی عورت کو زیور کی شکل میں مہر دے دیا گیا اور وہ نصاب کو پہونچ جاتا ہے؛ تو اس پر زکاۃ و قربانی دونوں واجب ہے۔

زیور کی زکاۃ سے متعلق سنن أبی داود میں ہے: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا، وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: ((أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟))، قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟))، قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ۔ (سنن أبی داود، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ھو و زکاۃ الحلي، ج۲ص۹۵، رقم: ۱۵۶۳، ط: المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

اسی میں ہے: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: ((مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ، فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ)) (ایضا، رقم: ۱۵۶۴)

وسعت والے پر قربانی سے متعلق سنن ابن ماجہ میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: ((مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا)) (سنن ابن ماجہ، أبواب الأضاحی، باب الأضاحی واجبۃ ھی أم لا، ج۴ص۳۰۲، رقم: ۳۱۲۳، ط: دار الرسالۃ العالمیۃ)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’وَالْمُوسِرُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ مَنْ لَهُ مِائَتَا دِرْهَمٍ أَوْ عِشْرُونَ دِينَارًا أَوْ شَيْءٌ يَبْلُغُ ذَلِكَ سِوَى مَسْكَنِهِ وَمَتَاعِ مَسْكَنِهِ وَمَرْكُوبِهِ وَخَادِمِهِ فِي حَاجَتِهِ الَّتِي لَا يَسْتَغْنِي عَنْهَا‘‘۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الأضحیۃ، الباب الأول فی تفسیر الأضحیۃ، ج۵ص۲۹۲، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

     ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

   خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

            ۲۸؍ ذی القعدۃ ۱۴۴۱ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.