رضاعی بھائی کی حقیقی بہن سے شادی کا حکم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ سراج احمد کی بہن کی شادی غلام محمد سے ہوئی اور غلام محمد کی بہن کی شادی سراج احمد کے ساتھ ہوئی۔ سراج احمد کی تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے، جب کہ غلام محمد کے تین بیٹے اور دو لڑکیاں ہیں۔
سراج احمد کے بیٹے ریاض نے غلام محمد کی بیوی کا دودھ پیا ہے، اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا غلام محمد کے بیٹے کی شادی سراج احمد کی بیٹی کے ساتھ ہوسکتی ہے یا نہیں؟ دلائل سے جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: اختر طارق اشرفی، کشمیر۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب یہ شادی ہوسکتی ہے؛ کیوں کہ رضاعی بھائی کی حقیقی بہن سے شادی کرنا جائز ہے۔
حضور صدر الشریعۃ علیہ الرحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں: ’’حقیقی بھائی کی رضائی بہن یا رضائی بھائی کی حقیقی بہن یا رضائی بھائی کی رضائی بہن سے نکاح جائز ہے‘‘۔ (بہار شریعت، صدر الشریعۃ، دودھ کے رشتہ کا بیان، ج۲ح۷، ط: قادری کتاب گھر، بریلی شریف)
الدر المختار میں ہے: ’’(وَتَحِلُّ أُخْتُ أَخِيهِ رَضَاعًا) يَصِحُّ اتِّصَالُهُ بِالْمُضَافِ كَأَنْ يَكُونَ لَهُ أَخٌ نَسَبِيٌّ لَهُ أُخْتٌ رَضَاعِيَّةٌ، وَبِالْمُضَافِ إلَيْهِ كَأَنْ يَكُونَ لِأَخِيهِ رَضَاعًا أُخْتٌ نَسَبًا وَبِهِمَا وَهُوَ ظَاهِرٌ‘‘۔ (الدر المختار مع رد المحتار، امام حصکفی، باب الرضاع، ج۳ص۲۱۷، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۱؍ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ
Lorem Ipsum