تصادق مرد و زن سے نکاح کا ثبوت

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرح متین اس مسئلے میں کہ:

زید وہندہ کا نکاح دو گواہوں کی موجود گی میں تقریبا چھ مہینے پہلے ہوا ، اس وقت سے زید و ہندہ ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہتے ہیں اور زید، ہندہ کو اپنی بیوی اور ہندہ، زید کو اپنا شوہر بتاتی ہے مگر نکاح نامہ پر نکاح پڑھانے والے کا دستخط نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں والے اس نکاح کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں، تو اس صورت میں یہ دونوں میاں بیوی ہیں یا نہیں اور گاؤں والوں کا اعتراض صحیح ہے یا غلط، بینوا توجروا۔

المستفتی: سلیمان، اکبر پور، یوپی۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

         الجواب لوگوں کے درمیان نکاح کے ثبوت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ زید، ہندہ کو اپنی بیوی  اور ہندہ، زید کو اپنا شوہر بتائے؛ لہذا صورت مذکورہ میں گاؤں والوں کا اعتراض صحیح نہیں؛ کیوں کہ جب زید و ہندہ ایک دوسرے کے میاں بیوی ہونے کا اقرار کر رہے ہیں؛ تو زید و ہندہ، میاں بیوی ہی مانے جائیں گے اور ان کے نکاح کو بھی تسلیم کیا جائے گا البتہ اگر یہ دونوں اپنے اس اقرار میں جھوٹے ہیں؛ تو زنا کی وجہ سے سخت گنہ گار ہوں گے اور اولاد، ولد زنا قرار پائے گی۔

مجدد دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں: ’’تصادق مرد و زن کہ مرد کہے یہ میری منکوحہ ہے، عورت کہے یہ میرا شوہر ہے، عند الناس مثبت نکاح ہے، مگر اگر غلط اقرار کیا ہو؛ تو عند اللہ ہرگز نفع نہ دے گا، وہ زانی و زانیہ ہوں گے اور سخت عذاب جہنم کے مستحق اور اولاد ولد الزنا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، محدث بریلوی رحمہ اللہ، کتاب النکاح، ج۹ص۹۸، ط جدید: امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف) و اللہ تعالی أعلم۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۷؍ربیع الآخر ۱۴۴۲ھ

Lorem Ipsum

About Author:

Azhar@Falahemillattrust

STAY CONNECTED:

Leave Your Comments

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Copyright © Trust Falahe Millat 2025, All Rights Reserved.