نعت خوانی کے لیے کب پیسہ لینا اور دینا دونوں حرام اور کب حلال ہے.

٣٥٢٧١/١٥
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں
نعت خوانی کے لیے پیسہ طے کرنا یا بغیر طے کئے لینا دینا کیسا ہے ؟ نیز اگر دینے کی کوئی صورت ہے تو اس سے بھی آگاہی فرما دیں؟
سائل : محمد تفسیر احمد جامعی، بارہ بنکوی
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب نعت خوانی پر اجرت مقرر کرنا اور اسے لینا نا جائز و حرام، لینے والا ، دینے والا دونوں گنہ گار ہیں ؛ کیوں کہ نعت خوانی طاعت
و عبادت ہے اور طاعت و عبادت پر اجارہ جائز نہیں، اجرت یہی نہیں جو پہلے سے مقرر کریں کہ یہ لیں گے ، بلکہ اگر پڑھنے والے کو
معلوم ہو کہ وہاں کچھ ملے گا اور پڑھوانے والا بھی جانتا ہو کہ کچھ دینا ہے، اگر چہ طے نہ بھی کریں جب بھی حرام ہے کہ جو چیز عرفا معہود و
متعین ہو وہ مشروط کے درجہ میں ہوتی ہے۔
فتاوی جامعہ اشرفیہ میں ہے:
“نعت خوانی اطاعت ہے اور اطاعت پر اجرت لینا حرام ہے”-١ھ(کتاب الحظر والاباحۃ ، ج:١۱،ص:۷۲۴، مجلس برکات
جامعہ اشرفیہ)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ اجرت مقرر کرنے والے نعت خواں کے بارے میں فرماتے ہیں:
“زید نے جو راگ سے پڑھنے کی اجرت مقرر کر رکھی ہے نا جائز و حرام ہے اس کا لینا اسے ہرگز جائز نہیں اس کا کھانا صراحۃ حرام
کھانا ہے…. سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پاک خود عمدہ طاعت و اجل عبادت سے ہے اور طاعت و عبادت پر فیس لینی
حرام- اھ (فتاوی رضویہ ، مجلس و محافل کا بیان، ج: ۲۳،ص:٧٢٤، ط: مرکز اہل سنت برکات رضا، پور بندر)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
“لا يجوز الإستئجار على الطاعات كتعليم القران والفقه والأذان والتذكير … ولا يجب الأجر كذافي الخلاصة”- ١هـ ( كتاب الاجارة، الباب السادس عشر ، ج: ٤ ، ص: ٤٤٨ ، ط: دار احياء التراث العربي،بیروت)
اسی میں ہے:
“ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء… وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي
حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى كذا في غاية البيان” ١ه‍( كتاب الاجارة، الباب السادس
عشر، ج: ٤ ، ص: ٤٤٩ ، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
الاشباہ والنظائر میں ہے:
“قال في إجارة الظهيرية : المعروف عرفا كالمشروط شرعا” اه‍ (الفن الاول، القاعدة السادسة ، ج:۱،
ص: ۲۷۸، ط: زکریا بک ڈپو ،دیوبند)
اسی جیسے مسئلہ کے بارے میں اعلی حضرت دوسری جگہ فرماتے ہیں:
“میلاد پاک حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور من جملہ عبادت و طاعت ہیں ، تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام محذور … اور اجارہ
جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے، عرفا شرط معروف و معہود سے بھی ہو جاتا ہے مثلا پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ
نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہو گا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملے گا، انہوں نے اس طور پر پڑھا اور انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا، اجارہ ہو
گیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا، ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام، دوسرے اجرت اگر عرفا معین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد
یہ دوسرا حرام” -اھ (کتاب الاجارة ، ج: ۱۹،ص:٤٨٦، ٤٨٧، ط: مرکز اہل سنت برکات رضا، پور بندر )
ہاں اگر پڑھنے والا پہلے ہی سے صراحۃ کہہ دے کہ میں کچھ نہیں لوں گا یا پڑھوانے والا صاف انکار کر دے کہ تمہیں کچھ نہ دیں گے،
اس کے بعد پڑھے ، پھر وہاں کے لوگ اگرچہ پڑھوانے والا ہی ہو بطور صلہ اسے کچھ دیں ، تو اس کا لینا دینا حلال ہے ؛ کیوں کہ صراحت کو
دلالت پر فوقیت ہوتی ہے۔
یا اگر بلانے والے نعت خواں سے مطلق کار خدمت پر متعین وقت میں اجارہ کر لیں مثلا اس سے کہیں کہ ہم نے کل رات سات
بجے سے بارہ بجے تک بعوض ایک ہزار کے اپنے کام کاج کے لیے اجارہ میں لیا، وہ کہے کہ میں نے قبول کیا اب یہ پڑھنے والا اتنے
گھنٹوں کے لیے ان کا نوکر ہوگیا، وہ جو کام چاہیں اس سے لیں اس کے بعد ، اگر اس سے نعت خوانی کرائیں، تو یہ صحیح و درست ہے اور اس
پر اجرت کا لین دین بھی جائز ہے۔
فتاوی رضویہ میں اس تعلق سے ہے:
” اس کے حلال ہونے کے دو طریقے ہیں: اول یہ کہ … پڑھنے والے صراحۃ کہہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے ، پڑھوانے والے صاف
انکار کر دیں کہ تمہیں کچھ نہ دیا جائے گا، اس شرط کے بعد وہ پڑھیں ، اور پھر پڑھوانے والے بطور صلہ جو چاہیں دے دیں، یہ لینا دینا حلال
ہو گا … دوم پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعیین وقت واجرت ان سے مطلق کار خدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے
لیں، مثلاً یہ ان سے کہیں ، ہم نے کل صبح سات بجے سے بارہ بجے تک بعوض ایک روپیہ کے اپنے کام کاج کے لیے اجارہ میں لیا، وہ
کہیں ہم نے قبول کیا، اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کے لیے ان کے نوکر ہو گئے، وہ جو کام چاہیں لیں، اس اجارہ کے بعد وہ ان سے
کہیں، اتنے پارے کلام اللہ کے پڑھ کر ثواب فلاں کو بخش دو، یا مجلس میلاد مبارک پڑھ دو، یہ جائز ہوگا، اور لینا دینا حلال” – اھ (کتاب
الاجارة ، ج : ۱۹، ص: ٤۸۸،٤۸۷، ط: مرکز اہل سنت برکات رضا، پور بندر )
رد المحتار میں ہے:
“(لأن الصريح الأخ) أي يعتبر ما شرطا … لأن الشرط صريح و العرف دلالة والصريح أقوى”-١ھ ( كتاب النكاح ، باب المهر، ج: ٤ ، ص: ۲۹۱، ط: زکریا بک ڈپو ، دیوبند)
بہار شریعت میں ہے:
“اجرت صرف یہی نہیں کی پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے ،اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط ہاں اگر کہہ دیں کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھیں اور… خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصريح يفوق الدلالة” -اه‍ (تراویح کا بیان،ج:١،ص:٦٩٢،ط: المکتبۃ المدینہ ،کراچی۔ایسا ہی فتاوی بحر العلوم،ج:٤،ص:٥٠، ٥١،ط: امام احمد رضا اکیڈمی ،بریلی شریف میں ہے والله تعالی أعلم
کتبہ: محمد عدنان رضا الجامعي
دارالافتاء مرکز تربیت افتا أوجھاگنج ،بستی،یوپی
٢٧/ربیع الآخر ١٤٤٧ھ م٢٠/اکتوبر ٢٠٢٥ء

الجواب صحیح: والله تعالی أعلم
ابرار احمد امجدی برکاتی
صدر شعبۂ افتا مرکز تربیت افتا ،اوجھاگنج،بستی
وبانی جامعہ اہل سنت برکات امجدی ،بستی(یوپی)
٢٧/ربیع الآخر ١٤٤٧ھ م٢٠/اکتوبر٢٠٢٥ء

الجواب صحیح: و الله تعالی أعلم
ازہار احمد امجدی
خادم مرکزی تربیت افتاوخانقاہ امجدیہ ،اوجھاگنج،بستی
٢٧/ربیع الآخر ١٤٤٧ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.