حدیث اگر چھک جانے سے تمھاری عزت گھٹ جاتی ہے الخ کا حکم

السلام علیکم۔

اس موضوع حدیث کے حوالے سے فرمائیں جو کہ مشہور ہے: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر جھک جایعنی (عاجزی اختیار کرنے سے) تمھاری عزت گھٹ جائے؛ تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔ (مسلم حدیث: ۷۸۶)

 

المستفتی: (مفتی) منظر ناز، مکرانہ۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی مجھے یہ حدیث یا اس مفہوم کی کوئی دوسری حدیث نہیں مل سکی، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث من گڑھت ہے۔ اس کی تائید سوال میں درج اس حوالے (مسلم حدیث: ۷۸۶) سے بھی ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس طرح کا حوالہ ’صحیح مسلم‘ کے لیے دیا جاتا ہے اور ’صحیح مسلم‘میں مندرجہ بالا حدیث نمبر کے تحت بلکہ پوی ’صحیح مسلم‘ میں اس حدیث یا اس مفہوم کی کسی دوسری حدیث کا وجود نہیں۔

کچھ لوگ اپنی من گڑھت باتوں کو رواج دینے کے لیے، اس طرح کی حرکت کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو اس حدیث پاک سے عبرت حاصل کرنا چاہیے: عَنِ المُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ)) (صحیح البخاری، باب ما یکرہ من النیاحۃ علی المیت، ج۲ص۸۰، رقم: ۱۲۹۱، ط: دار طوق النجاۃ)

ترجمہ: حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک مجھ پر جھوٹ باندھنا، کسی دوسرے پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں، جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری مصباحی غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعہ حدیث، ایم اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۲۰؍ ذی الحجۃ ۱۴۴۵ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.