عمامہ پر مسح کرنے والی حدیث کا جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

         بخاری شریف کی اس حدیث میں ہے کہ حضور نے عمامہ پر مسح فرمایا جب کہ قرآن میں ہے کہ وامسحوا برءوسکم، تو اس حدیث کا کیا مطلب ہوگا؟

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ» وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ جزاک اللہ فی الدارین۔

المستفتی: مولانا حامد رضا، امریکہ۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب احناف کے نزدیک عمامہ پر مسح کرنا جائز نہیں، علماے احناف نے اس طرح کی احادیث کے مختلف جوابات دئے ہیں، ان میں سے بعض ذکر کئے جاتے ہیں:

اول: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سر مبارک کا ہی مسح کیا مگر صحابی رسول نے دور سے دیکھا؛ تو انہوں نے سمجھا کہ آپ نے اپنے عمامہ پر مسح کیا ہے۔

المبسوط میں ہے: ’’ قَالَ (وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْقَلَنْسُوَةِ) وَمِنْ الْعُلَمَاءِ مِنْ جَوَّزَهُ لِحَدِيثِ «بِلَالٍ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – قَالَ رَأَيْت رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ» وَجَاءَ فِي الْحَدِيثِ «أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بَعَثَ سَرِيَّةً فَأَمَرَهُمْ بِأَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْمَشَاوِذِ وَالتَّسَاخِينَ» فَالْمَشَاوِذُ الْعَمَائِمُ وَالتَّسَاخِينُ الْخِفَافُ.

(وَلَنَا) حَدِيثُ «جَابِرٍ قَالَ رَأَيْت رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – حَسَرَ الْعِمَامَةَ عَنْ رَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ» وَكَأَنَّ بِلَالًا – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – كَانَ بَعِيدًا مِنْهُ فَظَنَّ أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ حِينَ لَمْ يَضَعْهَا عَنْ رَأْسِهِ وَتَأْوِيلُ الْحَدِيثِ الْآخَرِ أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – خَصَّ بِهِ تِلْكَ السَّرِيَّةَ لِعُذْرِهِمْ فَقَدْ كَانَ – عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ – يَخُصُّ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِأَشْيَاءَ كَمَا خَصَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – بِلُبْسِ الْحَرِيرِ وَخُزَيْمَةَ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – بِشَهَادَتِهِ وَحْدَهُ. ثُمَّ الْمَسْحُ إنَّمَا يَكُونُ بَدَلًا عَنْ الْغُسْلِ لَا عَنْ الْمَسْحِ، وَالرَّأْسُ مَمْسُوحٌ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ بَدَلًا عَنْهُ بِخِلَافِ الرِّجْلِ وَلِأَنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ كَثِيرُ حَرَجٍ فِي إدْخَالِ الْيَدِ تَحْتَ الْعِمَامَةِ وَالْمَسْحِ عَلَى الرَّأْسِ‘‘۔ (المبسوط، امام سرخسی، المسح علی الخفین، ج۱ص۱۰۱، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

دوم: حدیث پاک سے عمامہ پر مسح کرنے کے لیے استدلال کرنا محل نظر ہے؛ کیوں کہ آیت کریمہ: {وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ} اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کے سوا کسی دوسری چیز کا مسح جائز نہیں، لیکن اگر حدیث پاک پر عمل کیا جائے ؛ تو خبر واحد سے قرآن شریف پر زیادتی لازم آئے گی اور یہ قرآن شریف کے حکم کو نسخ کرنا ہے جو خبر واحد سے جائز نہیں۔

سوم: پہلے عمامہ پر مسح کرنے کی اجازت تھی پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ روایت پہونچی ہے کہ عمامہ پر مسح پہلے جائز تھا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔

العنایۃ میں ہے: ’’ قَوْلُهُ: (وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إلَخْ) فِيهِ نَفْيُ قَوْلِ مَنْ يُجَوِّزُ الْمَسْحَ عَلَى الْعِمَامَةِ كَالْأَوْزَاعِيِّ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَأَهْلِ الظَّاهِرِ قَالُوا صَحَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ. وَقُلْنَا الْمَسْحُ عَلَى الْخُفِّ ثَبَتَ رُخْصَةً لِدَفْعِ الْحَرَجِ وَلَا حَرَجَ فِي نَزْعِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ، وَالتَّمَسُّكُ بِالْحَدِيثِ ضَعِيفٌ؛ لِأَنَّ قَوْله تَعَالَى {وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ} [المائدة: 6] يَقْتَضِي عَدَمَ جَوَازِ مَسْحِ غَيْرِ الرَّأْسِ، وَالْعَمَلُ بِالْحَدِيثِ يَكُونُ زِيَادَةً عَلَيْهِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ وَهُوَ نَسْخٌ فَلَا يَجُوزُ أَوْ هُوَ مَنْسُوخٌ.

قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ رَأَيْت صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ تَتَوَضَّأُ وَتَنْزِعُ خِمَارَهَا ثُمَّ تَمْسَحُ بِرَأْسِهَا، قَالَ نَافِعٌ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: بِهَذَا نَأْخُذُ لَا نَمْسَحُ عَلَى خِمَارٍ وَلَا عَلَى عِمَامَةٍ، بَلَغَنَا أَنَّ الْمَسْحَ عَلَى الْعِمَامَةِ كَانَ فَتُرِكَ ‘‘۔ (العنایۃ شرح الھدایۃ، امام محمد بن محمد، باب المسح علی الخفین، ج۱ص۱۵۷، ط: دار الفکر، بیروت)

چہارم: عمامہ پر مسح بالقصد نہیں تھا بلکہ سر کے مسح کے تابع تھا، چنانچہ اگر سر پر عمامہ ہو اور بعض سر کا مسح کیا جائے؛ تو ضمنا عمامہ کا بھی مسح ہوجاتا ہے، خود مشاہدہ اس پر شاہد ہے۔

پنجم: اس حدیث میں یہ احتمال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زکام تھا؛ اس لیے آپ نے فرض کی مقدار سر کا مسح کرنے کے بعد تکمیل سنت کے لیے اپنے عمامہ پر بھی مسح کیا۔

البنایۃ میں ہے: ’’ وفي ” الغاية ” وبذكر المسح على العمامة تأويلان:

أحدهما: أن المسح عليها لم يكن عن قصد بل تبع بمسح البعض كما نشاهد ذلك إذا مسح على البعض وعلى الرأس عمامة.

الثاني: أنه يحتمل أن يكون به زكام فمسح على عمامته تكميلا للسنة بعد مسح الواجب منه يدل على ذلك اقتصاره على مقدم رأسه. وذكر المسح على عمامته في حديث رواه أبو داود عن أنس – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – «أنه – عَلَيْهِ السَّلَامُ – توضأ وعليه عمامة قطرية فأدخل يده تحت العمامة ومسح مقدم رأسه ولم ينقض العمامة» والقطرية بكسر القاف وسكون الطاء المهملة وكسر الراء ثياب حمر بها أعلام ينسب إلى قطر موضع بين عمان وسي البحر بكسر السين وسكون الياء آخر الحروف وهو ساحله، وقال الأزهري وقع في بعض الأحاديث الاقتصار على ذكر العمامة والخمار وفي بعضها على عمامته وخفيه أخرجه البخاري، وفي حديث المغيرة معهم الناصية، قال الخطابي والبيهقي في الجواب ما تحصيله أن المحتمل يحمل على الحكم وإنما حذف الراوي الناصية في بعضها لأن بعضها معلوم مقدمة فحذفه؛ لأن الله تعالى فرض مسح الرأس والعمامة ليست من الرأس فلا يترك اليقين بالمحتمل وقياسها على الخف بعيد؛ لأنه يشق نزعه. ‘‘۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، امام بدر الدین عینی، المقدار المفروض فی مسح الرأس، ج۱ص۱۷۳، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ششم: حدیث میں مذکور عمامہ پر مسح کرنا اس صورت پر محمول ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمامہ پر مسح کیا؛ تو پانی سرایت کرکے سر میں فرض کی مقدار پہونچ گیا۔

مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح میں ہے: ’’(ولا يجوز) أي لا يصح (المسح على عمامة وقلنسوة وبرفع قفازين) لأن المسح ثبت بخلاف القياس فلا يلحق به غيره‘‘۔

اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: ’’قوله: “المسح على عمامة” إلا إذا نفذت البلة منها إلى الرأس وأصابت مقدار الفرض وعليه حمل ما ورد أنه صلى الله عليه وسلم مسح على عمامته كما في السراج‘‘۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، امام احمد بن محمد طحطاوی، باب المسح علی الخفین، ص۱۳۴، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۳۰؍شوال المکرم ۱۴۴۱ھ

 

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.