رجسٹری سے ملکیت ثابت ہوتی ہے یا نہیں

کیا فرماتے ہیں علماے دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ:

زید اور اس کی بیوی ہندہ کے تین لڑکی اور ایک لڑکا ہے، زید نے ایک زمین کی قیمت دے کر اس زمین کا رجسٹرڈ بیع نامہ اپنی بیوی ہندہ کے نام کرادیا، ہندہ نے خفیہ خفیہ اس زمین کا بیع نامہ بغیر عوض اپنی لڑکی فاطمہ کے نام کردیا، زید کو معلوم ہوا کہ ہندہ نے فاطمہ کے نام بیع نامہ کردیا؛ تو زید نے اس زمین کے کچھ حصہ میں مسجد تعمیر کرادی، ہندہ کے لڑکے کو اس بات پر اعتراض ہوا کہ بیع نامہ فاطمہ نے اپنے نام کیوں کرایا، فاطمہ نے مسجد اس لیے تعمیر ہوجانے دی کہ ہندہ کا لڑکا خاموش ہوجائے لیکن وہ خاموش نہ رہا حتی کہ فاطمہ سے مخالفت ہوگئی، آخر فاطمہ نے ہندہ کے لڑکے سے رقم لے کر اس کے نام مسجد و کل زمین کا رجسٹرڈ بیع نامہ کردیا اور کہتی ہے کہ مسجد میں نے تعمیر نہیں کروائی، مسجد تو میرے والد زید نے تعمیر کرائی ہے اور زید کا کہنا ہے کہ میں زمین کا مالک ہی نہیں، میں نے تو مسجد بنانے کا مشورہ دیا تھا اور مسجد بناتے وقت فاطمہ نے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا، اب قانون ہند کے مطابق تو ہندہ کا لڑکا اس مسجد و کل زمین کا مالک ہےلیکن شرعا اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ مسجد مذکور مسجد ہوئی یا نہیں؟ زید و ہندہ کے لڑکے کا کہنا ہے کہ مسجد میں نے تعمیر نہیں کرائی بلکہ میں نے تو مذکورہ زمین خریدی ہے؛ اس لیے میرے لیے مسجد کیسے ہوئی؟ زید کے لڑکے کے لیے مذکورہ خریدی ہوئی جگہ کو بحالت مسجد رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟

المستفتی: عظیم الدین نوری

این بلاک سندر نگری، دہلی ۹۳

۱۶؍۱۰؍۲۰۲۰ء

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         جواب زمین کسی کے نام لکھا دینا یہ ہبہ ہے اور ہبہ قبضہ دئے بغیر تام نہیں ہوتا اور نہ ہی جس کو ہبہ کیا گیا، وہ اس کا مالک ہوتا ہے۔

لہذا زید نے اگر ہندہ کے نام زمین لکھانے کے بعد اسے قبضہ دلادیا تھا اور پھر ہندہ نے اس کو اپنی بیٹی فاطمہ کے نام لکھانے کے بعد قبضہ دلادیا؛ تو اب اس زمین کی مالک اس کی لڑکی فاطمہ ہے، اس صورت میں ہندہ کے لڑکے کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔

مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط و معانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلادیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملک ہوگئی، دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہا، اور اگر ہبہ نہ تھا، نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گا یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگرچہ پسر نے بعد موت پدر قبضہ کاملہ کر لیا ہو، تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملک پدر پر باقی رہی، تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی رحمہ اللہ، کتاب الھبۃ، ج۱۴ص۴۵، ط جدیدہ: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)

نیز مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’اور نام لکھادینا اگرچہ دلیل تملیک ہے اور یہ تملیک ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتا، نہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملک حاصل ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی رحمہ اللہ، کتاب الھبۃ، ج۱۴ص۴۶، ط جدید: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف)

اب جب کہ صورت مذکورہ میں اس زمین کے کسی حصہ پر مسجد کی عمارت بنائی گئی اور فاطمہ نے اس حصہ میں کم از کم دو لوگوں کو باجماعمت اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دے دی یا صرف ایک ہی شخص نے باجماعت اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھی یا یہ کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا یا ہمیشہ اس میں لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی یا زبان سے کچھ نہیں کہا مگر اس کی نیت یہی تھی؛ تو ان تمام صورتوں میں وہ مسجد ہوگئی اور ہمیشہ کے لیے مسجد ہی رہے گی،  اب اس کی خرید و فروخت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہوگی اور ہر ایک کے لیے اس زمین و عمارت کو بطور مسجد باقی رکھنا ضروری ہوگا اور اگر ان صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی گئی یا ہندہ کی بیٹی فاطمہ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے وہ زمین اس کی ملکیت سے بالکل خارج ہوکر مسجد کے لیے ہوجائے؛ تو  زمین کا وہ حصہ مسجد نہیں ہوا اور اس صورت میں ہندہ کے لڑکے سے اس کا خرید و فروخت کرنا درست ہے اور اب ہندہ کے لڑکو اختیار ہے چاہے تو اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کردے اور مسجد کی عمارت کو برقرار رکھے اور چاہے تو ختم کردے۔ ایسا ہی (بہار شریعت، صدر الشریعہ رحمہ اللہ، مسجد کا بیان، ج۲ح۱۰ص۵۵۷‒۵۵۸، ط: قادری کتاب گھر، بریلی شریف) میں ہے۔

اور اگر زید نے زمین اپنی بیوی ہندہ کے نام تو لکھایا مگر ہندہ کو قبضہ نہیں دلایا؛ تو اس کی بیوی ہندہ اس زمین کی مالک ہی نہیں ہوئی اور جب یہ مالک ہی نہیں ہوئی؛ تو اس کو اپنی بیٹی فاطمہ کے نام زمین لکھانے  کا اختیار ہی نہیں رہا اور اس صورت میں یہ زمین اب بھی زید کی ملکیت میں باقی رہی، اس صورت میں زمین کے جس حصہ پر مسجد کی عمارت بنی ہے اگر زید نے اس میں کم از کم دو لوگوں کو باجماعمت اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دے دی یا ان صورتوں میں سے کوئی صورت پائی گئی جو ہندہ کی لڑکی فاطمہ کی ملکیت کی صورت میں ذکر ہوئیں؛ تو وہ زمین مسجد ہوگئی، اب زمین کے اس حصہ کی خرید و فروخت نہیں ہوسکتی اور وہ حصہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہی رہے گا اور اگر ان صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی گئی؛ تو اب بھی وہ زید ہی کی ملکیت ہے، چاہے تو اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کرکے عمارت باقی رکھے اور چاہے تو اس کی لڑکی فاطمہ نے جو فروخت کیا ہے، اسے نافذ کردے، نافذ کردے گا تو فروختگی درست ہوجائے گی اور رد کردے گا؛ تو رد ہوجائے گی، زمین اسی کی ملکیت میں باقی رہے گی اور اسے اس زمین میں ہر طرح سے تصرف کا اختیار رہے گا۔ و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۷؍ربیع الأول ۱۴۴۲ھ

 

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.