حضرت علی کو انبیاے کرام سے افضل جاننے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں:
(۱)زید کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد جمعہ انبیاے کرام و رسولان عظام سے افضل ہیں، جس کا وہ علی الاعلان اظہار کرتا ہے۔
(۲) اور صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا قطعا انکار کرتا ہے اور تعزیہ داری کو جزء ایمان سمجھتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے، کیا ایسا شخص مسلمان ہے یا کافر؟
(۳) بستی کے جملہ مسلمانان ان کے ساتھ کیا سلوک کریں، کیا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور جس کا یہ عقیدہ ہو ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ان کے عقیدے کی پیروی کرنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
المستفتی: علماے اہل سنت مقام کتھک پوروا، پوسٹ ببھنی مصر، ضلع بستی، یوپی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب (۱‒۲) ہر نبی و رسول کو تمام صحابی و ولی سے افضل ماننا ضروریات دین سے ہے؛ لہذا امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کسی نبی یا رسول پر فضیلت دینا ضروریات دین کا انکار کرنا ہے اور یہ کفر صریح و رافضیت ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا زید مسلمان نہیں بلکہ رافضی و کافر و مرتد اور اسلام سے خارج ہے۔
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے: ’’فالنبي أفضل من الوليّ وهو أمر مقطوع به، والقائل بخلافه كافر لأنه معلوم من الشرع بالضرورۃ‘‘۔ (ارشاد الساری شرح صحیح البخاری، امام قسطلانی، باب مایستحب للعام إذا سئل، ج۱ص۲۱۴، ط: المطبعۃ الکبری الأمیریۃ، مصر)
الشفا بتعریف حقوق المصطفی میں ہے: ’’وَكَذلِك نقطع بتكفير غلاة الرافضة فِي قولهم إنّ الْأَئِمَّة أفضل مِن الْأَنْبِيَاء‘‘۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی، امام قاضی عیاض، فصل فی بیان ما ھو من المقالات کفر، ج۲ص۲۹۰، ط: دار الفکر، بیروت)
المعتقد المنتقد میں ہے: ’’إن نبیا واحدا أفضل عند اللہ من جمیع الأولیاء و من فضّل ولیا علی نبی یخشی علیه الکفر بل ھو کافر‘‘۔ (المعتقد المنتقد، علامہ فضل رسول قادری، ب۲ نبوات، ص۱۲۵، ط: رضا اکیڈمی، ممبئی)
(۳) بستی کے جو لوگ زید کے عقیدہ کے مطابق امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو انبیا علیہم الصلاۃ و السلام پر فضیلت دیتے ہیں، وہ سب بھی رافضی و کافر و مرتد اور اسلام سے خارج ہیں اور جو لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں وہ لعنت کے مستحق ہیں اور جو لوگ مروجہ تعزیہ داری کو جزء ایمان مانتے ہیں، وہ بدعتی و سخت گنہ گار ہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’وَلَوْ قَالَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ – لَمْ يَكُونُوا أَصْحَابًا لَا يَكْفُرُ وَيَسْتَحِقُّ اللَّعْنَةَ كَذَا فِي خِزَانَةِ الْفِقْهِ‘‘۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی أحکام المرتدین، ج۲ص۲۶۴، ط: دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: ’’اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت و ناجائز و حرام ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، مجدد دین وملت، کتاب الحظر و الإباحۃ، ج۹نصف اول، ص۳۶، ط قدیم: نوری دار الإشاعت، بریلی شریف)
اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ صرف اٹھتے بیٹھتے ہیں، وہ سب گنہ گار ہیں، بستی کے تمام مسلمانوں پر لازم ہے قرآن وحدیث کے مطابق ایسے باطل عقائد و نظریات رکھنے والوں سے دور رہیں، ان کے ساتھ سلام، کلام، اٹھنا، بیٹھا اور کھانا، پینا سب بند کردیں ورنہ سخت گنہ گار و مستحق عذاب نار ہوں گے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِينَ﴾ (الأنعام:۶، آیت:۶۸) ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (کنز الإیمان)
احادیث مبارکہ میں ہے: ((إِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْھُمْ وَ إِنْ مَا تُوْا فَلَا تَشْھَدُوْ ھُمْ وَ إِنْ لَقِیْتُمُوْھُمْ فَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَیْھِمْ وَ لَا تُجَالِسُوْھُمْ وَ لَا تُشَارِبُوْ ھُمْ وَ لَا تُوَاکِلُوْھُمْ وَ لَا تُنَاکِحُوْھُمْ وَ لَا تُصَلُّوْا عَلَیْھِمْ وَ لَا تُصَلُّوْا مَعَھُمْ)) (مقدمۃ صحیح مسلم، باب فی الضعفاء والکذابین، ج۱ص۱۲، رقم:۷، سنن أبی داود، کتاب السنۃ، باب فی القدر، ج۴ص۲۲۲، رقم:۴۶۹۱، سنن ابن ماجہ، باب فی القدر، ج۱ ص۳۵، رقم:۹۲، الضعفاء الکبیر،عقیلی، ج۱ص۳۶۰، رقم: ۳۱۸)
ترجمہ: ((بدمذہب اگر بیمار پڑیں؛ تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں؛ تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، ان سے ملاقات ہو؛ تو انہیں سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو)) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۳؍ ربیع الآخر ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum