کافر کو قرآن پڑھنے کے لیے دینا اور اس کا قرآن چھونا کیسا ہے؟

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ غیر مسلم قرآن پڑھنے لینے کو کہ رہا، وہ پڑھےگا، دین سے لگاؤ ہے اسے، لیکن کافر ہے، تو اسے قرآن لے کے دیناکیسا ہے؟

المستفتی: شمیم رضا نوری، بستی۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب کافر کو قرآن پاک اور فقہ کی تعلیم دینا جائز ہے،مگر اس کو قرآن پاک دینا، جس میں اسے چھونے کی ضرورت پڑےگی، اور چھونے کے بارے میں ائمہ احناف کا اختلاف ہے، امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیہم الرحمۃ کے نزدیک، کافر کو مطلقا قرآن پاک، چھونا جائز نہیں اور امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیک اگر کافر غسل کرلے؛ تو اس کے لیے قرآن شریف چھونا جائز ہے اور بعض معتبر کتب فقہ میں ملتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی غسل کرنے کی صورت میں کافر کے لیے، قرآن پاک چھونا جائز ہے۔ راجح جواز ہی سمجھ میں آتا ہے، البتہ اس صورت میں بھی اگر قرآن پاک کے حروف کو کافر کے چھونے سے بچایا جائے؛ تو بہتر ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے: ’’وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ لَا يَتْرُكُ الْكَافِرَ أَنْ يَمَسَّ الْمُصْحَفَ لِأَنَّ الْكَافِرَ نَجَسٌ فَيَجِبُ تَنْزِيهُ الْمُصْحَفِ عَنْ مَسِّهِ‘‘۔ (بدائع الصنائع، امام کاسانی، کتاب الطھارۃ، فصل الغسل، ج۱ص۳۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الدر المختار میں ہے: ’’وَيُمْنَعُ النَّصْرَانِيُّ مِنْ مَسِّهِ، وَجَوَّزَهُ مُحَمَّدٌ إذَا اغْتَسَل  وَلَا بَأْسَ بِتَعْلِيمِهِ الْقُرْآنَ وَالْفِقْهَ عَسَى يَهْتَدِي‘‘۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’(قَوْلُهُ: وَيُمْنَعُ النَّصْرَانِيُّ) فِي بَعْضِ النُّسَخِ الْكَافِرُ، وَفِي الْخَانِيَّةِ الْحَرْبِيُّ أَوْ الذِّمِّيُّ (قَوْلُهُ: مِنْ مَسِّهِ) أَيْ الْمُصْحَفِ بِلَا قَيْدِهِ السَّابِقِ (قَوْلُهُ: وَجَوَّزَهُ مُحَمَّدٌ إذَا اغْتَسَلَ) جَزَمَ بِهِ فِي الْخَانِيَّةِ بِلَا حِكَايَةِ خِلَافٍ. قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَعِنْدَهُمَا يُمْنَعُ مُطْلَقًا‘‘۔ (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب الطھارۃ، سنن الغسل، ج۱ص۱۷۷، ط: دار الفکر، بیروت)

البحر الرائق میں ہے: ’’وَالنَّصْرَانِيُّ إذَا تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ يُعَلَّمُ وَالْفِقْهُ كَذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ عَسَى يَهْتَدِي لَكِنْ لَا يَمَسُّ الْمُصْحَفَ، وَإِذَا اغْتَسَلَ ثُمَّ مَسَّ لَا بَأْسَ بِهِ فِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ وَعِنْدَهُمَا يُمْنَعُ مِنْ مَسِّ الْمُصْحَفِ مُطْلَقًا‘‘۔ (البحر الرائق، امام ابن نجیم، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج۱ص۲۱۲، ط: دار الکتب الإسلامی)

مندرجہ بالا عبارتوں سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رعلیہم الرحمۃ، کافر کے لیے قرآن شریف چھونے سے متعلق، مطلق ممانعت کے قائل ہیں اور اگر غسل کرلے؛ تو امام محمد کے نزدیک چھو سکتا ہے۔ لیکن ’الأشباہ و النظائر‘ میں ہے کہ اگر نصرانی غسل کرلے؛ تو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی، اسے قرآن شریف چھونے کی اجازت ہے۔

الأشباہ و النظائر میں ہے: ’’قال في الملتقط: قال أبو حنیفة: أعلم النصراني الفقه و القرآن لعله یھتدي، و لایمس المصحف، و إن اغتسل ثم مس؛ فلا بأس به، انتھی‘‘۔ (الأشباہ و النظائر مع حاشیۃ الحموی، امام ابن نجیم، القاعدۃ الثانیۃ: الأمور بمقاصدھا، ج۱ص۱۶۸، ط: زکریا بکڈپو)

نیز البحر الرائق میں قاضی سغدی کے حوالے سے جواز کا قول موجودہے: ’’وَفِي الذَّخِيرَةِ إذَا قَالَ الْكَافِرُ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ أَوْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ: عَلِّمْنِي الْقُرْآنَ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُعَلِّمَهُ وَيُفَقِّهَهُ فِي الدِّينِ قَالَ الْقَاضِي عَلِيٌّ السُّغْدِيُّ إلَّا أَنَّهُ لَا يَمَسُّ الْمُصْحَفَ فَإِنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ مَسَّهُ فَلَا بَأْسَ بِه‘‘۔ (البحر الرائق، امام ابن نجیم، کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع، بیع بناء بیوت مکۃ أو أراضیھا، ج۸ص۲۳۱، ط: دار الکتاب الإسلامی)

مزید حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں بھی جواز کا ذکر ہے: ’’الحربي أو الذمي إذا طلب تعلم القرآن والفقه والأحكام يعلم رجاء أن يهتدي لكن يمنع من مس المصحف إلا إذا اغتسل فلا يمنع بعد ذلك‘‘۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب الحیض و النفاس و الاستحاضۃ، ص۱۴۳، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ان مختلف اقوال کے پیش نظر، اب اس بات پر غور کرنا ہے کہ کافر کے غسل کے بعد، اس کو قرآن پاک چھونے کے جواز کو ترجیح حاصل ہوگی یا عدم جواز کو راجح قرار دیا جائےگا۔ امام طحطاوی علیہ الرحمۃ، نے ’مراقی الفلاح‘ کے حاشیہ میں جواز کا قول کیا ہے، مگر آپ نے  ’الدر المختار‘ کے حاشیہ میں عدم جواز کو ترجیح دی ہے اور  اس پر یہ دلیل پیش فرمائی ہے   کہ عدم جواز کا قول کرنے میں امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیہم الرحمۃ، ایک ساتھ ہیں اور جواز کا قول کرنے میں امام محمد علیہ الرحمۃ منفرد ہیں۔

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے: ’’قوله: (یمنع النصراني من مسه) لو قال: و یمنع الکافر لکان أولی؛ إذ النصراني لیس بقید فیما یظھر، و الضمیر في مسه یرجع للمصحف مطلقا، کما ھو في نسخة، قوله: (و جوزہ محمد إذا اغتسل) الظاھر اعتماد الأول لانفراد محمد بھذا‘‘۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الطھارۃ،  ج۱ص۵۰۳، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیرت)

مگر جواز کا قول کرنے میں امام محمد علیہ الرحمۃ کے تنہا ہونے کا یہ قول  محل نظر ہے، جیسا کہ ’الأشباہ و النظائر‘ کے حوالے سے گزرا، نیز  فتاوی عالم گیری میں ہے: ’’قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -: أُعَلِّمُ النَّصْرَانِيَّ الْفِقْهَ وَالْقُرْآنَ لَعَلَّهُ يَهْتَدِي، وَلَا يَمَسُّ الْمُصْحَفَ، وَإِنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ مَسَّ لَا بَأْسَ، كَذَا فِي الْمُلْتَقَطِ‘‘۔ (الفتاوی الھندیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد، ج۵ص۳۲۳، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ بالا فقہاے کرام کے  بعض اقوال سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام یوسف علیہم الرحمۃ، عدم جواز کا قول کرنے میں ایک ساتھ ہیں اور امام محمد علیہ الرحمۃ، جواز کا قول کرنے میں تنہا ہیں اور بعض اقوال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد علیہم الرحمۃ، جواز کا قول کرنے میں ایک ساتھ ہیں اور امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ، عدم جواز کا قول کرنے میں تنہا ہیں۔

اس صورت حال میں ایسا ممکن ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ نے جواز و عدم جواز، دونوں طرح کا قول کیا ہو، مگر تقدیم و تاخیر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے دونوں اقوال میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا مشکل ہے۔ البتہ ’فتاوی خانیہ‘ کے طریقہ کار سے سمجھ میں آتا ہے کہ ترجیح، جواز کے قول کو حاصل ہونی چاہیے؛ کیوں کہ ’فتاوی خانیہ‘ میں صرف جواز کے قول کو ذکر کیا گیا ہے اور یہ معروف و مشہور ہے کہ اس کتاب میں پہلے راجح قول درج کیا جاتا ہے، پھر دوسرے اقوال، ذکر کیے جاتے ہیں اور یہاں تو صرف ایک ہی قول ذکر کیا گیا ہے؛ اس لیے بدرجہ اولی اسے ہی راجح ہونا چاہیے۔

فتاوی خانیہ میں ہے: ’’الحربي و الذمي إذا طلب تعلم القرآن، یعلّم و کذا إذا طلب الفقه و الأحکام، رجاء أن یھتدي إلی الحق، لکنه یمنع من مس المصحف إلا إذا اغتسل؛ فلا یمنع بعد ذلك‘‘۔ (الفتاوی الخانیۃ، علی ھامش فتاوی عالم گیری، ج۱ص۱۶۳، مسائل کیفیۃ القراءۃ و ما یکرہ فیھا و ما یستحب، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

شاید اسی کے پیش نظر، فتاوی ملک العلماء اور سال نامہ فتاوی مرکز تربیت افتا میں غسل کے بعد، کافر کو قرآن پاک کے چھونے پر جواز کا فتوی دیا گیا ہے۔

ملک العلماء ظفر الدین بہاری علیہ الرحمۃ، عربی کتب سے جزئیات نقل کرنےکے بعد فرماتے ہیں: ’’………….لیکن بغیر غسل، قرآن شریف کو ہاتھ نہ لگائے اور اگر نہایت پاک و صاف ہوکر مصحف شریف کو چھوئے؛ تو کوئی حرج نہیں‘‘۔ (فتاوی ملک العلماء، ملک العلماء ظفر الدین بہاری، کتاب الحظر و الإباحۃ، ص۳۱۰، ط: المجمع الرضوی، بریلی شریف)

سال نامہ فتاوی مرکز تربیت افتا میں ہے: ’’لہذا اگر وہ غسل و طہارت کاملہ کا اہتمام کریں، یعنی شرعی طریہ پر غسل و وضو کریں اور قرآن مقدس چھوتے اور پڑھتے وقت، طہارت کاملہ کا التزام رکھیں؛ تو ان کو قرآن کی تعلیم دی جاسکتی ہے، ورنہ نہیں‘‘۔ (سال نامہ نمبر ۸، ص۶۷، ط: فقیہ ملت اکیڈمی، اوجھاگنج، بستی)

لیکن حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمۃ کی عبارت سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آپ کے نزدیک، کافر کو مطلقا، قرآن پاک چھونے کی اجازت نہیں۔

بہار شریعت میں ہے: ’’کافر کو مصحف چھونے نہ دیا جائے بلکہ مطلقا حروف، اس سے بچائیں‘‘۔ (بہار شریعت، صدر الشریعۃ، غسل کا بیان،  ج۱ح۲ص۳۲۷، ط: قادری کتاب گھر، بریلی شریف)

مگر غور کیا جائے؛ تو بہار شریعت کے دو اجزا ہیں، ایک: ’’کافر کو مصحف چھونے نہ دیا جائے‘‘۔ دوسرا: ’’بلکہ مطلقا حروف اس سے بچائیں‘‘۔

پہلے جز کے متعلق یہ تطبیق ہوسکتی ہے کہ غسل کے بعد کافر کے لیے قرآن پاک چھونا؛ تو جائز ہے مگر بہتر ہے کہ اب  بھی وہ  قرآن پاک نہ چھوئے۔

یہاں دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے  کہ حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمۃ کے نزدیک، طہارت کے بغیر ، قرآن پاک، چھونے کی اجازت نہیں اور اگر طہارت حاصل کرلے؛ تو اب اسے چھونے کی اجازت ہے۔

نیز اس کے متعلق، تیسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ  جن فقہاے عظام نے جواز کا قول کیا ہے، ان کے نزدیک، کافر کو غسل کرنے کے بعد، اس وقت قرآن پاک چھونا جائز ہے، جب کہ اسے قرآن پاک سیکھنا ہوورنہ نہیں اور حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمۃ کے نزدیک، اگر کافر کو قرآن پاک سیکھنا، مقصود نہ ہو؛ تو چھونے کی اجازت نہیں، البتہ اگر وہ قرآن پاک سیکھنا چاہتا ہے؛ تو شرعی طور پر غسل کرنے کے بعد، اسے قرآن پاک چھونے کی اجازت ہوگی۔

اور دوسرے جز کے بارے میں یہ تطبیق دی جاسکتی ہے کہ متعدد فقہاے کرام نے  غسل کے بعد، قرآن پاک چھونے کے جواز کا قول تو کیا ہے، مگر ان کے اقوال میں کہیں حروف چھونے کی اجازت نہیں ہے اور حضرت صدر الشریعۃ علیہ الرحمۃ نے اس کے لیے قرآن پاک کے  حروف ہی کو چھونے سے مطلقا، بچانے کی بات کی ہے، نہ کہ غسل کے بعد، مطلقا قرآن پاک چھونے سے منع فرمایا ہے۔ و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۹؍شعبان المعظم  ۱۴۴۵ھ

 

 

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.