وقف کا متولی کون ہوسکتا ہے
کیا فرماتے ہیں علماے اسلام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کے بارے میں:
مسلم سلاطین و نوابین کی تعمیر کردہ مساجد میں یوں ہی مدارس و مزارات کا اہتمام و سجادگی و امامتیں خاندانی وراثتا چلی آرہی ہیں، زید کا کہنا ہے کہ اگر اہل ہے تو جائز ہے اور اگر نااہل ہے تو جائز نہیں ہے، اگرچہ بانی و واقف کا خاص خاندانی ہی کیوں نہ ہو؛ کیوں کہ مذہبی امور میں وراثت جاری کرنا درست نہیں، کیا زید کا قول درست ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: محب علی نعیمی، رامپور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب زید کا کہنا صحیح ہے بلکہ اگر واقف یہ شرط لگادے کہ وقف کا متولی میرے خاندان ہی کا ہوگا، اس کے باوجود اگر اس کے خاندان میں کوئی اہل نہ ہو؛ تو خاندان کے علاوہ کسی اہل کو متولی بنانے کا حکم ہے۔
البحر الرائق میں ہے: ’’و ھکذا الحکم لو لم یکن فیھم أحد أھلا لھا فإن القاضی یقیم أجنبیا إلی أن یصیر منھم أحد أھلا فترد إلیه‘‘۔ (کتاب الوقف، ج۵ص۳۸۷، ط: مکتبہ زکریا)
الدر المختار میں ہے: ’’ (وَيُنْزَعُ) وُجُوبًا بَزَّازِيَّةٌ (لَوْ) الْوَاقِفُ دُرَرٌ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى (غَيْرَ مَأْمُونٍ) أَوْ عَاجِزًا أَوْ ظَهَرَ بِهِ فِسْقٌ كَشُرْبِ خَمْرٍ وَنَحْوِهِ فَتْحٌ ‘‘۔ (کتاب الوقف، ج۶ص۵۷۸، ط: زکریا بکڈپو) و اللہ أعلم کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی
۲۴؍رجب المرجب ۴۱ھ
Lorem Ipsum