کیا امامت کے لیے داڑھی لازم ہے یا صدق نیت ہی کافی ہے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امام مسجد کی غیر حاضری میں مقتدیوں کے راضی خوشی سے بغِیر داڑھی والا تعلیم یافتہ شخص امامت کرتا ہے کیا امامت کے لیے داڑھی ہونا لازمی ہے؟ یا کہ صرف صدق نیت ہی ہونی چاہیے ؟
المستفتی: ماسٹر محمد امین شیخ صاحب قبلہ بیواں چوراہا ڈومریا گنج سدھارتھ نگر۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اگر امام کو داڑھی اگتی ہے؛ تو امامت کے لیے داڑھی والا ہونا ضروری ہے؛ کیوں کہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب اور منڈانا حرام ہے۔
اور یہاں صرف صدق نیت کافی نہیں؛ کیوں کہ حکم ظاہری اعتبار سے لگتا ہے؛ لہذا جب امامت کرنے والا ایک مشت داڑھی کم کرکے یا منڈاکر، احکام شرعیہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے؛ تو حکم اسی ظاہری مخالفت کے لحاظ سے ہوگا۔
اگر اس طرح کی نیت کا دروازہ کھول دیا جائے؛ تو بے انتہا مفاسد کے دروازے کھلیں گے، مثلا کوئی علانیہ شراب پیے اور اسے امامت سے منع کیا جائے؛ تو کہے کہ میری نیت صادق ہے، اب کوئی بھی بد سے بد کام کرتا رہے اور یہ کہ کر کہ میری نیت صادق ہے، امامت کے لیے کھڑا ہوجائے، و العياذ بالله تعالی۔
دنیا کے اعتبار سے ہی لے لیجیے، اگر کوئی شخص کسی کمپنی میں کام کرے اور اسے کمپنی کا مالک کہ دے کہ پہلا کام درست کروگے؛ تو تمھارا دوسرا کام قابل قبول ہوگا ورنہ نہیں، اب اس نے پہلا کام درست نہیں کیا؛ تو اس کا دوسرا کام بھی قابل قبول نہیں ہوگا، اب وہ لاکھ کہتا رہے کہ میری نیت صادق تھی، مگر پھر بھی اس کا کام قابل قبول نہ ہوگا۔
اسی طرح احکام شرعیہ کا ایک حکم امامت کا ہے، جس میں ضروری ہے کہ امام فاسق معلن نہ ہو، اگر ہوگا؛ تو نماز اس کے پیچھے جائز نہ ہوگی اور داڑھی منڈا یا ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والا، فاسق معلن ہے؛ لہذا اس کی امامت درست نہیں اور نہ اس کے پیچھے نماز جائز۔
لہذا مذکورہ صورت میں داڑھی منڈہ یا ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والے کی امامت درست نہیں، امامت کرنے والا اور اس کے پیچھے راضی برضا نماز پڑھنے والے، سب گنہ گار ہیں، انھیں اپنی اس حرکت سے باز آنا لازم اور ہمیشہ با شرع امام کا اہتمام ضروری۔ و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
٢٥/ذی الحجۃ ٤٥ھ
Lorem Ipsum