عرب میں ایک دن پہلے چاند کیوں ہوتا ہے اور اہل ہند ان کے مطابق روزہ کیوں نہیں رکھتے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، مفتیان کرام ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ عرب ممالک میں رمضان کا چاند ہند سے ایک دن پہلے کیوں نظر آجاتا ہے اور اگر ایک دن پہلے نظر آ ہی جاتا ہے تو ہند میں اس ہی دن سے تراویح کیوں نہیں شروع ہوتی، جب کہ چاند کی تسدیق بھی ہوچکی ہوتی ہے، رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی آپ حضرات کی۔
المستفتی: محمد ارشاد۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اختلاف مطالع کی بنیاد پر ایک ملک میں چاند کی رویت، دوسرے ملک کے چاند کی رویت سے مختلف ہوسکتی ہے؛ اس لیے ایسا ہوسکتا ہے کہ عرب ملک میں چاند نظر آجائے اور ہندستان میں نظر نہ آئے۔
رد المحتار میں ہے: ’’اعْلَمْ أَنَّ نَفْسَ اخْتِلَافِ الْمَطَالِعِ لَا نِزَاعَ فِيهِ بِمَعْنَى أَنَّهُ قَدْ يَكُونُ بَيْنَ الْبَلْدَتَيْنِ بُعْدٌ بِحَيْثُ يَطْلُعُ الْهِلَالُ لَهُ لَيْلَةَ كَذَا فِي إحْدَى الْبَلْدَتَيْنِ دُونَ الْأُخْرَى وَكَذَا مَطَالِعُ الشَّمْسِ؛ لِأَنَّ انْفِصَالَ الْهِلَالِ عَنْ شُعَاعِ الشَّمْسِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأَقْطَارِ حَتَّى إذَا زَالَتْ الشَّمْسُ فِي الْمَشْرِقِ لَا يَلْزَمُ أَنْ تَزُولُ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَذَا طُلُوعُ الْفَجْرِ وَغُرُوبُ الشَّمْسِ بَلْ كُلَّمَا تَحَرَّكَتْ الشَّمْسُ دَرَجَةً فَتِلْكَ طُلُوعُ فَجْرٍ لِقَوْمٍ وَطُلُوعُ شَمْسٍ لِآخَرِينَ وَغُرُوبٌ لِبَعْضٍ وَنِصْفُ لَيْلٍ لِغَيْرِهِمْ كَمَا فِي الزَّيْلَعِي‘‘۔ (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب الصوم، سبب صوم رمضان، ج۲ص۳۹۳، ط: دار الفکر، بیروت)
اور چوں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ۲۹؍ کو چاند دیکھ کر، روزہ رکھو اور چاند نظر نہ آئے؛ تو تیس پورا کرکے روزہ رکھو؛ اس لیے جب ہمیں ۲۹؍ کو چاند نظر نہیں آتا؛ تو اس رات، نہ تو ہم عرب والوں کے مطابق تراویح پڑھتے ہیں اور نہ ہی ان کے مطابق اگلے دن روزہ رکھتے ہیں۔
فتاوی عالم گیری میں ہے: ’’يَجِبُ أَنْ يَلْتَمِسَ النَّاسُ الْهِلَالَ فِي التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَعْبَانَ وَقْتَ الْغُرُوبِ فَإِنْ رَأَوْهُ صَامُوهُ، وَإِنْ غُمَّ أَكْمَلُوهُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا كَذَا فِي الِاخْتِيَارِ شَرْحِ الْمُخْتَار‘‘۔ (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رویۃ الھلال، ج۱ص۱۹۷، ط: دار الفکر، بیروت)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ((لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ)) (صحیح البخاری، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إذا رأیتم الھلال فصوموا…، ج۳ص۲۷، رقم: ۱۹۰۶، ط: دار طوق النجاۃ)
اور سائل کا یہ کہنا: ’’چاند کی تصدیق ہوچکی ہوتی ہے‘‘۔ اگر اس سے مراد افواہ یا پرنٹ میڈیا یا الکٹرانک میڈیا کی خبریں ہیں؛ تو چاند کے ثبوت میں افواہ اور ان خبروں کا کوئی اعتبار نہیں؛ اس لیے ان کے ذریعے چاند کے اعلان کو چاند کی تصدیق قرار دینا، درست نہیں، اور اگر گواہ وغیرہ کے ذریعہ شرعی ثبوت مراد ہے؛ تو یہ درست نہیں؛ کیوں کہ عرب ملک سے ہندستان کے لیے عام طور سے اس طرح کی شرعی تصدیق حاصل نہیں ہوتی؛ اس لیے ہندستان میں عرب والوں کے مطابق تروایح نہیں پڑھی جاتی اور نہ ہی روزہ رکھا جاتا ہے۔ ہاں اگر کبھی شرعی تصدیق حاصل ہوجائے؛ تو ضرور عرب والوں کے چاند کی رویت کے مطابق، تراویح پڑھی جائے گی اور روزہ بھی رکھا جائے گا۔
الدر المختار میں ہے: ’’(وَاخْتِلَافُ الْمَطَالِعِ) وَرُؤْيَتُهُ نَهَارًا قَبْلَ الزَّوَالِ وَبَعْدَهُ (غَيْرُ مُعْتَبَرٍ عَلَى) ظَاهِرِ (الْمَذْهَبِ) وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى بَحْرٌ عَنْ الْخُلَاصَةِ (فَيَلْزَمُ أَهْلَ الْمَشْرِقِ بِرُؤْيَةِ أَهْلِ الْمَغْرِبِ) إذَا ثَبَتَ عِنْدَهُمْ رُؤْيَةُ أُولَئِكَ بِطَرِيقٍ مُوجِبٍ كَمَا مَرَّ‘‘۔ (الدر المختار مع رد المحتار، امام حصکفی، کتاب الصوم، سبب صوم رمضان، ج۲ص۳۹۳، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت
اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا، ۲۶؍صفر المظفر ۱۴۴۳ھ
Lorem Ipsum