شیعہ مذہب سے براءت اور نکاح کا حکم۱
سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سنی ہے اور ہندہ شیعہ اور ان دونوں میں محبت ہے، اب کچھ دنوں کے بعد ہندہ نے زید سے کہا کہ اب آپ میرے ساتھ شادی کرلیں، تو زید نے کہا کہ تم اپنا دین و مذہب چھوڑ دو اور ہمارے دین و مذہب میں داخل ہوجاؤ اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ اور سنی بن کر میرے ساتھ رہنا پڑےگا اور تم اپنے ماں، باپ و بھائی، بہن وعزیز و اقارب سے دور رہنا پڑے گا اور وہاں نہ جاسکتی ہو اور آسکتی ہو، اگر یہ سب باتیں تمہیں منظور ہیں تو ہم شادی کے لیے تیار ہیں، تو ہندہ نے کہا کہ یہ سب باتیں ہمیں منظور ہیں، اور آپ اب جلدی کیجئے اور توبہ وغیرہ کراکر مذہب اسلام میں داخل کریں، پھر زید و ہندہ نے شادی کرلی اور شادی کو تیرہ سال گزرگئے اور اس کے بال بچے ہیں، اس کے بعد اپریل ۲۰۱۱ء گیارہ میں زید کے بڑے بھائی و بہن کی شادی ہوئی، اس میں برادریوں کی دعوت کی اور شرکت بھی کی، اس کے بعد اب تیسری شادی ہونے جارہی ہے، اب برادری و رہبران نے زید و ہندہ کو برادری سے الگ کردیا، یہ کہتے ہوئے کہ تم نے غیر برادری لڑکی سے شادی کی ہے، اس بنا پر تمہارا حقہ، پانی بند کردیا ہے؛ لہذا دریافت طلب یہ ہے کہ ایسے برادری و رہبران کے اوپر عند الشرع، شریعت مطہرہ کا کیا حکم عائد ہوتا ہے، خوب مدلل جواب عنایت فرمائیں، عین کرم ہوگا۔
المستفتی: شیخ عبد اللہ
محلہ میاں گنج، امام باڑہ، ضلع فیض آباد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اگر واقعی ہندہ نے مذہب شیعہ سے توبہ کرکے براءت ظاہر کی، پھر مذہب اسلام میں کلمہ پڑھ کر داخل ہوئی، اس کے بعد اس کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور ہندہ نے اپنے گھر والوں سے رشتہ بھی منقطع کرلیا؛ تو اب ایسی صورت میں برادری و رہبران کو زید و ہندہ کا حقہ، پانی بند کرنا اور ان کا بائکاٹ کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ اس میں بلاوجہ شرعی مسلمان کو ایذا دینا ہے جو شرعا جائز نہیں، برادری کے لوگوں اور رہبران پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آئیں ورنہ سخت گنہ گار ہوں گے۔
رد المحتار میں ہے: ’’لَوْ أَتَى بِالشَّهَادَتَيْنِ لَا يُحْكَمُ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى يَتَبَرَّأَ عَنْ الدِّينِ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ. وَزَادَ فِي الْمُحِيطِ: لَا يَكُونُ مُسْلِمًا حَتَّى يَتَبَرَّأَ مِنْ دِينِهِ مَعَ ذَلِكَ وَيُقِرُّ أَنَّهُ دَخَلَ فِي الْإِسْلَام‘‘۔ (ج۴ص۲۲۷، کتاب الجھاد، باب المرتد، ط: دار الفکر، بیروت)
حدیث شریف میں ہے: ((مَنْ آذَى مُسْلِمًا فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ)) (المعجم الصغیر، طبرانی، رقم: ۴۶۸، ط: المکتب الإسلامی، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۳؍ذی القعدۃ۳۷ھ
Lorem Ipsum