خٰود کشی کرنے والے کے کفر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
جو شخص خود کشی کرلے تو کیا اس کی بخشش و مغفرت ہوگی کہ نہیں، کیا خود کشی کرنے والا شیطان ہوجاتا ہے، تو کیا اس کی روح محلہ و شہر کے لوگوں کو ڈراتا و بہکاتا ہے، ایسا عقیدہ رکھنا درست ہے کہ نہیں اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں اور کیا خود کشی کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے کہ نہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی:
محمد دانش
9598760096
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب خود کشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے مگر خود کشی کرنے والا اپنے اس گناہ کی وجہ سے کافر نہیں ہوگا؛ اس لیے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اپنے گناہ کی سزا پانے کے بعد ہی صحیح مگر ان شاء اللہ ایسے شخص کی بخشش ہوگی۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا﴾ (النساء:۴، آیت:۴۸)
ترجمہ: ((بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا)) (کنز الإیمان)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ((لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّهُ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلِمَتِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ وإن أصابه قبل ذلك ما أصابه)) (صحیح ابن حبان، ذکر العلۃ التی من أجلھا أمر بھذا الأمر، ج۷ص۲۷۲، رقم: ۳۰۰۴، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
ترجمہ: ((اپنے مُردوں کو کلمہ شریف لاإلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کرو؛ کیوں کہ موت کے وقت جس شخص کا آخری کلمہ لاإلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ہوگا، وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہوگا، اگرچہ اس شخص کو جنت میں داخل ہونے سے پہلے، اس کے کیے کی سزا ملے))
الفتاوی الھندیۃ میں ہے: ’’و من قتل نفسه عمدا یصلی علیه عند أبي حنیفة و محمد رحمھما اللہ و ھو الأصح، کذا في التبیین‘‘۔ (ج۱ص۱۶۳، الباب الحادی و العشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
خود کشی کرنے والا شخص شیطان نہیں بنتا ہے اور نہ ہی اس کی روح محلہ و شہر والوں کو ڈراتی و بہکاتی ہے؛ لہذا اس طرح کاعقیدہ رکھنا بہت قبیح اور شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے بلکہ اگر شیطان بننے سے یہ مراد ہو کہ اس کی روح شیطان میں منتقل ہوجاتی ہے؛ تو یہ کفر ہے۔
بہار شریعت میں ہے: ’’یہ خیال کہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے‘‘۔ (ج۱ح۱ص۱۰۳، عالم برزخ کا بیان، ط: قادری کتاب گھر، بریلی شریف)
الفتاوی الھندیۃ میں ہے: ’’وَيَجِبُ إكْفَارُ الرَّوَافِضِ فِي قَوْلِهِمْ بِرَجْعَةِ الْأَمْوَاتِ إلَى الدُّنْيَا، وَبِتَنَاسُخِ الْأَرْوَاحِ وَبِانْتِقَالِ رُوحِ الْإِلَهِ إلَى الْأَئِمَّةِ‘‘۔ (الباب التاسع فی أحکام المرتدین، مطلب فی موجبات الکفر أنواع منھا ما یتعلق بالایمان و الاسلام، ج۲ص۲۶۴، ط:دار الفکر، بیروت) و اللہ أعلمـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یوپی
۲۰؍جمادی الآخرۃ ۱۴۴۱ھ
Lorem Ipsum