وقف بدلنے کا حکم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرح، مسئلہ ذیل میں کہ:
اگر کسی شخص نے مدرسہ تعمیر کرنے کے لیے زمین وقف کی کہ اس زمین پر مدرسہ بناکر بچوں کو تعلیم دی جائے تو کیا ایسی زمین کو فروخت کیا جاسکتا ہےاور زمین کو خرید کر گھر بنواسکتے ہیں یا مدرسے کی کمیٹی اس زمین کو بیچ سکتی ہے کسی کو ایسی زمین پر مکان، دکان یا اور کوئی چیز بنانا کیسا ہے، شریعت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ واضح کریں قرآن و حدیث کی روشنی میں؟
المستفتی: سیف خان قادری مرکزی (کانپور)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اگر کسی شخص نے مدرسہ تعمیر کرنے کے لیے زمین وقف کردی؛ تو اب اس زمین کو بیچنا یا اس زمین کو خرید کر اس پر گھر بنوانا یا کمیٹی کا اس زمین کا بیچنا یا اس زمین پر دکان وغیرہ بنانا کچھ بھی درست نہیں بلکہ ناجائز و حرام ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ فَلَا يَجْعَلُ الدَّارَ بُسْتَانًا وَلَا الْخَانَ حَمَّامًا وَلَا الرِّبَاطَ دُكَّانًا‘‘۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الوقف، الباب الرابع عشر فی المتفرقات، ج۲ص۴۹۰، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۱؍صفر المظفر ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum