فرض اعتقادی و فرض عملی کے ثبوت کس سے ہوتا ہے
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، خیریت سے ہیں آپ حضرت؟ کیاخبر واحد سے کسی فرض عملی و فرض اعتقادی کا ثبوت ہوسکتا ہے یا نہیں۔
قعدہ اخیرہ و وقوف عرفہ، اول رکن صلاۃ و ثانی رکن حج اور دونوں ثابت از خبر واحد۔
مدار فرضیت اخبار سے کیا ہے؟: خبر واحد، خبر مشہور یا خبر متواتر یا ہر سہ؟ مکمل تشفی بخش جواب کا میدوار۔
المستفتی: محمد احمد رضا مصباحی وچند طالبان علوم نبویہ، جامعہ امام احمد رضا، رتناگیری۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمد للہ۔
خبر واحد سے فرض اعتقادی کا ثبوت نہیں ہوتا، ثبوتِ فرض اعتقادی کے لیے آیت قرآنی یا خبر متواتر کا ہونا ضروری ہے جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہو۔
اور فرض عملی کا ثبوت آیت قرآنی جو قطعی الثبوت تو ہے مگر قطعی الدلالۃ نہیں یا خبر واحد سے ہوجاتا ہے مگر اس صورت میں جب کہ کسی مجتہد کے نزدیک ان دلائل میں سے کوئی ایک دلیل قطعی کے قریب پہونچ گئی ہو۔
رد المحتار میں ہے: ’’أَقُولُ: بَيَانُ ذَلِكَ أَنَّ الْأَدِلَّةَ السَّمْعِيَّةَ أَرْبَعَةٌ: الْأَوَّلُ قَطْعِيُّ الثُّبُوتِ وَالدَّلَالَةِ كَنُصُوصِ الْقُرْآنِ الْمُفَسِّرَةِ أَوْ الْمُحْكَمَةِ وَالسُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ الَّتِي مَفْهُومُهَا قَطْعِيٌّ. الثَّانِي قَطْعِيُّ الثُّبُوتِ ظَنِّيُّ الدَّلَالَةِ كَالْآيَاتِ الْمُؤَوَّلَةِ. الثَّالِثُ عَكْسُهُ كَأَخْبَارِ الْآحَادِ الَّتِي مَفْهُومُهَا قَطْعِيٌّ. الرَّابِعُ ظَنِّيُّهُمَا كَأَخْبَارِ الْآحَادِ الَّتِي مَفْهُومُهَا ظَنِّيٌّ، فَبِالْأَوَّلِ يَثْبُتُ الْفَرْضُ وَالْحَرَامُ، وَبِالثَّانِي وَالثَّالِثِ الْوَاجِبُ وَكَرَاهَةُ التَّحْرِيمِ، وَبِالرَّابِعِ السُّنَّةُ وَالْمُسْتَحَبُّ.
ثُمَّ إنَّ الْمُجْتَهِدَ قَدْ يَقْوَى عِنْدَهُ الدَّلِيلُ الظَّنِّيُّ حَتَّى يَصِيرَ قَرِيبًا عِنْدَهُ مِنْ الْقَطْعِيِّ، فَمَا ثَبَتَ بِهِ يُسَمِّيهِ فَرْضًا عَمَلِيًّا؛ لِأَنَّهُ يُعَامَلُ مُعَامَلَةَ الْفَرْضِ فِي وُجُوبِ الْعَمَلِ، وَيُسَمَّى وَاجِبًا نَظَرًا إلَى ظَنِّيَّةِ دَلِيلِهِ، فَهُوَ أَقْوَى نَوْعَيْ الْوَاجِبِ وَأَضْعَفُ نَوْعَيْ الْفَرْضِ، بَلْ قَدْ يَصِلُ خَبَرُ الْوَاحِدِ عِنْدَهُ إلَى حَدِّ الْقَطْعِيِّ؛ وَلِذَا قَالُوا إنَّهُ إذَا كَانَ مُتَلَقًّى بِالْقَبُولِ جَازَ إثْبَاتُ الرُّكْنِ بِهِ حَتَّى ثَبَتَتْ رُكْنِيَّةُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ بِقَوْلِهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – ((الْحَجُّ عَرَفَةَ))‘‘۔ (رد المحتار، امام شامی، کتاب الصلاۃ، مطلب فی الفرض القطعی و الظنی، ج۱ص۹۵، ط:دار الفکر، بیروت)
مزید تفصیل کے لیے اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کا رسالہ بنام: ’الجود الحلو فی أرکان الوضوء‘ کا مطالعہ کریں (فتاوی رضویہ، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء، ج۱ص۳۸۵، ط جدید:امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) و اللہ أعلم۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی ، یوپی، انڈیا
۱۵؍شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum