مرتد کی اولاد کافر یا مرتد؟ نیز حدیث سے عمر میں اضافہ کا مطلب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:
سوال: ۱، کیا مرتد کی اولاد مرتد ہوتی ہے یا کافر۔
سوال:۲، کیا صدقہ اور صلہ رحمی سے سے عمر زیادہ ہوسکتی ہے یا نہیں؛ کیوں کہ بعض احادیث میں ہے کہ جو نیکی کرے گا اس کی عمر بڑھ جاتی ہے؛ تو اس بڑھنے کیا مراد ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: محمد الیاس۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اگر والدین کے مرتد ہونے کے وقت اولاد منفصل موجود تھیں؛ تو اس صورت میں اولاد کو مسلم قرار دیا جائے گا البتہ اگر ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے ایک اولاد کو لے کر دار الحرب چلا جائے؛ تو اولاد مرتد ہوگی مگر اانہیں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ بالغ ہونے کے بعد اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر مرتد باپ اولاد کو دار الحرب لے گیا مگر ان کی ماں مسلمان ہی ہے؛ تو اس صورت میں انہیں ماں کے تابع قرار دے کر مسلم ہی مانا جائے گا۔
اور اگر والدین کے ارتداد کے وقت اولاد منفصل موجود نہیں تھیں بلکہ ارتداد کے بعد پیدا ہوئیں؛ تو اب انہیں مرتد ہی قرار دیا جائے گا مگر اس صورت میں بھی انہیں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ بالغ ہونے کے بعد اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
البحر الرائق میں ہے: ’’ (قوله ولو ارتد الزوجان ولحقا فولدت ولدا وولد له ولد فظهر عليهم فالولدان فيء ويجبر الولد على الإسلام لا ولد الولد) بيان لحكم ولد المرتدة وحاصله أنه إما أن يكون موجودا منفصلا حين الردة أو لا فإن كان الأول فإنه لا يكون مرتدا بردتهما معا لأنه ثبت له حكم الإسلام بالتبعية فلا تزول بردتهما إلا إذا لحقا به أو أحدهما إلى دار الحرب فإنه خرج عن الإسلام لأنه كان بالتبعية لهما أو للدار وقد انعدم الكل فيكون الولد فيئا ويجبر على الإسلام إذا بلغ كما تجبر الأم عليه فإن كان الأب ذهب به وحده والأم مسلمة في دار الإسلام لم يكن الولد فيئا لأنه بقي مسلما تبعا لأمه وإن كان الثاني بأن ولد لهما ولد بعد لحوقهما فحكمه حكمهما من كونه فيئا ومن الجبر على الإسلام سواء كان الحبل في دار الحرب أو في دار الإسلام ولذا أطلقه المصنف وتقييده في الهداية بكون الحبل في دار الحرب اتفاقي ليعلم حكم ما إذا حبلت به في دار الإسلام بالأولى لأنه إذا أجبر على الإسلام مع بعده عنه ببعده عن داره فمع كونه أقرب إليه أولى كما في النهاية لكن ليس حكم هذا الولد كحكمهما من جهة القتل ولذا قال الولوالجي لا يقتل لو أبى كولد المسلم إذا بلغ ولم يصف الإسلام يجبر عليه ولا يقتل‘‘۔ (کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵ص۱۴۸، ط: دار الکتاب الإسلامی)
حدیث پاک میں ہے کہ صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال سمعت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يقول: ((من سره أن يبسط له في رزقه وأن ينسأ له في أثره فليصل رحمه)) (صحیح البخاری، باب من أحب البسط فی الرزق، ج۳ص۵۶، رقم: ۲۰۶۷، ط: دار طوق النجاۃ)
حدیث میں صلہ رحمی کی وجہ سے عمر بڑھنے سے مراد کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام بدر الدین عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والمراد به ههنا الأجل وسمي به لأنه يتبع العمر فإن قلت الآجال مقدرة وكذا الأرزاق لا تزيد ولا تنقص {فإذا جاء أجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون} قلت أجيب عن هذا بوجهين (أحدهما) أن هذه الزيادة بالبركة في العمر بسبب التوفيق في الطاعات وصيانته عن الضياع وحاصله أنها بحسب الكيف لا الكم (والثاني) أن الزيادة على حقيقتها وذلك بالنسبة إلى علم الملك الموكل بالعمر وإلى ما يظهر له في اللوح المحفوظ بالمحو والإثبات فيه {يمحو الله ما يشاء ويثبت} كما أن عمر فلان ستون سنة إلا أن يصل رحمه فإنه يزاد عليه عشرة وهو سبعون وقد علم الله عز وجل بما سيقع له من ذلك فبالنسبة إلى الله تعالى لا زيادة ولا نقصان ويقال له القضاء المبرم وإنما يتصور الزيادة بالنسبة إليهم ويسمى مثله بالقضاء المعلق ويقال المراد بقاء ذكره الجميل بعده فكأنه لم يمت وهو إما بالعلم الذي ينتفع به أو الصدقة الجارية أو الخلف الصالح (باب من یبسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم، ج۲۲ص۹۱، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
یعنی عمر میں اضافہ ہونے کی دو مراد بیان کی جاتی ہے: ایک تو یہ کہ یہاں عمر میں زیادتی سے مراد طاعت و فرماں برداری کے ذریعہ عمر میں برکت ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ فرشتہ کے علم اور لوح محفوظ کی طرف نسبت کرتے ہوئے عمر ہی میں اضافہ ہوتا ہے، مثلا لوح محفوظ میں لکھا ہے کہ فلاں شخص کی عمر ساٹھ سال ہوگی البتہ اگر وہ صلہ رحمی کرے؛ تو اس کی دس سال عمر بڑھا دی جائے گی، اس اعتبار سے اب اس کی عمر ستر سال ہوجائے گی، مگر اللہ تعالی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کی عمر میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں؛ کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ وہ فلاں شخص کیا کرے گا اور اس کی عمر کتنی ہوگی۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمر میں اضافہ سے مراد ہے کہ فلاں شخص کے مرنے کے بعد اس کا ذکر جمیل باقی رہے گا گویا کہ ابھی اس کی موت ہوئی ہی نہیں اور یہ چیز نفع بخش علم یا صدقہ جاریہ یا پھر اولاد صالح سے حاصل ہوتی ہے۔و اللہ أعلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی ، یوپی، انڈیا
۱۵؍شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum