لقطہ نصاب کو پہنچ جاے تو زکاۃ ہے یا نہیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سولال : کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین صورت مسؤلہ میں کہ:
اگر کسی مسلمان کے پاس گری ہوئی یا کہیں ملی ہوئی چیز ہو اور وہ نصاب تک پہنچتی ہو اور سال بھر تک اس کے پاس ہی رہی ہو، تو کیا پانے والے پر زکوۃ دینا واجب ہوگی۔ نیز مال پانے والا اسی پیسے سے اپنا کار و بار شروع کردیا ہو پھر وہ منافع سے حد نصاب کو بھی پہنچ جائے تو ایسے مال تجارت پر بھی کیا زکوۃ دینا واجب ہوگی۔ بینوا بالدلیل و توجروا بأجر الجلیل۔
المستفتی: محمد ارشد اعظمی مصباحی ادروی ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۰ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب صورت مذکورہ میں اگر لینے والے نے اپنے پاس لقطہ صرف حفاظت سے رکھ لیا اور صدقہ یا تجارت وغیرہ کے ذریعے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا؛ تو اس پر لقطہ کی زکاۃ نہیں لیکن اگر اس نے صدقہ یا تجارت وغیرہ کے ذریعے لقطہ میں تصرف کیا اور وہ نصاب کی مقدار ہے یا تجارت کے بعد وہ نصاب تک پہنچ گیا؛ تو استحسانا ا س پر زکاۃ ہے۔
المحیط البرہانی میں ہے: ’’هشام عن محمد: رجل له ألف درهم، التقط لقطة ألف درهم، وعرفها سنة، ثم تصدق بها، ففي القياس لا زكاة عليه في ألف؛ لأن صاحب اللقطة إن شاء ضمنها إياه، ولكن يستحسن بأن يزكها قال: وبه نأخذ‘‘۔ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ابوالمعالی برہان الدین، الفصل الثالث عشر فی زکاۃ الدیون، ج۲ص۳۰۸، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے: ’’وَفِي النَّهْرِ: مَعْنَى الِانْتِفَاعِ بِهَا صَرْفُهَا إلَى نَفْسِهِ كَمَا فِي الْفَتْحِ، وَهَذَا لَا يَتَحَقَّقُ مَا بَقِيَتْ فِي يَدِهِ، لَا تَمَلَّكَهَا كَمَا تَوَهَّمَهُ فِي الْبَحْر؛ لِأَنَّهَا بَاقِيَةٌ عَلَى مِلْكِ صَاحِبِهَا مَا لَمْ يَتَصَرَّفْ بِهَا، حَتَّى لَوْ كَانَتْ أَقَلَّ مِنْ نِصَابٍ وَعِنْدَهُ مَا تَصِيرُ بِهِ نِصَابًا حَالَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ تَحْتَ يَدِهِ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ زَكَاةٌ اھ ۔ قُلْت: مُقْتَضَاهُ أَنَّهَا لَوْ كَانَتْ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ لَا يَمْلِكُهَا مَعَ أَنَّهُ يَصْدُقُ عَلَيْهِ أَنَّهُ صَرَفَهَا إلَى نَفْسِهِ، فَمُرَادُ الْبَحْرِ التَّصَرُّفُ بِهَا عَلَى وَجْهِ التَّمَلُّكِ، فَلَوْ دَرَاهِمَ يَكُونُ بِإِنْفَاقِهَا وَغَيْرَهَا بِحَبْسِهِ، فَهُوَ احْتِرَازٌ عَنْ التَّصَرُّفِ بِطَرِيقِ الْإِبَاحَةِ عَلَى مِلْكِ صَاحِبِهَا، وَلِذَا قَالَ: إنَّمَا فَسَّرْنَا الِانْتِفَاعَ بِالتَّمَلُّكِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ الْمُرَادُ الِانْتِفَاعَ بِدُونِهِ كَالْإِبَاحَةِ وَلِذَا مَلَكَ بَيْعَهَا وَصَرْفَ الثَّمَنِ إلَى نَفْسِهِ كَمَا فِي الْخَانِيَّةِ‘‘. (رد المحتار، امام ابن عابدین شامی، کتاب اللقطۃ، ج۴ص۲۷۹، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت،
اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا، ۲۳؍ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۳ھ
Lorem Ipsum