نواسی کا اپنے خالو خالد سے نکاح کا حکم

سوال ہندہ نے زید سے نکاح کیا، زید سے ہندہ کو ایک لڑکی پیدا ہوئی، زید نے تین سال کے بعد ہندہ کو طلاق دے دیا، لڑکی ہندہ کے پاس ہی رہی، ہندہ نے پھر بکر سے دوسری شادی کرلی، بکر سے بھی ہندہ کو ایک لڑکی پیدا ہوئی، ہندہ نے اپنی پہلے شوہر والی لڑکی کی شادی عمرو اور دوسرے شوہر والی لڑکی کی شادی خالد سے کردی، پھر دوسرے شوہر والی لڑکی کا انتقال ہوگیا اور پہلے شوہر والی لڑکی سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اب ہندہ اس لڑکی یعنی اپنی نواسی کی شادی اپنے پہلے لڑکی کے شوہر یعنی داماد سے کرنا چاہتی ہے، تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟

المستفتی: ابرار احمد، مسلم پیکولیا۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب صورت مذکورہ میں دوسرے شوہر والی لڑکی، نواسی کی خالہ ہوئی، تو جب دوسرے شوہر والی لڑکی کا انتقال ہوگیا تو نواسی کا اپنے خالو خالد سے نکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ رضاعت وغیرہ کوئی اور وجہ مانع نہ ہو؛ اس لیے کہ عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہےاور مذکورہ مسئلہ میں جمع کی صورت نہیں؛ لہذا دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے۔

الفتاوی الہندیۃ میں ہے: ’’فَلَا يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَعَمَّتِهَا نَسَبًا أَوْ رَضَاعًا، وَخَالَتُهَا كَذَلِكَ‘‘۔ (ج۱ص۲۷۷، القسم الرابع المحرمات بالجمع، ط: دار الفکر)

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۲۲؍شعبان المعظم۳۷ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.