کفار کی دیوی کی شان میں شعر پڑھنے اور اس پر انعام دینے والے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید ایک خانقاہ سے تعلق رکھتا ہے اور بہت سے اس کے مرید بھی ہیں، زید نے حال ہی میں ایک قوالی کی محفل میں شرکت کی، صدرِ جلسہ کی حیثیت سے اور اس محفل قوالی میں، درج ذیل اشعار بھی پڑھے گئے اور لوگوں نے قوال کو  اس شعر پر انعام دیا، زید کے ہاتھ میں اور مسکرا کر، قبول بھی کرتا ہے اور قوال کو  دیتا ہے۔

شعر درج ذیل ہے:

امے میلڈی ماتا نا بھروسے

امے انبے ماتا نا بھوسے

امے کھوڈیار ماتا نا بھروسے

(میلڈی۔  اور انبے۔ اور کھوڈیار۔   یہ ہنود کی دیوی کا نام ہے، انکے مندر، گجرات میں جگہ بہ جگہ، موجود ہیں)

یہ اشعار گجراتی زبان میں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے  کہ: ہم آپ کے سہارے ہے امبے ماتا وغیرہ۔

اب دریافت طلب یہ کہ زید پر اور جو وہاں مسلمان شریک ہیں، ان پر حکم شرعی کیا ہے۔ نوٹ:اس قوالی کی محفل میں مسلمان اور ہنود دونوں شامل تھے۔

سائل:  محمد سمیر رضا

از بڑودا گجرات

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب کافروں کے معبودان باطلہ  کی شان میں اشعار کہنا یا  اس پر انعام دینا یا ان اشعار سے راضی ہونا، کفر ہے؛ لہذا صورت مسؤلہ میں کافر کے معبود باطل، دیوی کی شان میں اشعار کہنے والاقوال، ان اشعار پر انعام دینے والے، زید وغیرہ  اور ان اشعار سے راضی ہونے والے، سب  کفر کے مرتکب ہوئے، ان سب پر توبہ، تجدید ایمان اور بیوی والے ہوں؛ تو تجدید نکاح لازم ہے۔ اور جو لوگ اس قوالی کی محفل میں شریک تو ہوئے مگر نہ تو انھوں نے کافر کے معبود باطل دیوی کی شان میں شعر پڑھا، نہ ہی اس کی شان میں پڑھے گئے شعر پر انعام دیا اور نہ ہی معبود باطل کی شان میں پڑھے گئے شعر سے راضی رہے؛ تو وہ سب کفر کے مرتکب تو نہیں، مگر سخت گنہ گار ہوئے؛ لہذا ان سب پر فرض ہے کہ اپنے اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور تمام لوگ، آئندہ  اس طرح کی حرکات شنیعہ سے باز رہیں۔

اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’مگر کفار کے مذہبی جذبات اور ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں کو عزت دینا، صریح کلمہ کفر ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی، کتاب السیر، ج۶ص۱۲۵، ط: رضا اکیڈمی، ممبئی)

غمز عیون البصائر میں ہے: ’’اتفق مشایخنا أن من رأی أمر الکفار حسنا، فقد کفر‘‘۔ (غمز عیون البصائر، علامہ حموی، کتاب السیر، ج۲ص۲۰۳، ط: إدار القرآن و العلوم الإسلامیۃ، کراچی، پاکستان)

رد المحتار میں ہے: ’’وَالرِّضَا بِالْكُفْرِ كُفْر‘‘۔ (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب الجھاد، مطلب فی أحکام الکنائس و البیع، ج۴ص۲۰۵، ط: دار الفکر، بیروت)

اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’ان کا میلہ دیکھنے کے لیے جانا، مطلقا ناجائز ہے۔ اگر ان کا مذہبی میلہ ہے، جس میں وہ اپنا کفر و شرک کریں گے، کفر کی آوازوں سے چلائیں گے، جب تو ظاہر ہے اور یہ صورت سخت حرام، من جملہ کبائر ہے، پھر بھی کفر نہیں، اگر کفری باتوں سے نافر ہے، ہاں معاذ اللہ، ان میں سے کسی بات کو پسند کرے یا ہلکا جانے؛ تو آپ ہی کافر ہے، اس صورت میں عورت نکاح سے نکل جائےگی اور یہ اسلام سے۔ ورنہ فاسق ہے اور فسق سے نکاح نہیں جاتا، پھر بھی وعید شدید ہے اور کفریات کو تماشا بنانا، ضلال بعید ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی، کتاب العقائد و  الکلام، ج۱۸ص۱۰۶، ط: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت،  اوجھاگنج، بستی، یوپی۔

۲۴؍جمادی الآخرۃ ۱۴۴۵ھ

 

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.