زمین مسجد کے لیے وقف کی تو کیا اب اس کو بدل سکتا ہے
کیا فرماتے ہیں علماے دین اور مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کی بابت کہ:
زید نے مسجد کے لیے اپنے کھیت میں سے ایک حصہ مختص کردیا۔ ابھی وہاں مسجد بنی نہیں ہے، اب زید اس کے بدلے میں اپنے دوسرے کھیت میں مسجد کے لیے جگہ دینا چاہتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا سابقہ زمین کے وقف ختم کرنا صحیح ہے یا نہیں جب کہ پہلے والی زمین کی رجسٹری زید کے خود کے نام ہے جب کہ اب جس کھیت میں زمین دینا چاہتا ہے، وہ SC شیڈول کاسٹ سے خریدی ہوئی ہے جس کی رجسٹری ابھی بھی شیڈول کاسٹ کے نام ہی ہے، البتہ قبضہ زید کا ہے مگر رجسری SC کے فرد کے نام ہی ہے۔
المستفتی: محم رفیق ابن حاجی نظام الدین صاحب، نوری محلہ شیرانی آباد۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب کوئی زمین جب مسجد کے لیے وقف کردی گئی؛ تو اب وہ مسجد ہوگئی؛ کیوں کہ مسجد عمارت کا نام نہیں بلکہ وقف کی ہوئی زمین کا نام ہے؛ لہذا اس پر عمارت بنی ہو یا نہ بنی ہو، وہ زمین مسجد ہوگئی؛ اس لیے اب اس وقف کو کوئی ختم نہیں کرسکتا اور نہ ہی بدل سکتا ہے؛ اس لیے مسجد کے لیے وقف کی ہوئی پہلی زمین کو دوسری زمین سے زید کا بدلنا جائز نہیں، اگر بدلے گا تو گنہ گار ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’رَجُلٌ لَهُ سَاحَةٌ لَا بِنَاءَ فِيهَا أَمَرَ قَوْمًا أَنْ يُصَلُّونَ فِيهَا بِجَمَاعَةٍ أَبَدًا أَوْ أَمَرَهُمْ بِالصَّلَاةِ مُطْلَقًا وَنَوَى الْأَبَدَ صَارَتْ السَّاحَةُ مَسْجِدًا، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ وَهَكَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ‘‘۔ ملخصا۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الوقف، الباب الحادی عشر، الفصل الأول فیما یصیر بہ مسجدا، ج۲ص۴۵۵)
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’مسجد کے لیے چھت، منارہ، دیواریں کوئی چیز نہیں، اس میں تو منبر و محراب موجود ہے، یہ بھی نہ ہوتا؛ تو بھی مسجدیت میں خلل نہیں، مسجد صرف اس زمین کا نام ہے جو نماز کے لیے وقف ہو، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنی نری خالی زمین مسجد کو دے، مسجد ہوجائے گی، مسجد کا احترام اس کے لیے فرض ہوجاے گا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی، کتاب الوقف، باب المسجد، ج۱۲ص۱۳۵، ط جدید: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)
فتاوی عالمگیری ہی میں ہے: ’’وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ فَلَا يَجْعَلُ الدَّارَ بُسْتَانًا وَلَا الْخَانَ حَمَّامًا وَلَا الرِّبَاطَ دُكَّانًا‘‘۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الوقف، الباب الرابع عشر فی المتفرقات، ج۲ص۴۹۰) و اللہ تعالی أعلم۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۷؍جمادی الأولی ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum