بھاگ کر نکاح کرنے کا حکم
سوال حضور سیدی و سندی، آقائی و مولائی، شہزادہ حضور فقیہ ملت مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان اسلام مسئلہ ذیل میں کہ زید کی بیٹی جو غیر شادی شدہ تھی، اپنے ماں باپ کے اجازت کے بغیر اسی لڑکے کے ساتھ گھر سے نکل گئی جس سے شادی ہونے کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی، لیکن وقت سے پہلے گھر سے نکل گئی اور اس لڑکے کے ساتھ نکاح بھی ہوا اور اپنے سسرال میں رہ رہی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ زید کے اوپر شریعت کی طرف سے کوئی قانون نافذ ہے یا نہیں، جب کہ زید کی لڑکی واپس گھر بھی نہیں آئی ہے؛ لہذا شریعت کے طرف سے زید پر کیا حکم ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
لکھنے میں جو غلطی ہوئی ہوگی، حضور اسے معاف فرمائیں، فقط و السلام۔
المستفتی: واجد علی انصاری عرف لڈن
مقام رجوا پور، پرانی بازار، ضلع بستی، ۰۸؍۰۸؍۱۸ دن بدھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب زید نے اگر اپنی لرکی کی نگرانی میں کوئی کمی کی جس کی وجہ سے اس کی لڑکی موقع پاکر بھاگ گئی؛تو زید پر گاؤں والوں کے سامنے توبہ اور ندامت کا اظہار لازم ہے او راگر لاپرواہی نہیں کی تھی؛ توبہ کی حاجت نہیں۔
اور لڑکا و لڑکی کا نکاح تو ہوگیا مگر شادی سے پہلے گھر سے ایک دوسرے کے ساتھ فرار ہونے کی وجہ سے دونوں سخت گنہ گار ہوئے، ان پر بھی توبہ لاز ہے، اگر لڑکی عورتوں کے سامنے اور لڑکا مردوں کے سامنے توبہ و اظہار ندامت کریں؛ تو زید اپنی لڑکی کو گھر لاسکتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے: ((كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا—الحدیث)) (صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری و المدن، ج۱ص۳۳، ط:دار طوق النجاۃ)
اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾(الأحزاب: ۳۳، آیت:۳۳)
حدیث شریف میں ہے: ((لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ)) (سنن الترمذی، باب ماجاء فی کراہۃ الدخول علی المغیبات، ج۱ص۲۲۱)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے: ’’الخلوۃ بالأجنبیة حرام‘‘۔ (کتاب الحظر و الإباحۃ، فصل فی النظر و المس، ج۹ص۵۲۹، ط: دار الفکر، بیروت) و اللہ تعالی أعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۸؍ذو القعدۃ ۳۹ھ
Lorem Ipsum