بسم اللہ کرکے وضو کرنے سے پورا جسم پاک ہونے کا مطلب1
سوال: اس گروپ کے جملہ مفتیان کرام بالخصوص مفتی أزہار احمد صاحب قبلہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بہار شریعت حصہ دوم کتاب الطہارت کے وضو کے فضائل میں سنن دار قطنی و بیہقی کے حوالے سے ایک حدیث ہے۔
جس نے بسم اللہ کہ کر وضو کیا اس کا سر سے پاؤں تک سارا بدن پاک ہوگیا اور جس نے بغیر بسم اللہ وضو کیا اس کا اتنا ہی حصہ پاک ہوا جتنے حصے پر پانی گزرا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی جنبی بسم اللہ کہ کر وضو کرلے تو کیا وہ پاک ہوجائے گا جب کہ یہ بات کنفرم ہے کہ جنبی پانی کی موجودگی میں بغیر غسل کے پاک نہیں ہوگا۔
پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہوگا، اس حدیث کی تفصیل شرح فرماکر ناچیز کا خلجان دور کریں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ فقط و السلام۔
المستفتی: احمد ضیا علیمی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، اس حدیث میں پاک ہونے سے مراد حدث کی نجاست سے پاک ہونا نہیں بلکہ گناہوں کی نجاست سے پاک ہونامراد ہے۔
اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’المراد نجاسة الآثام، إذ لو أرید نجاسة الحدث لزم أن من لم یسم لم یتم طھرہ و ھو مذھب الظاھریة و روایة عن الإمام أحمد رضی اللہ تعالی عنه ولم یقل به أحد من علمائنا و بقاء نجاسة الآثام فیما عدا أعضاء الطھر بل و فیھا أیضا ‒ کما قدمنا ‒ لا ینافي صحة الطھارۃ و الصلاۃ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، مجدد دین و ملت، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۲ص۶۶، ط:امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) و اللہ أعلم۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی ، یوپی، انڈیا
۲۷؍شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum