اقامت سے پہلے نہ کھڑے ہونے وغیرہ کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسائل مندرجہ ذیل میں:
(۱)اقامت سے پہلے نہ کھڑے ہوکر اقامت شروع ہونے کے بعد حی علی الصلاۃپر کھڑا ہوجانا۔(۲)تکبیر تحریمہ میں انگوٹھے کو کانوں کے محاذات ہونا اور اس کا چھونا۔(۳)نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ۔(۴)پوری نماز میں تکبیر تحریمہ کےعلاوہ رفع یدین نہ کرنا۔ کیا احناف کے یہ مسائل کتب ستہ یا صحیح احادیث سے ثابت ہیں؟ بینوا وتوجروا۔
المستفتی: امتیاز احمد مصباحی پٹیل، زامبیا، افریقہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب مسائل احناف الحمد للہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں:
(۱)اقامت شروع ہونے کے بعد کھڑا ہونا حدیث صحیح سے ثابت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے پیش نظر ‘‘حی علی الصلاۃ’’ پر ہی کھڑا ہونا بہتر و اولی ہے، حدیث شریف میں ہے:
عن أبی قتادۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا أقيمت الصلاة، فلا تقوموا حتی تروني)) (صحیح البخاری، ج۱ص۱۲۹، کتاب الأذان،باب متی یقوم الناس،إذا رأوا الإمام عند الإقامۃ، رقم: ۷۳۶)
ترجمہ: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے ؛تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو))
بخاری شریف کی یہ حدیث اس بات پر واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتدیوں کو اقامت شروع ہونے کے بعد کھڑے ہونے کا حکم اس وقت دیا جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں، ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اقامت شروع ہونے پر حجرہ مقدسہ سے نکل کر مقتدیوں کے رو برو ہونگے تو کچھ وقت لگے گا، حدیث میں اس وقت کی تحدید مذکور نہیں، مگر امکان قوی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ مقدسہ سے نکل کر مقتدیوں کے روبرو ہوئے جو ان کے کھڑے ہونے کا وقت ہے وہ حی علی الصلاۃ کہنے کا وقت ہو؛ کیوں کہ حجرہ مقدسہ اور محل اقامت کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہیں؛ اسی لیے احناف نے حی علی الصلاۃ پر کھڑے ہونے کا حکم دیا، مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
‘‘(وَلَا تَقُومُوا) : أَيْ: لِلصَّلَاة إِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ (حَتّی تَرَوْنِي) : أَيْ: فِي الْمَسْجِدِ لِأَنَّ الْقِيَامَ قَبْلَ مَجِيءِ الْإِمَامِ تَعَبٌ بِلَا فَائِدَة، كَذَا قَالہ بَعْضہمْ، وَلَعَلّہ عَلَيہ السَّلَامُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْحُجْرَة بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ فِي الْإِقَامۃ، وَيَدْخُلُ فِي مِحْرَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ قَوْلہ، حَيَّ عَلی الصَّلَاۃ، وَلِذَا قَالَ أَئِمَّتُنَا: وَيَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عِنْدَ حَيَّ عَلی الصَّلَاة، وَيَشْرَعُ عِنْدَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاة’’. (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، ج۲ص۵۵۲، باب الأذان)
(۲)تکبیر تحریمہ میں انگوٹھے کا کان کے محاذات میں ہونا سنت نبوی ہے، حدیث شریف میں ہے:
عن وائل رضی اللہ عنہ: ((أنہ أبصر النبي صلی اللہ علیہ وسلم حين قام إلی الصلاة رفع يدیہ حتی كانتا بحيال منكبیہ وحاذى بإبہامیہ أذنیہ، ثم كبر)) (سنن أبی داؤد، ج۱ص۱۹۱، باب رفع الیدین فی الصلاۃ)
ترجمہ: حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی، آپ فرماتے ہیں:
((انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت دیکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اور دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوگئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی))
اور انگھوٹھے کا کان کے محاذات میں ہونا یقینی طور پر اسی وقت متحقق ہوگا جب انگوٹھا کا ن کو چھو جائے۔
الدر المختار مع شرح تنویر الأبصارمیں ہے:‘‘(و رفع یدیہ) قبل التکبیر، و قیل معہ (ماسا بإبہامیہ شحمتی أذنیہ) ہو المراد بالمحاذاۃ؛ لأنہا لاتتیقن إلا بذلک’’۔(ج۲ص۱۸۲، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ)
(۳)نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، حدیث شریف میں ہے:
عن علي رضي اللہ عنہ، قال:((من السنۃ وضع الكف علی الكف في الصلاة تحت السرة)) (سنن أبی داؤد، ج۱ص۲۰۱، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلاۃ، رقم: ۷۵۶)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی، آپ فرماتے ہیں:
((نماز میں ہاتھ کو ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا سنت سے ہے))
غیر مقلدین کے امام ابن قیم جوزیہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے (بدائع الفوائد:ابن قیم جوزیۃ)
(۴)نماز میں صرف ایک مرتبہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے، حدیث پاک میں ہے:
قال عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: ” ألا أصلي بكم صلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: فصلی فلم يرفع يدیہ إلا مرة’’۔ (سنن أبی داؤد، ج۱ص۱۹۹، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع، رقم: ۸۴۷)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
‘‘کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے نماز پڑھائی اور صرف ایک مرتبہ ہاتھ اٹھایا’’۔
غیر مقلدین کے امام شیخ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔(صحیح أبی داؤد)
تنبیہ:(۱)کتب ستہ کی تحدید کرکے حدیث کا مطالبہ کرنا غلط ہے، اور اس سے زیادہ غلط صرف صحیحین سے حدیث کا مطالبہ کرنا ہے، یہ صرف جہالت یا ہٹ دھر می ہے؛ کیوں کہ صحیح احادیث صرف صحیحین یا کتب ستہ میں منحصر نہیں!!
(۲)حدیث کی تصحیح و تضعیف کے اصول احناف اور عام محدثین کے نزدیک الگ الگ ہیں؛ لہذا صرف محدثین کے اصول کو معیار بناکر احناف کی دلائل کو ضعیف قرار دینا درست نہیں!! لہذا عوام و خواص اہل سنت و جماعت سب کو غیر مقلدین کی دسیسہ کاری سے متنبہ رہنے کی ضرورت ہے۔و اللہ أعلم۔
کتبہ
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر، مصر، شعبہ حدیث، ایم؍اے
و خادم الإفتا بمرکز تربیۃ الإفتا، أوجھاگنج، بستی، یو پی، انڈیا۔
Lorem Ipsum