قاضی کا صرف وکیل اور زوجین کی موجودگی میں نکاح پڑھانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:
مجلس نکاح میں زوجین کے علاوہ دو افراد میں ایک کا نام نعیم الدین اور دوسرے کا نام محمد اختر ہے، جس میں نعیم الدین مذکور بحیثیت قاضی اور گواہ اول ہیں اور محمد اختر مذکور بحیثیت وکیل اور گواہ دوم ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا مذکورہ نکاح درست ہے یا نہیں، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: کلام الدین
متعلم جامعہ مخدومیہ رضویہ، امین پوروہ جھوڑیا
ضلع بلرام پور، یوپی، ۲۵؍۷؍۲۰۲۰ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اگر مجلس نکاح میں صرف زوجین اور وکیل و قاضی ہی تھے؛ تو بھی یہ نکاح درست و صحیح ہے؛ کیوں کہ اس صورت میں حقیقتا نکاح کرنے والے میاں بیوی ہوں گے اور وکیل و قاضی یہ دونوں اس نکاح کے گواہ تسلیم کیے جائیں گے۔
الدر المختار میں ہے: ’’(وَلَوْ زَوَّجَ بِنْتَهُ الْبَالِغَةَ) الْعَاقِلَةَ (بِمَحْضَرِ شَاهِدٍ وَاحِدٍ جَازَ إنْ) كَانَتْ ابْنَتُهُ (حَاضِرَةً) لِأَنَّهَا تُجْعَلُ عَاقِدَةً (وَإِلَّا لَا) الْأَصْلُ أَنَّ الْآمِرَ مَتَى حَضَرَ جُعِلَ مُبَاشِرًا‘‘۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ’’ كَوْنُهَا بِنْتَهُ غَيْرُ قَيْدٍ، فَإِنَّهَا لَوْ وَكَّلْت رَجُلًا غَيْرَهُ فَكَذَلِكَ كَمَا فِي الْهِنْدِيَّةِ‘‘۔ (رد المحتار علی الدر المختار، امام ابن عابدین شامی، کتاب النکاح، ج۳ص۲۵، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۱؍ محرم الحرام ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum