دیوبندی سے شادی کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرح متین درج ذیل مسئلہ میں:

زید جو کہ مسلکا سنی ہے، اس نے اپنی بہن کی شادی ایک دیوبندی گر مولوی سے کردی۔ آبادی کے ذمہ داران اور علما نے اس سے مطالبہ کیا کہ تو اپنے بہن کو اپنے دیوبندی بہنوئی سے فورا جدا کرالے؛ کیوں کہ ایک سنیہ کا نکاح ایک دیوبندی سے ہرگز نہیں ہوسکتا اور اگر یہ نہ ہوسکے تو پھر اس سے قطع تعلق کرلے؛ کیوں کہ وہابیوں دیوبندیوں سے مقاطعہ کا حکم ہے، زید ان دونوں چیزوں کو کرنے کے لیے تیار نہیں  ہے بلکہ وہ کہ رہا ہے کہ ہم بہنوئی کو نہیں آنے دیں گے لیکن بہن کو نہیں چھوڑ پائیں گے، تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ مندرجہ بالا شخص کے یہاں کسی سنی کو دعوت طعام، بارات، شادی یا جنازہ میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ جو سنی پرہیز نہیں کرتے اور ہمیشہ ایسوں کی دعوت خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں تو ان کا کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلیل و توجروا باجر جزیل۔

المستفتیان: رضاء المصطفی، مولانا عطاء المصطفی، قاری محمد اعظم، قاری ساجد رضا، حافظ زاہد رضا۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب زید نے اپنے بہن کی جس سے شادی کی ہے، اگر وہ واقعی دیوبندیوں جیسا عقائد باطلہ رکھتا ہے؛ تو زید اپنی بہن کی دیوبندی سے شادی کرنے کی وجہ سے سخت گنہ گار، مستحق عذاب نار ہوا؛ کیوں کہ دیوبندی اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے کافر و مرتد ہیں اور مرتد سے کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا، اگر کیا گیا؛ تو نکاح باطل اور دونوں کا تعلق زناے خالص ہوگا۔

فتاوی عالم گیری میں ہے: ’’وَلَا يَجُوزُ لِلْمُرْتَدِّ أَنْ يَتَزَوَّجَ مُرْتَدَّةً وَلَا مُسْلِمَةً وَلَا كَافِرَةً أَصْلِيَّةً وَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُرْتَدَّةِ مَعَ أَحَدٍ، كَذَا فِي الْمَبْسُوطِ‘‘۔ (کتاب النکاح، الباب الثالث فی بیان المحرمات، القسم التاسع المحرمات بالشرک، ج۱ص۲۸۲، ط: دار الفکر، بیروت)

زید پر لازم ہے کہ اس کے یہاں سے اپنی بہن کو واپس لائے اور نکاح کے بطلان کا اعلان کرے، اگر قدرت کے باوجود نہیں کرے گا؛ تو سخت گنہ گار اور موجب غضب قہار ہوگا۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (التحریم:۶۶، آیت: ۶)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) (صحیح البخاری، باب العبد راع فی مال سیدہ، ج۳ص۱۲۰، رقم: ۲۴۰۹، ط: دار طوق النجاۃ)

اور اگر وہاں سے اپنی بہن لانے کی قدرت نہیں اور رب تعالی خوب جانتا ہے کہ قدرت ہے یا نہیں، تو اس پر لازم ہے کہ دیوبندی وغیرہ سے کوئی تعلق نہ رکھے۔

اور اس کا یہ کہنا کہ: ’’ہم بہنوئی کو نہیں آنے دیں گے لیکن بہن کو نہیں چھوڑ پائیں گے‘‘۔ اگر اس جملہ سے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ دیوبندی وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا مگر بہن کو اپنے گھر آنے دے گا؛ تو گنجائش ہے لیکن بچنا ہی بہتر ہے۔

بہر حال زید پر فرض ہے کہ علانیہ توبہ کرے، اس نکاح کے بطلان کا اعلان کرے، اپنے اس کیے پر نادم ہو اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنے کا عہد کرے، اس کے بعد اسے اتنے دنوں تک دیکھا جائے کہ دیوبندی وغیرہ سے اس کے تعلق نہ رکھنے کا پورا اطمینان ہوجائے؛ تو اس کو سماج میں شامل کرلیا جائے ورنہ سخت بائکاٹ قائم رکھا جائے یہاں تک کہ وہ اپنے اس فعل قبیح سے تائب ہو اور دیوبندی  وغیرہ سے قطع تعلق کرلے۔

((إِذَا رَأَیْتُمْ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَاکْفَهرُّوا فِیْ وَجْههٖ؛ فَإِنَّ اللہَ یَبْغَضُ کُلَّ مُبْتَدِعٍ)) (تاریخ دمشق، ابن عساکر،ج۴۳،ص۳۳۷، رقم: ۵۱۴۴، ط: دار الفکر، بیروت)

حدیث شریف میں ہے: ((لَا یَقْبَلُ اللہُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا وَّ لَا صَلَاۃً  وَّ لَا صَدْقَةً وَّ لَا حَجًّا وَّ لَا عُمْرَۃً وَّ لَا جِهَادًا وَّ لَا صَرْفًا وَّ لَا عَدْلًا، یَخْرُجُ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِیْنِ)) (سنن ابن ماجہ، باب اجتناب البدع و الجدل، ج۱ص۱۹، رقم: ۴۹، دار إحیاء الکتب العربیۃ، البابی الحلبی)

دوسری احادیث میں ہے: ((إِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْهُمْ وَ إِنْ مَا تُوْا فَلَا تَشْهَدُوْ هُمْ وَ إِنْ لَقِیْتُمُوْهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَیْهِمْ وَ لَا تُجَالِسُوْهُمْ وَ لَا تُشَارِبُوْ هُمْ وَ لَا تُوَاکِلُوْهُمْ وَ لَا تُنَاکِحُوْهُمْ وَ لَا تُصَلُّوْا عَلَیْهِمْ وَ لَا تُصَلُّوْا مَعَهُمْ)) (مقدمۃ صحیح مسلم، باب فی الضعفاء والکذابین، ج۱ص۱۲، رقم:۷، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، سنن أبی داود، کتاب السنۃ، باب فی القدر، ج۴ص۲۲۲، رقم:۴۶۹۱، ط: المکتبۃ العصریۃ، صیدا، بیروت، سنن ابن ماجہ، باب فی القدر، ج۱ ص۳۵، رقم:۹۲، ط:  الضعفاء الکبیر،عقیلی، ج۱ص۳۶۰، رقم: ۳۱۸، ط: دار المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)

جب تک وہ توبہ وغیرہ نہ کرلے، کسی سنی کو اس کی دعوت طعام، بارات، شادی وغیرہ میں شرکت کرنا جائز نہیں، جو لوگ کریں گے وہ زید کے گناہ پر تعاون کرنے والے ہوں گے اور اس کی قرآن پاک میں سخت ممانعت آئی ہے؛ لہذا انہیں اپنی اس حرکت سے باز آنا چاہیے اور ان کو زید کا بائکاٹ کرنے والوں کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ گمراہیت سنیوں سے دور رہے اور سنیت مضبوط ہو۔

فتاوی عالم گیری میں ہے:’’الْفَاسِقُ إذَا تَابَ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ مَا لَمْ يَمْضِ عَلَيْهِ زَمَانٌ يَظْهَرُ عَلَيْهِ أَثَرُ التَّوْبَةِ وَالصَّحِيحُ أَنَّ ذَلِكَ مُفَوَّضٌ إلَى رَأْيِ الْقَاضِي‘‘۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الشھادات، الباب الأول، فی تعریف الشھادۃ۔۔۔الخ، الفصل الثانی فیمن لاتقبل شھادتہ لفسقہ، ج۳ص۴۶۸، ط: دار الفکر، بیروت)

قرآن پاک میں ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدۃ:۵، آیت:۲)

البتہ اگر زید یا زید کے گھر و رشتہ دار میں کوئی انتقال کرجائے اور ان سے کسی ایسے قول یا فعل کا صدور نہیں ہوا، جس سے انہیں اسلام سے خارج سمجھا جائے؛ تو وہ سنی ہی ہیں؛ اس لیے ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور دوسرے سنی لوگ ان کے  جنازہ میں شریک بھی ہوسکتے ہیں۔

سنن ابی داود میں ہے: ((۔۔۔۔۔۔۔ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ)) (سنن أبی داود، باب فی الغزو مع أئمۃ الجور، ج۳ص۱۸، ط: المکتبۃ العصریۃ، بیروت) ایسا ہی (فتاوی رضویہ، مجدد دین و ملت، کتاب الجنائز، ج۷ص۷۴، ط جدید: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) میں ہے۔ و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۱۹؍ رجب المرجب ۱۴۴۱ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.