دوسری شادی کرنے کا حکم

زید نے چند سال پہلے شادی کی تھی، زید کی بیوی چند مہینے زید کے ساتھ رہنے کے بعد اپنے باپ کے گھر چلی گئی اور وہاں جاکر کہتی ہے کہ مجھے اپنے سسرال یعنی زید کے گھر نہیں جانا ہے، زید اپنی بیوی کے اس فیصلے سے بالکل بھی راضی نہیں ہے اور مزید زید اس کو طلاق بھی نہیں دینا چاہتا ہے بلکہ زید پہلی بیوی کو طلاق دئے بغیر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور زید کو اس بات پر پورا اعتماد ہے کہ اس کی بیوی جب بھی اس کے گھر آئے گی، زید پہلی بیوی اور نئی بیوی کے درمیان عدل (برابری) کرے گا، چنانچہ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید اس حالت میں دوسری شادی کرسکتا ہے، قرآن و احادیث اور کتب فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

السائل:

محمد سمیر مؤمن

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب اگر ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرسکتا ہے؛ تو ہر حال میں دوسری شادی کرنا جائز و درست ہے۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا﴾ (النساء: ۴، آیت:۳)

الدر المختار میں ہے: ’’(وَ) صَحَّ (نِكَاحُ أَرْبَعٍ مِنْ الْحَرَائِرِ وَالْإِمَاءِ فَقَطْ لِلْحُرِّ)‘‘۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج۳ص۴۸، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۷؍ربیع الأول ۱۴۴۲ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2026, All Rights Reserved.