مفتی ابو طالب علیہ الرحمۃ (تعزیت و تاثر)

مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما

ہر ایک کو ایک نہ ایک دن  کل نفس ذائقة الموت کی حقانیت کے مطابق، اس دار فانی سے کوچ کرکے، دار بقا کی طرف جانا ہے، ان میں عام طور سے  ایسے لوگ ہوتے ہیں، جن کی یادیں تیجا و چالیسواں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں؛ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے زندگی میں کوئی ایسا اہم کام نہیں کیا ہوتا ہے؛ جس کے سہارے انہیں یاد کیا جاتا رہے، بس کھایا پیا اور ددنیا سے رخصت ہوگئے،  مگر انہیں میں کچھ ایسے اللہ تعالی کے نیک بندے بھی ہوتے ہیں، جن کے کچھ اہم کاموں کی بنیاد پر انہیں ایک طویل زمانہ تک، گاہے بگاہے یاد کیا جاتا رہتا ہے۔

         انہیں میں سے دور حاضر کے ایک عالم دین مفتی ابو طالب فیضی علیہ الرحمۃ کی ذات ہے، آپ ابناے فیض الرسول، براؤں شریف کے درمیان امتیازی شان رکھتے تھے، آپ کے اندر کام کرنے کا جذبہ صادقہ تھا، آپ بزرگان دین بالخصوص حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمۃ و الرضوان سے بہت عقیدت رکھتے تھے، اور اپنے اساتذہ بالخصوص حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ سے محبت و لگاؤ کا ہمیشہ اظہار فرماتے تھے؛ یہی وجہ ہے کہ آپ  حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے ہر عرس اور جشن دستار مفتیان اسلام میں ضرور تشریف لاتے تھے اور اصلاحی خطاب کے ذریعہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرتے تھے، نیز اسی محبت ہی کا نتیجہ تھا کہ جب خطیب ذی شان حضرت مولانا شمس القمر فیضی صاحب قبلہ نے ۱۴۴۱ھ کے عرس فقیہ ملت میں اپنے خطاب کے درمیان، آپ کے مزار کی عدم تکمیل سے متعلق، یوں افسوس کا اظہار کیا کہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے کثیر تعداد میں شاگرد باحیات ہونے اور بیس سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود، اب تک آپ کا مزار شریف مکمل نہیں ہوسکا اور جب فیضی صاحب قبلہ نے اپنے خطاب کے درمیان اس افسوس کا حل یہ پیش کیا کہ فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کے جتنے شاگرد ہیں، سب دس دس یا گیارہ گیارہ ہزار یا اپنی بساط کے مطابق جو ہو سکے، اسے جمع کرنے کے لیے نام درج کرادیں تاکہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کا مزار شریف باآسانی اور جلد از جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے، دو چند لوگوں کا نام درج ہونے کے بعد جب مفتی ابو طالب رحمہ اللہ کانام آیا؛ تو آپ نے فوارا لبیک کہا اور بلا تامل آپ یہ گیارہ ہزار کی خطیر رقم جمع کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ آپ اساتذہ سے محبت کے ساتھ ان کی اولاد سے بھی محبت کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جب بھی عرس فقیہ ملت میں آپ سے میری ملاقات ہوتی؛ تو آپ بڑی خندہ پیشانی سے ملتے اور حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کا ذکر جمیل ضرور فرماتے۔

 آپ عالم دین ہونے کے ساتھ اچھے اخلاق و کردار کے مالک تھے، تحریر و تالیف سے اچھا شغف رکھتے تھے، اس پر آپ کے قیمتی مقالات اور کتابیں شاہد عدل ہیں اور خطابت کی دنیا میں آپ کو ید طولی حاصل تھا، اصلاحی بیانات پر زور دیتے تھے، آپ کے عمدہ بیانات آپ کے اس وصف جمیل کی غمازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی فیضی صاحب قبلہ کی بے حساب مغفرت فرمائے، آپ کے ساتھ قبر کے معاملات کو آسان تر فرمائے، آپ کو کروٹ کروٹ جنت عطا کرے، اہل خانہ اور تمام محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

دعا جو و دعا گو:

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یو پی

۸؍جمادی الآخرۃ ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۱؍جنوری ۲۰۲۲ء

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.