تعزیت حضرت چشتی میاں کی کچھ یادیں اور سفر آخرت
حضرت چشتی میاں کی کچھ یادیں
اور سفر آخرت
صاحبزادہ و جانشین فقیہ ملت حافظ و قاری حضرت مولانا مفتی ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری صاحب قبلہ
صدر المدرسین مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی، یو پی۔
مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما
۱؍جمادی الآخرۃ ۴۴ھ کو عرس حضور حافظ ملت کے موقع پر دیار حضور حافظ میں حاضری کے لیے ہمارا سفر جاری و ساری تھا، اسی مبارک سفر کے درمیان کسی نے نبیرہ شعیب الأولیاء، شہزادہ مظہر شعیب الأولیاء حضرت مولانا غلام عبد القادر چشتی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ کیا اور یہ تکلیف دہ خبر سنائی کہ حضرت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، بچنے کی امید نہیں، اس بیماری کی خبر سن کر ایک مؤمن کا کم از کم یہ اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ وہ بیمار مؤمن بھائی کے لیے شفا یابی کی دعا کرے؛ لہذا اسی سفر کے دوران ہی اس اخلاقی فریضے کو بخوبی انجام دیا گیا۔
ایک جمادی الآخرۃ کے بعد دس دن کیسے گزر گئے کچھ پتہ ہی نہیں چلا، مگر جب ۱۰؍جمادی الآخرۃ ۴۴ھ مطابق ۳؍جنوری ۲۰۲۳ء بروز منگل کی صبح کو شوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر غم موصول ہوئی کہ حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کا وصال پرملال ہوگیا؛ تو فورا ذہن ماضی کے ایام میں چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے تذکرے اور ملاقات کو تلاش کرنے لگا۔ ذہن کی بات جیسے جیسے دل میں اترتی گئی، دل اداس سا ہوتا گیا اور یہ کہنے لگا،ابھی تو تقریبا دس دن پہلے ہی حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کا تذکرہ ہوا تھا، اگرچہ اس تذکرہ میں آپ کی حیات مستعار کے بارے میں نا امیدی کا اظہار کیا گیا تھا، مگر رب تعالی سے تو کوئی بعید نہیں کہ بظاہر ناامیدی کو ایک سکنڈ بلکہ اس سے کم سے کم تر وقت گزرنے سے پہلے، امید میں بدل دے، لیکن یقینا رب تعالی کو یہ منظور نہیں تھا؛ اس لیے ایسا نہیں ہوا اور آپ طویل علالت کے بعد اپنے اہل و عیال اور محبین و متوسلین کو روتا بلکتا، ۱۰؍ جمادی الآخرۃ کی رات کو دو بجے، اس دار فانی سے چھوڑکر چلے گئے۔
پھر تھوڑا ذہن پر زور ڈالا؛ تو یاد آیا کہ جامعہ ازہر سے آنے کے بعد ابھی دو چند سال پہلے آپ سے ایک بار کپتان گنج، بستی اور دوسری بار ۲۰۱۹ء میں دوبولیا بازار، بستی میں توشہ شریف کے فاتحہ کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ اگرچہ کپتان گنج میں حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ، مجھے پہچان نہ سکے تھے؛ کیوں کہ آپ نے دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف میں مجھے سات آٹھ سال کی عمر میں دیکھنے کے بعد، اب تقریبا چونتیس پینتیس سال کی عمر میں دیکھ رہے تھے، مگر میں فورا پہچان گیا، آگے بڑھ کر، سلام کیا، دست بوسی کی اور پھر میں نے نام بتاکر اپنا تعارف کرایا، حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ نے مسکراکر، اس تعارف کا استقبال کیا، پھر خیر و خیریت کے بعد آپ نے بتایا کہ دوبولیا بازار جانے کے لیے گاڑی کا انتظار کر رہا ہوں، پھر سلام و دعا کے بعد میں اپنے کام کے لیے نکل گیا۔
دوبولیا بازار میں توشہ شریف کے موقع پر آپ کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھنے کا موقع میسر آیا، اس کے بعد توشہ شریف کے ذکر میں آپ کے ساتھ شرکت رہی، ذکر آپ ہی فرما رہے تھے، ذکر کے اختتام پر آپ نے اپنا بڑکپن دکھاتے ہوئے مجھ سے دعا کرنے کے لیے کہا، مگر حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے ہوتے ہوئے، میں یہ جسارت کروں، یہ ممکن نہیں تھا، پھر آپ کی دعا پر توشہ شریف کی فاتحہ کا اختتام ہوا اور کھانے کے بعد میں دعا سلام کرکے دیار فقیہ ملت، اوجھاگنج واپس آگیا۔
ان مختصر سی دو ملاقات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ بڑے اخلاق مند تھے، چھوٹوں پر شفقت فرماتے تھے اور عاجزی و انکساری سے آپ نے بڑا حصہ پایا تھا، نیز عالم ہونے کے ساتھ، تقوی و پرہیز گاری، آپ کے اندر موجزن تھی اور نماز وغیرہ کے بڑے ہی پابند تھے۔
جب دل و دماغ ماضی کے ایام سے باہر آیا؛ تو خبر موصول ہوئی کہ حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کی نماز جنازہ ۱۱؍جمادی الآخرۃ بروز بدھ، بعد نماز ظہر ہوگی، میں نے فون پر برادر کبیر نائب فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی ابرار احمد امجدی برکاتی زید شرفہ، ناظم اعلی مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج سے نماز جنازہ میں شرکت کا اظہار کیا؛ تو آپ نے بھی اس اظہار سے موافقت کی اور پھر نائب فقیہ ملت زید شرفہ، مولانا حامد رضا مصباحی زید علمہ، کپتان گنج، ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ اور ڈرائیور صاحب پر مشتمل ہمارا چھوٹا سا قافلہ ۱۱؍جمادی الآخرۃ، بدھ کی صبح دس اور گیارہ بجے کے درمیان، دیار شعیب الأولیاء علیہ الرحمۃ و الرضوان میں حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے نکل پڑا۔
منگل کے روز ہمارا یہ چھوٹا سا قافلہ ایک بجے کے آس پاس دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف کے احاطہ میں پہنچ گیا، احاطہ میں نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے محبین کی کافی گاڑیاں کھڑی تھیں، وضو کرکے ہم لوگ مسجد پہنچے، نماز ظہر ادا کرنے کے بعد، حضور شعیب الأولیاء علیہ الرحمۃ و الرضوان اور دیگر بزرگان دین کی بارگاہ میں فاتحہ پڑھا، فاتحہ سے فارغ ہوئے؛ تو استاذ گرامی حضرت مولانا قاری رضی الدین فیضی زید شرفہ، سرسیا، بچپن کے صدیق محترم نبیرہ شعیب الأولیاء حضرت مولانا محمد آصف علوی ازہری زید علمہ اور دیگر علماے کرام و احباب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، پھر کچھ دیر بعد ہی پیر طریقت صاحبزادہ و جانشین حضور شعیب الأولیاء حضرت علامہ مولانا غلام عبد القادری علوی زید مجدہ، ناظم اعلی دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف سے ملاقات سے ہم سبھی لوگ سرفراز ہوئے۔ گفت و شنید کے درمیان ہی جب فیض الرسول کے احاطہ میں جمع ہونے والے علماے کرام اور دیگر محبین پر طائرانہ نظر ڈالی گئی؛ تو عبد ضعیف یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکا کہ سخت ٹھنڈک کے باوجود، حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ و الرضوان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آہستہ آہستہ محبین و متعلقین کی بھیڑ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ تقریبا تین بجے کے آس پاس صف بندی ہوئی ، جانشین حضور شعیب الأولیاء زید مجدہ کے چند کلمات خیر سے تمام لوگ محظوظ ہوئے، پھر حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے صاحبزادے نبیرہ مظہر شعیب الاولیاء حضرت مولانا افسر رضا علیمی زید علمہ، مدیر اعلی سہ ماہی پیام شعیب الأولیاء کی اقتدا کرتے ہوئے، کثیر تعداد میں لوگوں نے سینٹرل بلڈنگ کے سامنے پورب جانب،حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد جانشین حضور شعیب الأولیاء زید مجدہ نے مختصر دعا فرمائی۔
حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کی قبر مبارک ،حضور شعیب الأولیاء علیہ الرحمۃ و الرضوان کے مزار پاک اور حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے دولت خانہ کے درمیان جو خالی جگہ تھی، وہیں تیار کی گئی تھی؛ اس لیے محبین و متعلقین حضرت والا کا جنازہ اپنے کاندھے پر لیے دار العلوم فیض الرسول کے گیٹ سے ہوتے ہوئے نکلے اور تھوڑی ہی دیر میں قبر مبارک کے پاس پہنچ گئے، پھر کچھ وقت کے بعد، بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی پر نم آنکھوں سے حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے جنازہ مبارکہ کو سپرد خاک کیا، ہم لوگوں نے بھی قبر شریف پر مٹی ڈالی اور اس کے بعد حضرت مولانا افسر رضاعلیمی زید علمہ، بچپن کے ساتھی چشتی میاں کے بڑے صاحبزادے جناب محمد احمد چشتی اور صغیر احمد صاحبان وغیرہ سے ملنے کے بعد، دیار فقیہ ملت، اوجھاگنج کے لیے واپس روانہ ہوگئے۔
ہر جانے والاپوری دنیا کو ایک ہی پیغام دیتا ہے، بس قوم مسلم کو خلاف شریعت کام کرکے، دنیا سے جی لگانے کے بجائے، سمجھ داری دکھاتے ہوئے، عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے:
اطلس و کمخواب کی پوشاک پہ نازاں نہ ہو
اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائےگا
اللہ تعالی حضرت چشتی میاں علیہ الرحمۃ کے تسامحات کو در گزر فرمائے، حضرت والا کی قبر مبارک،تا حد نگاہ کشادہ فرماکر، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، اہل خانہ، تمام رشتہ دار، محبین و متعلقین اور صاحبزادان خاص کر عزیزم حضرت مولانا افسر رضا علیمی زید علمہ کو صبر جمیل عطا کرے، نیز حضور شعیب الأولیاء علیہ الرحمۃ کے مشن کو مد نظر رکھتے ہوئے، عملی اقدام کرنے کی توفیقات سے نوازے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
دعا جو و دعا گو:
ابو عاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی۔
۲۱؍جمادی الآخرۃ ۴۴ھ مطابق ۱۴؍جنوری ۲۰۲۳ء
Lorem Ipsum