انبیا علیہم الصلاۃ و السلام کی طرف نافرمانی کی نسبت کرنا کیسا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرح متین:
حضرت آدم علیہ السلام کے تعلق سے یہ کہنا کہ وہ گنہ گار ہو گئے تھے یا نافرمان ہوگئے تھے، ایسے کہنے والے کے اوپر کیا حکم لگایا جائے گا، جواب عنایت فرمائیں، بہت مہربانی ہوگی۔
المستفتی: محمد عرفان ازہری۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ قرآن و حدیث کے علاوہ میں اس طرح کی بات کہنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب، سخت گنہ گار اور مستحق عذاب نار ہے بلکہ بعض علما ے کرام کے نزدیک کفر ہے، ایسے شخص پر اس طرح کے ناپاک قول سے فورا توبہ لازم و ضروری ہے۔
بہار شریعت میں ہے: ’’انبیاے کرام علیہم الصلاۃ و السلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں، ان کا ذکر تلاوت قرآن و روایت حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے‘‘۔ (بہار شریعت، صدر الشریعۃ، عقائد متعلقہ نبوت، ج۱ح۱ص۸۸، ط: مکتبۃ المدینۃ، دہلی)
مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سیدنا آدم علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف نافرمانی و گناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علماے کرام نے اسے کفر بتایا۔ مولی کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے، دوسرا کہے؛ تو اس کی زبان گدی کے پیچھے سے کھینچی جائے، للہ المثل الأعلی بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے، ادب دینے، حزم و عزم و احتیاط اتم سکھانے کے لیے مثلا بیہودہ، نالائق، احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا، باپ کو اس کا اختیار تھا، اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انہیں الفاظ کو سند بناکر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہ سکتا ہے۔ حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ و مردود و ناسزا و مستحق عذاب و تعزیر و سزا ہوگا، جب یہاں یہ حالت ہے؛ تو اللہ عز وجل کی ریس کرکے انبیا علیہم الصلاۃ و لسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیوں کر سخت شدید و مدید عذاب جہنم و غضب الہی کا مستحق نہ ہوگا، و العیاذ باللہ تعالی‘‘۔ (فتاوی رضویہ مترجم، محدث بریلوی، ج۱ص۸۲۳‒۸۲۴، ط: مرکز اہل سنت برکات رضا، پوربند، گجرات)
امام قرطبی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’ قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ مِنَّا الْيَوْمَ أَنْ يُخْبِرَ بِذَلِكَ عَنْ آدَمَ إِلَّا إِذَا ذَكَرْنَاهُ فِي أَثْنَاءِ قَوْلِهِ تَعَالَى عَنْهُ، أَوْ قَوْلِ نَبِيِّهِ، فَأَمَّا أَنْ يَبْتَدِئَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِجَائِزٍ لَنَا فِي آبَائِنَا الْأَدْنِينَ إِلَيْنَا، الْمُمَاثِلِينَ لَنَا، فَكَيْفَ فِي أَبِينَا الْأَقْدَمِ الْأَعْظَمِ الْأَكْرَمِ النَّبِيِّ الْمُقَدَّمِ‘‘۔ (الجامع لأحکام القرآن، امام قرطبی، سورہ طہ آیت: ۱۲۰‒۱۲۲، ج۱۱ص۲۵۵، ط: دار الکتب المصریۃ، القاھرۃ)
امام ابن الحاج مالکی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’وَقَدْ قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَنَّ مَنْ قَالَ عَنْ نَبِيٍّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فِي غَيْرِ التِّلَاوَةِ وَالْحَدِيثِ أَنَّهُ عَصَى أَوْ خَالَفَ فَقَدْ كَفَرَ نَعُوذُ بِاَللَّهِ مِنْ ذَلِكَ‘‘۔ (المدخل، امام ابن الحاج، فصل فی مولد النبی، ج۲ص۱۴، ط: دار التراث)
مجدد دین و ملت قدس سرہ مذکورہ بالا دونوں عبارتیں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ایسے امور میں سخط احتیاط فرض ہے، اللہ تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے، آمین‘‘۔ ((فتاوی رضویہ مترجم، محدث بریلوی، ج۱ص۸۲۴) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۳؍جمادی الأولی ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum