حدیث تحفظوا الأرض فإنھا أمکم کی تحقیق
ماہر علم و فن، زینت تدریس و تحریر، مصلح قوم و ملت حضرت مولانا کمال احمد علیمی زید شرفہ، استاد دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی نے ، مہینوں پہلے، مجھ سے مندرجہ ذیل حدیث کی تحقیق کرنے کے لیے کہا تھا، مگر وقت نہ ملنے کی وجہ سے آپ کا مطالبہ پورا نہیں کرسکا تھا اور اب جب کہ وقت ملا؛ تو مختصرا حدیث کی تحقیق پیش خدمت ہے، حدیث یہ ہے:
((و تحفظوا من الأرض فانها أمكم و أنه ليس من أحد عامل عليها خيرا و شرا إلا و هي مخبرة))
((لا تسبوا الأرض فإنها أمكم و لا الجبال)) (الفردوس بمأثور الخطاب، رقم: ۷۲۸۹)
…………………………………………………………………………………………………………..
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب امام طبرانی نے پہلا متن، اپنی کتاب ’المعجم الکبیر‘ میں اپنی اس سند کے ساتھ تخریج کیا ہے:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنِ اسْتَقَمْتُمْ، وحَافِظُوا عَلَى الْوُضُوءِ، فَإِنَّ خَيْرَ عَمَلِكُمُ الصَّلَاةُ، وتَحَفَظُّوا مِنَ الْأَرْضِ فَإِنَّهَا أُمُّكُمْ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ عَامِلٍ عَلَيْهَا خَيْرًا أَوْ شَرًّا إِلَّا وَهِي مُخْبِرَةٌ)) (المعجم الکبیر، امام طبرانی، ج۵ص۶۵، ط: مکتبۃ ابن تیمیہ، قاہرہ)
اس حدیث کو بعض حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، مگر مجھے اس بات سے اتفاق نہیں؛ کیوں کہ بظاہر سند یا متن میں کوئی ایسی بات نہیں؛ جس کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا جائے، ان شاء اللہ اس حدیث کی سند پر کلام سے پوری بات واضح ہوجائےگی۔
اس سند کی متن میں کل پانچ راوی ہیں، جرح و تعدیل کے لحاظ سے ان سب کی حالت مندرجہ ذیل ہے:
(۱)یحیی بن ایوب علاف مصری۔ یہ یحیی بن ایوب بن بادی علاف خولانی ہیں، یہ صدوق ہیں۔ (تقریب التھذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم: ۷۶۰۹، ط: دار الرشد، سوریا)
(۲) سعید بن ابی مریم۔ ان کا نام سعید بن الحکم بن سالم ہے، یہ سعید بن مریم سے مشہور ہیں، آپ ثقہ ثبت ہیں۔ (تقریب التھذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم: ۲۲۸۶)
(۳) ابن لہیعہ۔ ان کا نام عبد اللہ بن لہیعہ بن عقبہ حضرمی ہے، آپ صدوق ہیں۔ (تقریب التھذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم:۳۵۶۳، ط: دار الرشد، سوریا) راوی ابن لہیعہ کی توثیق و تضعیف کے بارے میں ناقدین کی آرا مختلف ہیں، مگر آپ کے بارے میں درمیانی رائے یہی ہے کہ آپ صدوق ہے، جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ کے طرز سے واضح ہے۔
(۴) حارث بن یزید۔ یہ ابو عبد الکریم حارث بن یزید حضرمی مصری ہیں، آپ ثقہ ثبت ہیں۔ (تقریب التھذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم: ۱۰۵۷)
(۵)ربیعہ جرشی۔ آپ کا نام ربیعہ بن عمرو جرشی ہے۔ آپ کی صحبت میں اختلاف ہے، امام دار قطنی وغیرہ نے آپ کی توثیق کی ہے۔ (تقریب التھذیب، امام ابن حجر عسقلانی، رقم: ۱۹۱۵)
حضرت ربیعہ بن عمرو جرشی رضی اللہ عنہ کی صحبت کے بارے میں اختلاف ہونے کی وجہ سے اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آپ کی صحبت ثابت نہیں؛ تو بھی آپ کی حدیث زیادہ سے زیادہ مرسل ہوگی اور تابعی وہ بھی ثقہ، جب ارسال کرے؛ تو اس کی حدیث صحیح و قابل قبول ہوتی ہے۔
الفصول فی الأصول میں ہے: ’’قَالَ أَبُو بَكْرٍ – رَحِمَهُ اللَّهُ -: مَذْهَبُ أَصْحَابِنَا: أَنَّ مَرَاسِيلَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ مَقْبُولَةٌ. وَكَذَلِكَ عِنْدِي: قَبُولُهُ فِي أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ، بَعْدَ أَنْ يُعْرَفَ بِإِرْسَالِ الْحَدِيثِ عَنْ الْعُدُولِ الثِّقَاتِ‘‘۔ (الفصول فی الأصول، امام ابوبکر جصاص، باب القول فی الخبر المرسل، ج۳ص۱۵۰، ناشر: وزارۃ الأقاف الکویتیۃ)
اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ اس حدیث کی سند، حسن اور قابل قبول ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جو لوگ اس حدیث کو ضعیف کہ رہے ہیں، ان کا قول محل نظر ہے۔
اور دوسرا متن الفردوس بمأثور الخطاب کے علاوہ، مجھے بروقت کہیں نہیں مل سکا۔ و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۶؍ ذی الحجۃ ۱۴۴۵ھ
Lorem Ipsum