غیر کفو میں شادی کا حکم۱
سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جو شیخ برادری سے تعلق رکھتی ہے، وہ ایک مسلم لڑکے زید جو سامانی یعنی تیلی برادری سے تعلق رکھتا ہے، اس سے شادی کرنا چاہتی ہے مگر لڑکی کے والدین اس شادی سے راضی نہیں، کیا ایسی صورت ہندہ اس لڑکی سے شادی کرسکتی ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی:
محمد فیصل رضوی
متعلم: مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب شیخ برادری سے تعلق رکھنے والی ہندہ اگر عاقلہ، بالغہ ہے؛ تو وہ سامانی برادری سے تعلق رکھنے والے زید سے بغیر والد کی رضا کے شادی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے، نکاح صحیح ہوجائے گا، مگر غیر کفو میں شادی کرنے کی وجہ سے والد کو قاضی شرع کے یہاں معاملہ پیش کرکے نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: ’’اصل مذہب حنفی اور امام اعظم سے منقول روایت ظاہرہ یہ ہے کہ عاقلہ، بالغہ اگر اپنا نکاح غیر کفو سے بے اذن ولی کرے تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور ولی کو اختیار ہوگا کہ قاضی کے یہاں مقدمہ دائر کرکے یہ نکاح فسخ کرادے‘‘۔ (ص ۴۱۹، مجلس شرعی، جامعہ اشرفیہ ، مبارکپور)
الہدایۃ میں ہے: ’’و ینعقد نکاح الحرۃ العاقلة البالغة برضائها و إن لم یعقد علیها ولي بکرا کانت أو ثیبا عند أبي حنیفة و أبي یوسف رحمهما اللہ في ظاهر الروایة۔۔۔۔۔و وجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهی من أهله لکونها عاقلة ممیزۃ و لهذا کان لها التصرف في المال و لها اختیار الأزواج، و
أنها یطالب الولي بالتزویج کي لاتنسب إلی الوقاحة، ثم في ظاهر الروایة لا فرق بین الکفؤ وغیر الکفؤ و لکن للولي الاعتراض في غیر الکفؤ‘‘۔ (ج۲ص۲۹۴، باب فی الأولیاء، مجلس برکات، مبارکپور) و اللہ أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
Lorem Ipsum