رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ساتھ، لفظ I love کے استعمال کا تحقیقی جواب
سوال از محمد احسان رضا متعلم دارالعلوم غوثیہ رضائے مصطفی،مقام مصاحب گنج ،پوسٹ حسین آباد ،ضلع بلرام پور (یوپی) انڈیا، مورخہ ۱۰ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ موافق ۳ اکتوبر ۲۰۲۵ء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان مسئلہ میں کہ حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم اقدس کے ساتھ I LOVE کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
۷۸۶ الجواب اللهم هداية الحق والصواب بارگاہ رسالت میںl love کا استعمال اسم مقدس کے ساتھ حرام حرام اشد حرام ہے کیوں کہ اس لفظ کا استعمال چھوکرے ، چھوکریوں کو زنا کے لیے اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کرتے ہیں،اور یہ لفظ اسی کام کے لیے موضوع ہو گیا ہے اور جب ایک لفظ ، غلط اور صحیح دونوں معنی کا محتمل ہو تو ایسا لفظ اسم رسالت کے ساتھ استعمال کرنا ممنوع وحرام ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے.” يايها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا واسمعوا و للكفرين عذاب الیم اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر کریں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (کنز الایمان) –
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ۔ (خزائن العرفان)
ہمارے اسلاف اپنی بول چال میں بھی انگریزی لفظ استعمال کرنا اسلام کی توہیں سمجھتے تھے جب ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی عربی زبان موجود ہے تو ہم رسول کائنات علیہ التحية والثناء کی جناب میں یہی استعمال کریں دوسری زبان ہرگز نہ استعمال کریں،مسلمانوں کا زوال بالکل قریب آچکا ہے اس لئے ان کی فکر و عقل بالکل فنا ہو چکی ہے۔کتبہ نور الحق قادری غفر له ،١٠، ربيع الآخر ۱۴۴۷ھ
مذکورہ بالا فتوی از روۓ شرع درست ہے یا نہیں؟
المستفتی
مولانا محمد شاکر جامعی، بلرام پور یوپی
8779794138
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب مذکورہ بالا فتوى نادرست غلط اور شریعت پر افترا ہے، حضور اکرم نور مجسم محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مقدس کے ساتھ I LOVE کا استعمال کرنا یعنی I LOVE MUHMMAD صلی اللہ علیہ و سلم کہنا جاٸز ہے کیوں کہ اردو زبان میں اس کا معنی ہوتا ہے ” میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، اور مسلمان جس زبان میں چاہے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار کر سکتا ہے، اس کو حرام کہنا شریعت اسلامیہ پر افترا کرنا ہے۔
موصوف کا یہ کیا کہ “اس لفظ کا استعمال چھوکرے چھوکریوں کو زنا کے لیے اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کرتے ہیں، اور یہ لفظ اسی کے لیے موضوع ہو گیا ہے “بتاتا ہے کہ موصوف عوام کے عرف و عادات سے بالکل نابلد ہیں اور فقہا نے فرمایا: جو شخص اپنے اہل زمانہ کو نہ جانے اور فتوی میں اپنے علاقے کے احوال کا لحاظ نہ رکھے وہ جاہل ہے، کیوں کہ عالم ہو یا جاہل جو لوگ بھی انگریزی زبان بولنے کے عادی ہوتے ہیں وہ اللہ تعالی ،انبیا علیہم الصلاة و السلام ،اولیاۓ کرام رضی اللہ عنہم ،اپنے والدین اور اولاد وغیرہم سب کےلیے اس لفظ کا یکساں استعمال کرتے ہیں مثلا I LOVE ALLAH,I LOVE YOU MOTHER,I LOVE YOU FATHER وغیرہ کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب نبیرۂ اعلی حضرت حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے ایک شخص نے انگریزی زبان میں سوال کیا اور اس میں ایک جملہ I LOVE ALLAH استعمال کیا تو آپ نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔وہ سوال درج ذیل ہے:
“I LOVE ALLAH AND I DON’T THINK HE WILL FORGIVE ME BECAUSE EVERY THING THAT I DO DOES’NT WORK ” (TAAJUSA SARIAH Q & A APP)
رد المحتار میں ہے : ” من لم يدر بعرف أهل زمانه فهو جاهل” (كتاب الأيمان ، ج ۵،ص:۵۰۱،ط : زکریا بک ڈپو،دیوبند ) .
فتاوی رضویہ میں ہے: ومن لم يعرف أهل زمانه ولم يراع فى الفتيا حال مكانه فهو جاهل مبطل فى قوله وبيانه (كتاب النكاح، باب الجهاز ، ج : 9،ص: ۵۸۵،ط : امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)۔
نیز موصوف کا I LOVE MOHMMAD کہنے کے عدم یہ علت بیان کرنا کہ جب ایک لفظ غلط اور صحیح دونوں معنی کا محتمل ہو تو ایسا لفظ اسم رسالت کے ساتھ استعمال کرنا ممنوع و حرام ہے اور اس کی تائید میں سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت پیش کرنا موصوف کی عجلت پسندی اور غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے، یہ بات تو مسلم ہے کہ ایسے الفاظ جن کے کچھ معنی درست ہوں اور کچھ معنی قبیح ہوں ان کا استعمال اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے لیکن زیر بحث مسٸلہ میں دو یا دو سے زاٸد معانی کا احتمال ہے ہی نہیں کیوں کہ جب کسی کے نام کے ساتھ I LOVE کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا صرف یہی معنی ہوتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں لہذا مذکورہ آیت کریمہ سے I LOVE MOHMMAD صلی اللہ علیہ و سلم کے حرام ہونے پر استدلال کرنا استدلال صحیح نہیں، فاسد ہے۔
موصوف آگے لکھتے ہیں: ” ہمارے اسلاف اپنی بول چال میں بھی انگریزی لفظ استعمال کرنا اسلام کی توہین سمجھتے تھے ” موصوف کا یہ قول موصوف کی اسلاف اور ان کی کتابوں سے دوری کو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ اگر چہ ہمارے بعض اسلاف اپنی بول چال میں انگریزی زبان کا استعمال ناپسند کرتے تھے مگر اس کی وجہ سے اسلام کی توہین کا نظریہ ان کی طرف منسوب کرنا درست نہیں نیز موصوف کے جملہ ” ہمارے اسلاف اپنی بول چال میں بھی انگریزی لفظ الخ” میں لفظ “بھی” کے استعمال سے
یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف بول چال کے ساتھ لکھنے پڑھنے میں بھی انگریزی زبان کے استعمال کو اسلام کی توہین سمجھتے تھے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ ہمارے بہت سارے اسلاف نے صرف اپنی بول چال میں ہی نہیں بلکہ اپنی کتابوں اور فتاوی میں بھی انگریزی زبان کا استعمال کیا ہے، جس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
(1) فتاوی رضویہ ، ج ۱۲، ط: امام احمد رضا اکیڈمی کے صفحہ نمبر ۳۵۰ سے ۳۵۳ تک مکمل انگریزی زبان میں فتوی موجود ہے ۔
(۲) نبیرہ اعلی حضرت حضور تاج الشریعہ نے انگریزی زبان
میں کٸی فتاوی تحریر فرمائے جن کے مجموعہ کا نام ” AZHAR UL FATAWA” ہے۔
(۳) خلیفہ اعلی حضرت مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ نے انگریزی زبان میں کٸی کتابیں تصنیف فرمائی جن میں چند مندرجہ ذیل ہیں:
(1) The Forgotten fath of Knowledge
(2) The Codification of Islamic law
(3) Elementary Teachings of islam
(۴) محمد حسین رضوی ، بولٹن یو کے نے حضور تاج الشریعہ کے حکم پر امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے رسالہ مبارکہ “الأمن والعلى لناعتی المصطفی
بدافع البلاء” کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جو مکتبہ قادریہ ، بولٹن یو کے سے چھپ چکا ہے۔
نیز اب اہل سنت کے اکثر مدارس میں انگریزی زبان کی تعلیم دی جاتی ہے کیوں کہ دور حاضر میں انگریزی زبان کسی خاص طبقہ کی زبان نہیں رہی بلکہ یہ ایک عالمی زبان کی صورت اختیار کر گٸی ہے لہذا دور حاضر میں موصوف کا اس طرح کی باتیں کرنا اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا اور اسلام دشمنوں کو انگشت نمائی کا موقع دینا ہے۔
موصوف مزید لکھتے ہیں: ” جب ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی عربی زبان موجود ہے تو ہم رسول کائنات علیہ التحیۃ والثناء کی جناب میں یہی استعمال کریں دوسری زبان ہرگز نہ استعمال کریں، موصوف کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں صرف عربی زبان استعمال کرنے کا حکم دینا اور دیگر زبانوں کے استعمال سے سختی کے ساتھ منع کرنا اور ساتھ ہی پورا فتوی اردو زبان میں لکھنا یہ بتاتا ہے کہ اس تحریر کو لکھتے وقت یا تو موصوف کے ہوش وحواس درست نہیں تھے یا تو موصوف شریعت پر افترا کرنے میں سخت بے باک وجری ہیں ، کیوں کہ ہر زمانے میں مسلمان اپنی علاقائی زبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے رہے ہیں ، حضور سید شاہ آل رسول حسنین میاں برکاتی نظمی مارہروی نے ہندی اور سنسکرت میں بھی نعتیہ کلام کہے ہیں جو آپ کے دیوان ” بعد از خدا”میں موجود ہیں، نیز جس طرح عربی زبان اللہ کی دی ہوئی ہے اسی طرح انگریزی زبان بھی اللہ کی دی ہوئی ہے اگر چہ عربی زبان افضل ہے کیوں کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے سات لاکھ زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا اور آپ کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا ان تمام زبانوں میں کلام کرنا بھی ہے جو قیامت تک آپ کی اولاد بولے گی نیز اگر موصوف کی بات کو مان لیا جاۓ تو جو شخص عربی نہ جانتا ہو وہ کس طرح اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر کرے گا، خدا جانے موصوف اس عجمی ملک میں اپنی تقریر و بیانات میں کس طرح اس کا التزام کرتے ہوں گے ۔
تفسیر روح البیان میں ہے: ” وفي الخبر علّمه سبعمائة الف لغة – – – – فكان من معجزاته تكلمه بجميع اللغات المختلفة التى يتكلم بها اولاده إلى يوم القيامة من العربية والفارسية والرومية والسريانية واليونانية والعبرانية والزنجية وغيرها ” – (ج ۱، ص : ۱۰۰، سوره البقرة، تحت الآية : ٣١ ،ط دار الاحياء التراث العربي، بيروت، لبنان)
موصوف اخیر میں لکھتے ہیں : ” مسلمانوں کا زوال بالکل قریب آچکا ہے اس لیے ان کی فکر و عقل بالکل فنا ہو چکی ہے ” زیر بحث مسٸلہ کی بنیاد پر یہ باتیں مسلمانوں پر تو صادق نہیں آتیں لیکن موصوف کی ذات پر ضرور صادق آتی ہیں
موصوف پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فتوے سے جلد از جلد تحریری طور پر رجوع کرلیں، غلط فتوے سے رجوع نہ کرنا خواہ حیا کی وجہ سے ہو یا تکبیر کی وجہ سے بہر حال حرام ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ” إذا اخطأ رجع ولا يستحي ولا يأنف كذا فى النهر الفائق (كتاب أدب القاضي الباب الاول ، ج ۳، ص:۳۰۹، ط: زکریا بک ڈپو، دیوبند)۔
کنز العمال میں ہے : ” إذا عملت سيئة فأحدث عندها توبة : السر بالسر والعلانية بالعلانية” – (كتاب التوبة، الفصل الاول ، الحديث : ۱۰۱۸۰ ،ط: مؤسسة الرسالة ، بيروت)
ایسا ہی بہار شریعت ، افتا کے مسائل، ج:۲، ح:۱۲ ، ص: ۹۱۲، ط:مکتبہ المدينة، دہلی میں بھی ہے ۔واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد فریاد النوری الجامعی
دار الافتا مرکز تربیت افتا اوجھاگنج ،بستی
۲۵ ربیع الآخر،۱۴۴۷ ھ
الجواب صحیح واللہ تعالی أعلم
ازہار احمد امجدی
خادم دار الافتاء بمرکز تربیة الافتاء ،اوجھاگنج،بستی
۲۵ ,ربیع الآخر ۴۷ھ
الجواب صحیح واللہ تعالی أعلم
ابرار احمد امجدی برکاتی
صدر شعبۂ افتا مرکز تربیت افتا،اوجھاگنج بستی وبانی جامعہ اہل سنت برکات امجدی بستی(یوپی)
۲۵،ربیع الآخر،۱۴۴۷ھ م ۱۸،اکتوبر ۲۰۲۵
Lorem Ipsum