دیبوبندیوں کے نکاح پڑھانے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں اس مسئلے میں علماے دین و مفتیان شرح کہ:

ہماری مسجد کے امام صاب دیوبندیوں اور ان کو عید بکرا عید کی مبارک باد پیش کرنا یہ سب ان کی عادتوں میں سے ہے امام صاحب یہ سب حرکتیں کرتے ہیں اور مدرسے میں مدرس بھی ہیں تو سرکاری نوکری کی وجہ سے بولتے ہیں یہ سب میری مجبوری ہے، ایسا کرنا اور وہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے استاد بھی ہیں، تو ہم لوگوں نے ان کو سمجھایا تو بولے ہم کیوں توبہ کریں اور عوام میں بولتے ہیں کہ ہم نے انگلی پکڑکے چلنا سکھایا اور ہمیں فتوی دے رہے ہیں تو ایسی صورت میں شاگردوں پر استاد کی تعظیم فرض ہے، کیا شاگرد استاد کو شریعت کی بات نہیں بتاسکتا اور اگر استاد فاسق ہو تو بھی شاگردوں کو تعظیم کرنی پڑے گی۔

اور عوام اہل سنت میں ایک دوسرے کی غیبت اور چغلی کرنا اور دیوبندی اور وہابیوں کا نکاح پڑھنا، تو شریعت ایسے امام پر کیا حکم لگاتی ہے، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے، کیا ایسے امام کے پیچھے عوام اہل سنت کی نماز ہوجائے گی، کیا ایسے امام صاحب کے پیچھے نماز ادا کرسکتے ہیں۔

کیا ایسے شخص کو ہم اپنا پیشوا اور راہنما بناسکتے ہیں، قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، اور اگر امام صاحب توبہ لازم ہے تو تنہا میں کرے یا ان کو عوام اہل سنت کے سامنے توبہ کرنا پڑے گا؟ شریعت ایسے امام پر کیا حکم لگاتی ہے۔

المستفتی: سیف خان قادری مرکزی (کانپور)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب دیوبندیوں کو عید و بقرعید کی مبارک باد پیش کرنا، دیوبندیوں و وہابیوں کا نکاح پڑھانا اور غیبت و چغلی کرنا سب ناجائز و سخت حرام ہے۔

((إِذَا رَأَیْتُمْ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَاکْفَهرُّوا فِیْ وَجْههٖ؛ فَإِنَّ اللہَ یَبْغَضُ کُلَّ مُبْتَدِعٍ)) (تاریخ دمشق، ابن عساکر،ج۴۳،ص۳۳۷، رقم: ۵۱۴۴، ط: دار الفکر، بیروت)

حدیث شریف میں ہے: ((لَا یَقْبَلُ اللہُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا وَّ لَا صَلَاۃً  وَّ لَا صَدْقَةً وَّ لَا حَجًّا وَّ لَا عُمْرَۃً وَّ لَا جِهَادًا وَّ لَا صَرْفًا وَّ لَا عَدْلًا، یَخْرُجُ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِیْنِ)) (سنن ابن ماجہ، باب اجتناب البدع و الجدل، ج۱ص۱۹، رقم: ۴۹، دار إحیاء الکتب العربیۃ، البابی الحلبی)

دوسری احادیث میں ہے: ((إِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْهُمْ وَ إِنْ مَا تُوْا فَلَا تَشْهَدُوْ هُمْ وَ إِنْ لَقِیْتُمُوْهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَیْهِمْ وَ لَا تُجَالِسُوْهُمْ وَ لَا تُشَارِبُوْ هُمْ وَ لَا تُوَاکِلُوْهُمْ وَ لَا تُنَاکِحُوْهُمْ وَ لَا تُصَلُّوْا عَلَیْهِمْ وَ لَا تُصَلُّوْا مَعَهُمْ)) (مقدمۃ صحیح مسلم، باب فی الضعفاء والکذابین، ج۱ص۱۲، رقم:۷، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، سنن أبی داود، کتاب السنۃ، باب فی القدر، ج۴ص۲۲۲، رقم:۴۶۹۱، ط: المکتبۃ العصریۃ، صیدا، بیروت، سنن ابن ماجہ، باب فی القدر، ج۱ ص۳۵، رقم:۹۲، ط:  الضعفاء الکبیر،عقیلی، ج۱ص۳۶۰، رقم: ۳۱۸، ط: دار المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ﴾ (الحجرات: ۴۹، آیت:۱۲)

امام اگر واقعی ان چیزوں کا مرتکب ہے مگر دیوبندیوں و ہابیوں کے عقائد پر مطلع نہیں یا مطلع تو ہے مگر انہیں مسلمان نہیں سمجھتا؛ تو فاسق و فاجر ہے، اس صورت میں اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، جتنی نمازیں اس حالت میں اس کے پیچھے پڑھی گئیں، سب کا اعادہ واجب ہے۔

رد المحتار میں ہے: ’’وَأَمَّا الْفَاسِقُ فَقَدْ عَلَّلُوا كَرَاهَةَ تَقْدِيمِهِ بِأَنَّهُ لَا يُهْتَمُّ لِأَمْرِ دِينِهِ، وَبِأَنَّ فِي تَقْدِيمِهِ لِلْإِمَامَةِ تَعْظِيمَهُ، وَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِمْ إهَانَتُهُ شَرْعًا‘‘۔ (رد المحتار، باب الإمامۃ، ج۱ص۵۶۰، ط: دار الفکر، بیروت)

الدر المختار میں ہے: ’’كُلُّ صَلَاةٍ أُدِّيَتْ مَعَ كَرَاهَةِ التَّحْرِيمِ تَجِبُ إعَادَتُهَا‘‘۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، ج۱ص۴۵۷)

اور اگر ان کے عقائد باطلہ کا علم رکھتے ہوئے ان کو مسلمان سمجھ کر ایسا کرتا ہے؛ تو وہ خود مسلمان نہیں اور اس صورت میں اس کے پیچھے  پڑھی گئی تمام نمازیں باطل ہیں، تمام نمازوں کا دوبارہ پڑھنا  فرض ہے۔

امام کا یہ کہنا کہ: ’’ہم کیوں توبہ کریں‘‘۔  اور لوگوں کے درمیان یہ بولنا کہ: ’’ہم نے انگلی پکڑکے چلنا سکھایا اور ہمیں فتوی دے رہے ہیں‘‘۔ بالکل غلط ہے؛ کیوں کہ انسان سے غلطی ہوجائے؛ تو اسے توبہ کرلینا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے: ((كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ)) (سنن الترمذی،  باب ۴۹، ج۴ص۲۴۰، رقم:۲۴۹۹، ط:دار الغرب الإسلامی، بیروت)

دین نصیحت ہے، اس میں فساد آئے تو چھوٹا، بڑے کو نصیحت کرسکتا ہے اور شاگرد، استاد کو سمجھاسکتا ہے، بڑے یا استاد کو نصیحت کا حق صرف اپنے ساتھ خاص کرلینا غلط و بے بنیاد ہے۔

حدیث شریف میں ہے: ((الدِّينُ النَّصِيحَةُ)) قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: ((لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ)) (صحیح مسلم، باب بیان أن الدین النصیحۃ، ج۱ص۷۴، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

ایسے شخص کو پیشوا بنانا جائز نہیں اور نہ فاسق استاد کی تعظیم درست ہےمگر اسلامی اخلاق و آداب کی سطح سے اترکر بات کرنا یا کردار پیش کرنا، کسی مسلم کے لیے، کسی کے بھی ساتھ روا نہیں۔

حدیث پاک میں ہے: ((إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْضَبُ إِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ فِي الْأَرْضِ)) (شعب الإیمان، باب حفظ اللسان عما لایحتاج إلیہ، ج۶ص۵۰۹، ط: مکتبۃ الرشد، الھند) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۱۱؍صفر المظفر۱۴۴۲ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.