شوہر نے ابھی بیوی کو حق مہر نہیں دیا اور بیوی کا انتقال ہوگیا تو کیا شوہر توبہ کرے
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرح متین اس مسئلے میں کہ:
اگر شوہر نے بیوی کو اس کا حق مہر ادا نہ کیا ہو اور اسی صورت حال میں بیوی کا انتقال ہوجائے؛ تو اب شوہر کو کیا کرنا چاہیے، اگر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور توبہ کرنا چاہیے؟
المستفتی: حافظ ابرار، پیکولیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب اگر عورت کا مہر معجل یا مؤجل تھا اور عورت نے نکاح کے بعد مہر کے معجل ہونے کی صورت میں کبھی بھی اور مؤجل کی صورت میں مہر کی ادائگی کا وقت آنے پر مہر کا مطالبہ کیا اور شوہر نے نہیں دیا؛ تو یہ ضرور گنہ گار ہے، اس صورت میں اس پر توبہ لازم ہے اور اگر ان دونوں صورتوں میں عورت نے مطالبہ نہیں کیا یا پھر مہر مطلق تھا یعنی مہر نہ تو فورا دینا قرار پایا تھا اور نہ ہی اس کے دینے کا کوئی وقت متعین کیا گیا تھا؛ تو ان صورتوں میں شوہر مہر نہ دینے کی وجہ گنہ گار نہیں ہوا؛ لہذا اسے توبہ کی ضرورت نہیں، البتہ عورت کے انتقال کے بعد اب شوہر کے ذمہ مہر لازم ہوگیا جو عورت کے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’ فِي كُلِّ مَوْضِعٍ دَخَلَ بِهَا أَوْ صَحَّتْ الْخَلْوَةُ وَتَأَكَّدَ كُلُّ الْمَهْرِ لَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا لِاسْتِيفَاءِ الْمُعَجَّلِ لَهَا………. وَإِذَا كَانَ الْمَهْرُ مُؤَجَّلًا أَجَلًا مَعْلُومًا فَحَلَّ الْأَجَلُ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَمْنَعَ نَفْسَهَا لِتَسْتَوْفِي الْمَهْرَ عَلَى أَصْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ – رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى -، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ…………. وَلَوْ قَالَ نِصْفُهُ مُعَجَّلٌ وَنِصْفُهُ مُؤَجَّلٌ كَمَا جَرَتْ الْعَادَةُ فِي دِيَارِنَا وَلَمْ يَذْكُرْ الْوَقْتَ لِلْمُؤَجَّلِ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا يَجُوزُ الْأَجَلُ وَيَجِبُ حَالًّا وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَجُوزُ وَيَقَعُ ذَلِكَ عَلَى وَقْتِ وُقُوعِ الْفُرْقَةِ بِالْمَوْتِ أَوْ بِالطَّلَاقِ وَرَوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى – مَا يُؤَيِّدُ هَذَا الْقَوْلَ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ، لَا خِلَافَ لِأَحَدٍ أَنَّ تَأْجِيلَ الْمَهْرِ إلَى غَايَةٍ مَعْلُومَةٍ نَحْوَ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ صَحِيحٌ، وَإِنْ كَانَ لَا إلَى غَايَةٍ مَعْلُومَةٍ فَقَدْ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ بَعْضُهُمْ يَصِحُّ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَهَذَا؛ لِأَنَّ الْغَايَةَ مَعْلُومَةٌ فِي نَفْسِهَا وَهُوَ الطَّلَاقُ أَوْ الْمَوْتُ أَلَا يَرَى أَنَّ تَأْجِيلَ الْبَعْضِ صَحِيحٌ، وَإِنْ لَمْ يَنُصَّا عَلَى غَايَةٍ مَعْلُومَةٍ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَبِالطَّلَاقِ الرَّجْعِيِّ يَتَعَجَّلُ الْمُؤَجَّلُ وَلَوْ رَاجَعَهَا لَا يَتَأَجَّلُ، كَذَا أَفْتَى الْإِمَامُ الْأُسْتَاذُ، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ‘‘۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب النکاح، الباب السابع فی المھر، الفصل الحادی عشر، ج۱ص۳۱۷‒۳۱۸، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۳؍جمادی الأولی ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum