ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی (تعزیت و تاثر)
مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما
عالم نبیل، فاضل جلیل، حضرت مولانا ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی مصباحی علیہ الرحمۃ و الرضوان کا تقریبا پینتالیس سال کی عمر میں اچانک اس دنیاے فانی سےرخصت ہوجانا، اہل خانہ کے ساتھ، علماے اہل سنت، بالخصوص علماے گھوسی، علماے بستی اور دار العلوم مدینۃ العربیۃ، دوست پور کے علماے کرام و ذمہ داران کے لیے کافی تکلیف دہ ثابت ہوا، لیکن ہر جان کو ایک دن جان آفریں کے حوالے ہونا ہے، اسی ایمان و عقیدے کی بنیاد پر ان حضرات کے لیے صبر و تحمل کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔
علمی اعتبار سے حضرت ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی علیہ الرحمۃ کا درس و تدریس کے ساتھ، اردو نثر نگاری سے بڑا گہرا تعلق تھا، اس امر پر آپ کے پی ایچ ڈی کا مقالہ بنام: ’اردو نثر کے فروغ میں فقہی لٹریچر کا حصہ‘ اور آپ کی کتابیں اور اسی طرح آپ کے مختلف موضوعات پر مشتمل مختصر و مطول مقالات، شاہد عدل ہیں۔ آپ کی شخصیت علم دوست تھی اور علمی کام میں تعاون کرنےکا جزبہ صادقہ بھی رکھتی تھی، اسی جزبہ صادقہ کا نتیجہ ہے کہ جب میں نے آپ سے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے مقالات کے مجموعہ بنام: ’جواہر فقیہ ملت‘ پر ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۰۲۰ء میں تقدیم لکھنے کے لیے عرض کیا؛ تو آپ نے اپنی مختلف مصروفیات کے باوجود قبول کیا اور بہت ہی عمدہ پیرایہ میں تقدیم سپرد قرطاس فرمایا بلکہ جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ میں فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے مقالات کو جمع و ترتیب و تخریج کے ساتھ شائع کرنا چاہ رہا ہوں؛ تو آپ نے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے ایک مقالہ بنام: ’مختصر سوانح حیات حضور سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ‘ کی طرف رہنمائی بھی فرمائی اور اسی وقت برجستہ فرمایا کہ بستی شہر کی سہ ماہی میگزین ’سہ ماہی نوری نکات، بستی‘ میں عالی جناب نظام الدین نوری، بستی صاحب جس کے ایڈیٹر ہیں، انہوں نے ایک مضمون شائع کیا تھا، میں ان شاء اللہ اسے تلاش کرکے آپ کے حوالے کرتا ہوں، حضرت نے دو چند دن کے اندر ہی ۱۹۹۵ء کی میگزین سے مضمون تلاش کرکے، مجھے اس مضمون کی فوٹو بھی بھیج دی اور اس طرح آپ کے اس اہم علمی تعاون کے ذریعہ اسے بھی شامل مجموعہ کرلیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت سے میں نے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے مقالات کے بارے میں کچھ پوچھا نہیں تھا بلکہ صرف تقدیم لکھنے کی گزارش کی تھی مگر آپ نے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ سے لگاؤ اور اپنے علم دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے، اس اہم علمی مضمون کی طرف رہنمائی فرمائی۔
اخلاقی اعتبار سے بھی آپ کی ذات مسلم تھی، یوں تو میری آپ سے بہت زیادہ ملاقات نہیں، بچپن میں حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے عرس میں مختصر اور جامع انداز میں نظامت کرتے سنتا اور دیکھا کرتا تھا، پھر جامعہ ازہر شریف، مصر سے واپس ہونے کے بعد محترمی و مکرمی مولانا غلام نبی صاحب، غازی پریس، بستی کی مصاحبت میں جناب محمد رضی خان علیہ الرحمۃ، مینیجر دار العلوم مدینۃ العربیۃ، دوست پور کے چہلم میں جانا ہوا، اس وقت آپ سے ملاقات ہوئی ، اس کے بعد پھر وہی ’جواہر فقیہ ملت‘ پر تقدیم کے لیے گفت و شنید ہوئی، مگر اسی ایک ملاقات اور گفتگو سے یہ بخوبی اندازہ ہوگیا کہ آپ نہایت ہی سنجیدہ، علم دوست، علما نواز اور علمی کام کی حوصلہ افزاائی جیسے عمدہ اور بہترین اوصاف سے متصف تھے، آپ کے انہیں اخلاق حمیدہ کے سبب، جنازہ میں پہنچنے کے لیے وقت تنگ ہونے کے باوجود، آپ کے جنازہ میں خلیفہ حضور فقیہ ملت حضرت مولانا ریاض احمد برکاتی مصباحی، شیخ الحدیث جامعہ حنفیہ، رحمت گنج، بستی، مولانا غلام نبی صاحب، غازی پریس اور مولانا محمد شاکر علی نظامی، استاد جامعہ حنفیہ، رحمت گنج کی مصاحبت میں پہنچنے کی کوشش کی گئی اور الحمد للہ وقت پر پہنچ کر جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔
اللہ تعالی حضرت اعظمی علیہ الرحمۃ کی تمام تر دینی و علمی خدمات کو قبول فرماکر، آپ کے درجات کو بلندتر فرمائے، حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کا حقدار بنائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرنے کے ساتھ، آپ کے بچوں و بچیوں کے مستقبل کو بہترین و تابناک بنائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
دعا گو و دعا جو:
ابو عاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی
۱۵؍جمادی الآخرۃ ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۹؍جنوری ۲۰۲۲ء
Lorem Ipsum