مسجد کے فنڈ سے امام کی تنخواہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام، علماے کرام اس بارے میں کہ ہماری مسجد کی انتظامیہ کمیٹی نے یہ چاہا ہے کہ امام صاحب کی ماہانہ کچھ تنخواہ مقرر کردی جائے، کیا امام صاحب کو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ کیا امام صاحب کے لیے الگ سے فنڈ اکٹھا کرکے تنخواہ دے سکتے ہیں؟ اور کیا جو مسجد کا چندہ ہوتا ہے تب یہ اعلان کرکے چندہ کرنا کہ اب امام صاحب کو بھی تنخواہ دینا ہے، آپ لوگ زیادہ سے زیادہ چندہ دیں، اب یہ چندہ مسجد کی رقم اور امام صاحب دونوں کا آپس مل جاتا ہے اور اس میں سے کیا امام صاحب کی تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے، وہ کون سی صورت ہے کہ امام صاحب کی تنخواہ کا جواز جس سے حاصل ہوجائے یعنی امام صاحب کے لیے کس فنڈ سے تنخواہ دی جائے، جواب عطا فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
سائلان: انتظامیہ کمیٹی، جامع مسجد، ککرالہ، بدایوں شریف، یوپی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب مسجد کے فنڈ سے امام کی واجبی تنخواہ دینا جائز ہے مگر واجبی تنخواہ سے زیادہ دینا جائز نہیں، اگر کمیٹی والوں نے واجبی تنخواہ سے زیادہ دیا؛ تو ان کو تاوان دینا پڑے گا بلکہ اگر امام کو معلوم ہو کہ کمیٹی والے واجبی تنخواہ سے زیادہ دے رہے ہیں؛ تو امام کو تنخواہ لینا بھی جائز نہیں، ایسا ہی (فتاوی فیض الرسول، فقیہ ملت، فصل فی المسجد، ج۲ص۳۷۴، ط: شبیر برادرس، لاہو) میں ہے۔
فتح القدیر میں ہے: ’’وَلِلْمُتَوَلِّي أَنْ يَسْتَأْجِرَ مَنْ يَخْدُمُ الْمَسْجِدَ بِكَنْسِهِ وَنَحْوِ ذَلِكَ بِأُجْرَةِ مِثْلِهِ أَوْ زِيَادَةً يَتَغَابَنُ فِيهَا، فَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَالْإِجَارَةُ لَهُ وَعَلَيْهِ الدَّفْعُ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ، وَيَضْمَنُ لَوْ دَفَعَ مِنْ مَالِ الْوَقْفِ، وَإِنْ عَلِمَ الْأَجِيرُ أَنَّ مَا أَخَذَهُ مِنْ مَالِ الْوَقْفِ لَا يَحِلُّ لَهُ‘‘۔ (فتح القدیر، امام ابن ہمام، ج۶ص۲۴۰، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۱؍شوال المکرم ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum