حدیث ((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) کی کامل وضاحت کیا ہے
حدیث: ((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) کی کامل وضاحت کیا ہے؟
سوال السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حدیث: ابوبکر بن علی بغدادی حضرت ابودردا رءضی اللہ عنہ سے راوی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((شفاعتي لأھل الذنوب من أمتي)) میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لیے ہے، ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی: و إن زنی و إن سرق، اگرچہ زانی ہو، اگرچہ چور ہو ((و إن زنی و إن سرق علی رغم أنف أبي درداء)) اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہش ابودردا کے (ایمان کامل، ص۸۰)
عرض یہ ہے کہ حدیث شریف کی مفصل وضاحت فرمائیں اور اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو، برخلاف خواہش ابودرداء کے؟
المستفتی: محمد رضا، مصطفی آباد، دہلی ۹۴۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس حدیث پاک میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب یہ بتایا کہ میری شفاعت پوری امت مسلمہ کو شامل ہے؛ تو اس پر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا؛ کیوں کہ اس عام حکم میں گناہ کبیرہ مثلا زانی اور شراب پینے والے مسلمان بھی شامل ہورہے تھے، آپ نے اپنے اس تعجب کو دور کرنے کے لیے عرض کیا: آپ کی شفاعت، کیا اس شخص کو بھی شامل ہوگی جو زانی و شرابی ہے؛ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اس تعجب کو دور کرتے ہوئے فرمایا: اگرچہ یہ حکم ابودردا کے ارادہ کے خلاف ہے مگر سچ و حق یہی ہے کہ میری شفاعت زانی اور شراب پینے والے کو بھی شامل ہوگی۔
اس حدیث کی تخریج امام خطیب بغدادی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ’تاریخ بغداد‘ میں کی ہے، اس حدیث کا پورا متن یوں ہے:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ. قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((شَفَاعَتِي لأَهْلِ الذُّنُوبِ مِنْ أُمَّتِي)) قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: وإن زنى وَإِنْ سَرَقَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((نعم، وإن زنى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ)) (تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج۱ص۴۳۳، رقم: ۴۱۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ: حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
((میری شفاعت میری امت میں سے گناہ والوں کے لیے ہے)) حضرت ابودردا رضی اللہ نے عرض کیا: اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((ہاں، ابودردا کے ناپسند کرنے کے باوجود، اس کے لیے میری شفاعت ہے، اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے))
اس حدیث پاک سے بظاہر یہ پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، گناہ صغیرہ و کبیرہ کرنے والے، سب کی شفاعت فرمائیں گے، مگر بعض روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ شفاعت گناہ کبیرہ والوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیوں کہ گناہ صغیرہ میں شفاعت کی حاجت نہیں، نیز یہ حدیث شریف اور اس طرح کی دیگر احادیث مبارکہ اہل سنت و جماعت کے اس موقف پر دلیل بھی ہیں کہ گناہ کبیرہ والوں کو حضو صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت شامل ہوگی۔
حدیث پاک میں ہے:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي)) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: ’’يَا مُحَمَّدُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الكَبَائِرِ فَمَا لَهُ وَلِلشَّفَاعَةِ‘‘۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی الشفاعۃ، باب منہ، ج۴ص۶۲۵، رقم:۲۴۳۶، ط: مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی، مصر)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
((میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کے لیے ہے)) محمد بن علی کہتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’اے محمد جو شخص گناہ کبیرہ والوں میں سے نہ ہو، اس کا شفاعت سے کیا تعلق؟!
علامہ عبد الرءوف مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’(شَفَاعَتِي لأهل الذُّنُوب) الْكَبَائِر (من أمتِي) قَالَ أَبُو الدَّرْدَاء وَإِن زنى وَإِن سرق قَالَ (وَإِن زنى وَإِن سرق) الْوَاحِد مِنْهُم (على رغم أنف أبي الدَّرْدَاء) فِيهِ حجَّة لأهل السّنة على حُصُول الشَّفَاعَة لأهل الْكَبَائِر (خطّ عَن أبي الدَّرْدَاء) بِإِسْنَاد ضَعِيف‘‘۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، علامہ عبد الرؤوف مناوی، ج۲ص۷۸، ط: مکتبۃ الإمام الشافعی، الریاض)
آپ ہی اپنی دوسری کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’(شفاعتي لأهل الذنوب من أمتي) قال أبو الدرداء: وإن زنی وإن سرق قال: (وإن زنی وإن سرق) الواحد منهم (على رغم أنف أبي الدرداء) ظاهره أن شفاعته تكون في الصغائر أيضا وتخصيصها بالكبائر فيما قبله يؤذن باختصاصها بها وبه جاء التصريح في بعض الروايات ففي الترمذي عن جابر: من لم يكن من أهل الكبائر فما له وللشفاعة‘‘۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، عبد الرؤوف مناوی، ج۴ص۱۶۳، ط: المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر)
مگر حدیث شریف میں گناہ کبیرہ سے مراد وہ گناہ ہے جو شرک و کفر نہ ہو؛ کیوں کہ رب تعالی ہر گناہ تو بخش سکتا ہے مگر شرک و کفر کو کبھی معاف نہیں فرمائے گا، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
{إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا} (النساء:۴، آیت:۴۸)
ترجمہ: ((بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا)) (کنز الاِیمان)
اس جملہ ((وإن زنى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ)) کا مطلب یہ ہے کہ ابودردا کا ارادہ اگرچہ یہ ہے کہ شفاعت گناہ کبیرہ والوں کو شامل نہ ہویا وہ اس کو ناپسند کر رہے ہیں، پھر بھی شریعت اسلامیہ کا حکم یہی ہے کہ شفاعت گناہ کبیرہ والوں کو شامل رہے گی، البتہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کا اس طرح سے اظہار، آپ کے گناہوں سے زیادہ تنفر کی وجہ سے تھا۔
حاشیہ صحیح مسلم میں ہے:
((على رغم أنف أبي ذر وإن رغم أنف أبي ذر)) مأخوذ من الرغام وهو التراب فمعنى أرغم الله أنفه أي ألصقه بالرغام وأذله فمعنى قوله صلى الله عليه وسلم: ((على رغم أنف أبي ذر)) أي على ذل منه لوقوعه مخالفا لما يريد وقيل معناه على كراهة منه وإنما قال له صلى الله عليه وسلم ذلك لاستبعاده العفو عن الزاني السارق المنتهك للحرمة واستعظامه ذلك وتصور أبي ذر بصورة الكاره المانع وإن لم يكن ممانعا وكان ذلك من أبي ذر لشدة نفرته من معصية الله تعالى وأهلها‘‘۔ (حاشیہ صحیح مسلم، محمد فواد عبد الباقی، باب من مات لایشرک باللہ شیئا دخل الجنۃ، ج۱ص۹۵، رقم:۱۵۴)
لیکن شفاعت حاصل ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس پر تکیہ کرکے گناہ کیا جائے، یہ سوچ کر کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت سے جنت میں چلے جائیں گے؛ کیوں کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت سے پہلے ایمان پر خاتمہ ہونا ضروری ہے، پھر قبر کا ہولناک منظر ہے، اس کے بعد شفاعت کبری سے پہلے نفسی نفسی کا حشر بپا کرنے والا سخت ترین منظر ہے، پھر یقینی طور پر یہ معلوم نہیں کہ شفاعت کبری کے بعد، جنت میں داخل ہونے کے لیے، کس مسلمان کو شفاعت کب حاصل ہوگی، ہوسکتا ہے جہنم میں داخل ہونے کے بعد حاصل ہو اور ہوسکتا جہنم سے پہلے بھی حاصل ہوجائے، بہر حال جب مسلم کے لیے شفاعت کے حصول کا وقت یقینی طور پر معلوم نہیں؛ تو اس پر تکیہ کرکے گناہ کا ارتکاب کرنا سخت جہالت اور انتہائی درجہ کی بدقسمتی ہے۔
قبر کے عذاب سے متعلق حدیث پاک میں ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: ((إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ)) ثُمَّ قَالَ: ((بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ عُودًا رَطْبًا، فَكَسَرَهُ بِاثْنَتَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ، ثُمَّ قَالَ: ((لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا)) (صحیح البخاری،باب عذاب القبر فی الغیبۃ و البول، ج۲ص۹۹، رقم: ۱۳۷۸، ط: دار طوق النجاۃ)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے؛ تو آپ نے فرمایا: ((بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور ان دونوں کو ایسی چیز کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا ہے جس سے ان کا بچنا بہت بھاری تھا)) راوی کہتے ہیں: پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ((کیوں نہیں، ان دونوں میں سے ایک چغلی کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا)) راوی کہتے ہیں: پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کی بھیگی ٹہنی لی اور ان کے دوٹکڑے کئے، اس کے بعد ایک، ایک ٹہنی کو ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا، پھر فرمایا: ((امید ہے کہ ان دونوں سے عذاب کی تخفیف کردی جائے جب تک یہ ٹہنیاں نہ سوکھیں))
شفاعت کبری سے پہلے بندہ کی سخت پریشان کن حالت کے بارے میں حدیث شریف میں ہے:
عَنِ المِقْدَادُ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ العِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوْ اثْنَيْنِ)) – قَالَ سُلَيْمٌ: لَا أَدْرِي أَيَّ الْمِيلَيْنِ عَنَى؟ أَمَسَافَةُ الْأَرْضِ، أَمُ الْمِيلُ الَّذِي يُكْحَلُ بِهِ الْعَيْنُ؟ – قَالَ: ((فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ، فَيَكُونُونَ فِي العَرَقِ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حِقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا)) فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ: أَيْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی شأن الحساب و القصاص، ج۴ص۶۱۴، رقم:۲۴۲۱، ط: المصطفی البابی الحلبی، مصر)
ترجمہ: حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
((جب قیامت کا دن ہوگا؛ تو سورج کو بندوں سے ایک یا دو میل کے قریب کردیا جائے گا)) سلیم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کی دو میلوں میں سے کون سی میل مراد لی گئ ہے؟ زمین کی مسافت یا وہ میل جس سے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے؟ ((تو سورج انہیں اپنی تپش سے پگھلائے گا، جس کی وجہ سے لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینہ میں ہوں گے، پسینہ ان میں سے بعض کے ٹخنہ تک ہوگا، بعض کے گھٹنے تک ہوگا، بعض کی گردن تک ہوگا اور بعض کے منھ تک ہوگا)) راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے منھ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، یعنی پسینہ منھ میں لگام لگادے گا۔
مومن کو بھی اس کے گناہ کی وجہ سے جہنم کا عذاب دیا جائے گا، حدیث مبارکہ میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ))؟ قَالُوا: المُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((المُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ)) (سنن الترمذی، باب ماجاء فی شأن الحساب و القصاص، ج۴ص۶۱۴، رقم:۲۴۱۸، ط: المصطفی البابی الحلبی، مصر)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
((کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟)) صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہمارے درمیان وہ شخص مفلس ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ((میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز، روزہ اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے اِس کو گالی دی اور اُس پر الزام لگایا، اِس کا خون بہایا اور اُس کو مارا، اس وجہ سے بطور قصاص اِس مظلوم کو ظالم کی نیکیوں سے دیا جائے گا اور اُس مظلوم کو ظالم کی نیکیوں سے دیا جائے گا، پھر اگر ظالم کی غلطیوں کے قصاص سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں؛ تو ان مظلوموں کی غلطیوں کا بار اس ظالم پر ڈال دیا جائے گااور پھر اسے جہنم کے حوالے کردیا جائے گا))
اس لیے کسی بھی مسلم کو اس بات کی شرعا اجازت نہیں کہ وہ شفاعت یا مستحبات وغیرہ پر اعتماد کرکے بڑے بڑے گناہ، جیسے نماز وغیرہ ترک کرنے یا کسی کا حق مارنے کا جرم کرے، ورنہ دنیا میں اور دنیا میں نہیں تو آخرت میں ایسی سخت سزا ملے گی جو برداشت سے باہر ہوگی، و اللہ أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۶؍ربیع الآخر ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۰؍دسمبر ۲۰۱۹ء
Lorem Ipsum